سپریم کورٹ سی این جی پر اضافی ٹیکس ایف بی آر سے وضاحت طلب
پچھلی تاریخ سے ٹیکس کی شق عدالت نے کالعدم قراردیدی توکیسے لیاجارہاہے؟استحصال کی اجازت نہیںدی جائیگی،چیف جسٹس
بھارت نے یو ٹیوب سے معاہدہ کرکے اربوں کمائے،ہم مفت چلاتے رہے ہیں، ریمارکس،یوایس ایف کی رقم خزانے میں رکھنے پر جواب طلب فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے ڈیکلریشن کے ذریعے ٹیکس کے نفاذکے مقدمے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںکے کیس کے ساتھ یک جا کرکے سننے کا فیصلہ کیا ہے اور ایف بی آرسے وضاحت طلب کی ہے کہ کس ضابطے کے تحت سی این جی پر اضافی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اضافی ٹیکس کے معاملے کو آسانی سے ہضم کرنے والے نہیں، یہ بتانا پڑے گا کہ کس اصول کے تحت ویلیو ایڈڈ ٹیکس عائدکیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا یہ طے ہے کہ ملک کو اب آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے گا،استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے سی این جی پر نو فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا دفاع کرتے ہوئے بتایا گیس پر نارمل سیلز ٹیکس17 فیصدہے لیکن کمپریسڈکرنے کے بعد9 فیصدکے حساب سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس لاگوکیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ایک چیز پر دو مرتبہ ٹیکس عائد نہیںکیا جا سکتا، سی این جی پر دہرا ٹیکس عائد ہے، ٹیکس پر ٹیکس غیر قانونی ہے۔چیف جسٹس نے کہا اگر نو فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر سترہ فیصد جی ایس ٹی متنازعہ ہو جاتا ہے۔عدالت نے پچھلی تاریخ سے ٹیکس کے نفاذکا معاملہ پھر اٹھایا اورکہا1931کے قانون کی اس شق کو تو عدالت نے کالعدم کر دیا ہے پھر ماضی سے ٹیکس کیسے نافذکیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست دائرکی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا نظرثانی کی درخواست پر حکم امتناع تو جاری نہیں ہوا، ہم نے ملک کو آئین وقانون کے مطابق چلانا ہے۔فاضل بنچ نے تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کیلیے جلد از جلد پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے اور اس بارے میں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمے کی فائل طلب کرلی ہے ۔عدالت نے یونیورسل سروس فنڈکی رقم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کے بارے میں سیکریٹری خزانہ سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا نیلامی میں تاخیر سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکریٹری کوکہا متعلقہ اتھارٹیز سے پوچھ کر بتایا جائے کہ اس ضمن میںکیا کرنا ہے ،اگرکچھ نہیں ہو پارہا تو ہمیں بتادیا جائے ہم کمیشن بنا دیتے ہیں۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ یو ایس ایف کے پاس 62ارب روپے جمع تھے۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت چھ اگست تک ملتوی کر کے سیکریٹری خزانہ کو تحریری جواب جمع کرنے کا حکم دیا ۔این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا بھارت نے یوٹیوب سے معاہدہ کرکے اربوں روپے کمائے اور ہم مفت چلاتے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اضافی ٹیکس کے معاملے کو آسانی سے ہضم کرنے والے نہیں، یہ بتانا پڑے گا کہ کس اصول کے تحت ویلیو ایڈڈ ٹیکس عائدکیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا یہ طے ہے کہ ملک کو اب آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے گا،استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے سی این جی پر نو فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا دفاع کرتے ہوئے بتایا گیس پر نارمل سیلز ٹیکس17 فیصدہے لیکن کمپریسڈکرنے کے بعد9 فیصدکے حساب سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس لاگوکیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ایک چیز پر دو مرتبہ ٹیکس عائد نہیںکیا جا سکتا، سی این جی پر دہرا ٹیکس عائد ہے، ٹیکس پر ٹیکس غیر قانونی ہے۔چیف جسٹس نے کہا اگر نو فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر سترہ فیصد جی ایس ٹی متنازعہ ہو جاتا ہے۔عدالت نے پچھلی تاریخ سے ٹیکس کے نفاذکا معاملہ پھر اٹھایا اورکہا1931کے قانون کی اس شق کو تو عدالت نے کالعدم کر دیا ہے پھر ماضی سے ٹیکس کیسے نافذکیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا فیصلے پر نظرثانی کیلئے درخواست دائرکی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا نظرثانی کی درخواست پر حکم امتناع تو جاری نہیں ہوا، ہم نے ملک کو آئین وقانون کے مطابق چلانا ہے۔فاضل بنچ نے تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کیلیے جلد از جلد پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے اور اس بارے میں لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمے کی فائل طلب کرلی ہے ۔عدالت نے یونیورسل سروس فنڈکی رقم سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کے بارے میں سیکریٹری خزانہ سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا نیلامی میں تاخیر سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکریٹری کوکہا متعلقہ اتھارٹیز سے پوچھ کر بتایا جائے کہ اس ضمن میںکیا کرنا ہے ،اگرکچھ نہیں ہو پارہا تو ہمیں بتادیا جائے ہم کمیشن بنا دیتے ہیں۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ یو ایس ایف کے پاس 62ارب روپے جمع تھے۔عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت چھ اگست تک ملتوی کر کے سیکریٹری خزانہ کو تحریری جواب جمع کرنے کا حکم دیا ۔این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا بھارت نے یوٹیوب سے معاہدہ کرکے اربوں روپے کمائے اور ہم مفت چلاتے رہے ہیں۔