وزیراعظم اور منی پاکستان کی زمینی صورتحال

پی پی اور ایم کیو ایم سمیت سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، نواز شریف

پی پی اور ایم کیو ایم سمیت سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، نواز شریف۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پی پی اور ایم کیو ایم سمیت سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، سندھ میں گورنر راج کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، صدارتی الیکشن میں تعاون پر ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو لوگ اختلافی بیانات دے رہے ہیں وہ نامناسب ہیں، یہ وقت کیچڑ اچھالنے کا نہیں، ملک کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا تب جمہوریت مستحکم ہوگی، وزیراعظم نے کراچی آمد کے موقع پر خیرسگالی ، دوستی اور دو طرفہ جمہوری تعاون و اشتراک پر مبنی خیالات کا اظہار مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا اور گڈانی میں پاور پارک منصوبے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

سعودی عرب روانگی سے قبل وزیراعظم کا شہر قائد میں قیام اور ان کے تاثرات سے ایک طرف سیاسی تنائو کو یقیناً کم کرنے میں مدد ملے گی اور دوسری طرف انھوں نے پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کے احترام کا یقین دلاتے ہوئے سیاسی محاذ آرائی ،الزام تراشی اور اختلافی امور کی بلاجواز تشہیر سے گریز کا اچھا مشورہ دیا کہ یہ وقت کیچڑ اچھالنے کا نہیں ہے ۔ حقیقت میں کراچی کو امن درکار ہے۔ شہر قائد پاکستان کا دھڑکتا دل ہے جس پر دشمن چاروں طرف سے وار کررہے ہیں تاکہ دل کمزور ہو ۔ ظاہر ہے پھر حکومت و ریاست کے جسد میں طاقت پرواز کہاں رہے گی اور یوں ترقی و خوشحالی کے سارے قومی خواب ان بد خواہوں کے بقول ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔تاہم وزیراعظم کی بروقت کال اس ضمن میں ڈھارس بندھاتی ہے۔منی پاکستان میں پولیس اور رینجرز کی کارکردگی سے متعلق عوامی حلقوں میں ایک طرح کی مایوسی پائی جاتی ہے جو اس اعتبار سے ہولناک ہے کہ مسلسل قانون شکنی کراچی کا شیرازہ بکھیرنے کے مترادف ہے۔

اس حوالے سے بھی وزیراعظم نے ہلکا سا انتباہی اشارہ کیا کہ حکومت منی پاکستان کی اندوہ ناک اور درد انگیز صورتحال سے غافل نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے انتظامی سطح پر حکام کودہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کے خاتمے کے اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی اور اب جب کہ وزیراعظم نے انھیں تعاون کا مزید یقین دلایا ہے تو اس امر کی امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اور سندھ کے مابین مفاہمانہ،مصالحانہ اور روادارانہ اشتراک عمل امن کے حوالے سے نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور اس سے ترقی اور روزگار کے نئے وسائل تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی استحکام کی کوششیں بھی بار آور ثابت ہوسکیں گی ۔


چنانچہ یہ حقیقت اب تمام سیاسی جماعتوںکو تسلیم کرلینی چاہیے کہ منی پاکستان کو بدامنی سے نجات اسی صورت میں مل سکتی ہے جب تمام جمہوری قوتیں کشیدگی،بدگمانی اور الزام تراشی کے دلدل سے باہر نکلیںاور امن ،ترقی اور خوشحالی کی جدوجہد میں شریک ہوں ۔وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ملک مسائل کا گڑھ بن چکا ہے اس حقیت کی طرف قوم کو توجہ دلانے کی ایک دردمندانہ اپیل ہی ہے کہ مسائل و مصائب کے گرداب سے نکلنے کے لیے وفاق اور صوبوں کو باہم اتفاق اور اتحاد سے قومی تعمیرنو کا ٹاسک پورا کرنا ہوگا۔منی پاکستان ملکی معیشت کی شہ رگ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پاور پارک کے منصوبوں کی تکمیل سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی، تھرمیں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ پاکستان پاور پارک کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ گڈانی میں درآمدی ایل این جی کا ٹرمینل قائم کیا جائے گا، ملک میں امن وامان کی پالیسی صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے تشکیل دی جائے گی۔

کراچی کے حالات بہتر کرنے کی مربوط پالیسی بننے میں کچھ وقت لگے گا، کراچی سے لاہور تک6 رویہ موٹروے تعمیر کی جائے گی ۔اس منصوبہ کی تکمیل سے مواصلاتی سہولت اور وقت کی جتنی بچت ہوگی وہ قومی اقتصادی اور سماجی حالات کی تبدیلی میں ممد ومعاون ثابت ہوگی۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب کراچی کی سڑکوں پر مجھے بکتربند گاڑیوں میں لایا اور لے جایا جاتا تھا اور آج میں وزیراعظم کی حیثیت سے آپ کے سامنے حاضر ہوں۔ بلاشبہ یہ بھی جمہوریت کا عطیہ ہے، جس کے تحت تبدیلی ماردھاڑ یا احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ الیکشن اور بیلٹ کے ذریعے آئی ہے ۔

دہشت گرد اس عمل کو غارت کرنے کے در پے ہیں اس لیے سیاسی اشتراک عمل وقت کا تقاضا ہے ۔صدر ممنون حسین کو صدر بنانے پر کوئی ناراض نہیں ۔وزیراعظم کے اس تاثر سے بھی سیاسی سفر میں قوم کی بلوغت کا عنصر نمایاں ہے ۔بلاشبہ پاور پارک میں 8 کے بجائے10 منصوبے لگانے سے جن سے6600 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور تھر میں بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور یہاں بھی پاور پارک قائم کرنے سے بجلی بحران کم ہوگا۔لوڈ شیڈنگ اور کرپشن کے بارے میں وزیراعظم کے بیان کا مطلب یہی لینا چاہیے کہ اس ساری بساط کو الٹ کر نیا پاکستان تعمیر کرنا ہوگا جس میں کرپشن نام کو نہ ہو۔اور یہ کام سیاسی قوتوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔

وزیراعظم نواز شریف کے دورے میں جو اہم بات نظر آئی وہ خیر سگالی کا ایک خوش آیند اور دلنواز منظر ہے، کراچی پہنچنے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ہوائی اڈے پر ان کا پر جوش استقبال کیا۔اگرچہ سندھ حکومت کو وفاق سے کافی شکایات ہیں تاہم جس طرح مشترکہ مفادات کونسل کے آخری اجلاس میںتوانائی پالیسی کی منظوری دینے میں دیگر صوبوں کے ساتھ سندھ نے بھی کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا اسی طرح وزیراعظم کو خوش آمدید کہنے کے لیے شاہ صاحب اور گورنر سندھ کی ان کے ساتھ ملاقات اور تقاریب میں شرکت سے جمہوری عمل اور رواداری دونوں کو تقویت ملی ہے۔منی پاکستان کو اسی تعاون ،امن ، ترقی اوراستحکام کی ضرورت ہے۔
Load Next Story