جان کیری کی دو ٹوک باتیں
امریکا نے پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک مذاکرات بحال کرنے اور ڈرون حملوں پر پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری...
امریکا نے پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک مذاکرات بحال کرنے اور ڈرون حملوں پر پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
امریکا نے پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک مذاکرات بحال کرنے اور ڈرون حملوں پر پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی ٹیم سے مذکرات کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ سے دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ امریکا پاکستان اور افغانستان کے درمیان چار اہم تجارتی راستے دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ڈرون حملوں کی بندش کا معاملہ صرف وزیر اعظم اور ان کے خصوصی مشیر کی طرف سے ہی نہیں اٹھایا گیا بلکہ صدر آصف زرداری نے ڈرون حملے کی بات کی ہے۔ پاکستان کے رہنماؤں کا مؤقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے، ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں اور اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے لہٰذا اب امریکا کو ڈرون حملوں سے متعلق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے کیونکہ اس سے پاکستانی عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور پاکستان عدم تحفظ کا شکار ہے۔
پاکستان کی طرف سے ڈرون حملوں کی بندش کے اس قدر شدت سے مطالبے کے باوجود امریکی وزیر خارجہ نے روایتی مؤقف کا اظہار کیا۔جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکا کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ صدر اوباما دہشت گردوں کے خلاف براہ راست امریکی کارروائیوں کے بارے میں ایک واضح پالیسی پیش کر چکے ہیں۔ جان کیری نے وضاحت کی کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستانیوں کو نشانہ بنانے والے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جان کیری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ القاعدہ کا رہنما ایمن الظواہری پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس امید کا اظہار ضرور کیا کہ پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے بہت جلد ختم ہو جائیں گے کیونکہ عسکریت پسندی کا خطرہ کافی کم ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ڈرون کارروائیاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ ہم نے زیادہ تر خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے اور اس کو مزید ختم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ ڈرون حملے ختم کرنے کا کوئی نظام الاوقات سوچ رہے ہیں تو جان کیری نے کہا کہ ''ہاں، میں ایسا کر رہا ہوں''۔ امریکی وزیرخارجہ کی باتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا کی پالیسی میں جلد کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ امریکی انتظامیہ شاید پاکستان کے مؤقف کی پوری طرح قائل نہیں ہو سکی۔ ڈرون حملوں کو بند کرانے کے لیے محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ امریکا انھیں بند کر دے کیونکہ اس سے ہماری خودمختاری متاثر ہو گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی انتظامیہ ہر صورت میں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ ڈرون حملے بند کرنے پر اسی صورت تیار ہو سکتی ہے جب اوباما انتظامیہ کو یہ یقین ہو کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کا نیٹ ورک ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔
پاکستان میں حساس مقامات پر بھی دہشت گردوں کے حملے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کی حکومت امریکی انتظامیہ کو قائل نہیں کر سکتی کہ وہ خود قبائلی علاقوں سے القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ امریکیوں نے اگلے برس سے افغانستان سے اپنی فوجوں کو بھی واپس بلانا ہے۔ اس حوالے سے جان کیری نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا مکمل انخلاء نہیں ہو گا بلکہ ان کی تعداد میں صرف حسب ضرورت تخفیف ہو گی۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کو دہشت گردوں سے مل کر نمٹنا ہو گا جو کہ بقول ان کے دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ جان کیری نے بغیر کسی لگی لپٹی کے امریکا کی پالیسی واضح کر دی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے۔ پاکستان کو اب اپنی دوٹوک پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے۔ جان کیری نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی مکمل امداد کی یقین دہانی کرائی۔ پاکستان تجارتی حجم11 ارب ڈالر تک بڑھانا اور امریکا کی منڈی تک زیادہ سے زیادہ رسائی چاہتا ہے۔ یہ سب اہداف اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تمام ایشوز پر ہم آہنگی ہوگی۔
ڈرون حملوں کی بندش کا معاملہ صرف وزیر اعظم اور ان کے خصوصی مشیر کی طرف سے ہی نہیں اٹھایا گیا بلکہ صدر آصف زرداری نے ڈرون حملے کی بات کی ہے۔ پاکستان کے رہنماؤں کا مؤقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے، ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں اور اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے لہٰذا اب امریکا کو ڈرون حملوں سے متعلق اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے کیونکہ اس سے پاکستانی عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور پاکستان عدم تحفظ کا شکار ہے۔
پاکستان کی طرف سے ڈرون حملوں کی بندش کے اس قدر شدت سے مطالبے کے باوجود امریکی وزیر خارجہ نے روایتی مؤقف کا اظہار کیا۔جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکا کے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ صدر اوباما دہشت گردوں کے خلاف براہ راست امریکی کارروائیوں کے بارے میں ایک واضح پالیسی پیش کر چکے ہیں۔ جان کیری نے وضاحت کی کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی نہیں بلکہ پاکستانیوں کو نشانہ بنانے والے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جان کیری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ القاعدہ کا رہنما ایمن الظواہری پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس امید کا اظہار ضرور کیا کہ پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے بہت جلد ختم ہو جائیں گے کیونکہ عسکریت پسندی کا خطرہ کافی کم ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں ڈرون کارروائیاں ختم ہو جائیں گی کیونکہ ہم نے زیادہ تر خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے اور اس کو مزید ختم کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ ڈرون حملے ختم کرنے کا کوئی نظام الاوقات سوچ رہے ہیں تو جان کیری نے کہا کہ ''ہاں، میں ایسا کر رہا ہوں''۔ امریکی وزیرخارجہ کی باتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا کی پالیسی میں جلد کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ امریکی انتظامیہ شاید پاکستان کے مؤقف کی پوری طرح قائل نہیں ہو سکی۔ ڈرون حملوں کو بند کرانے کے لیے محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ امریکا انھیں بند کر دے کیونکہ اس سے ہماری خودمختاری متاثر ہو گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی انتظامیہ ہر صورت میں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ ڈرون حملے بند کرنے پر اسی صورت تیار ہو سکتی ہے جب اوباما انتظامیہ کو یہ یقین ہو کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کا نیٹ ورک ختم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب صورت حال یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔
پاکستان میں حساس مقامات پر بھی دہشت گردوں کے حملے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کی حکومت امریکی انتظامیہ کو قائل نہیں کر سکتی کہ وہ خود قبائلی علاقوں سے القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ امریکیوں نے اگلے برس سے افغانستان سے اپنی فوجوں کو بھی واپس بلانا ہے۔ اس حوالے سے جان کیری نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا مکمل انخلاء نہیں ہو گا بلکہ ان کی تعداد میں صرف حسب ضرورت تخفیف ہو گی۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کو دہشت گردوں سے مل کر نمٹنا ہو گا جو کہ بقول ان کے دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ جان کیری نے بغیر کسی لگی لپٹی کے امریکا کی پالیسی واضح کر دی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے۔ پاکستان کو اب اپنی دوٹوک پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے۔ جان کیری نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی مکمل امداد کی یقین دہانی کرائی۔ پاکستان تجارتی حجم11 ارب ڈالر تک بڑھانا اور امریکا کی منڈی تک زیادہ سے زیادہ رسائی چاہتا ہے۔ یہ سب اہداف اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تمام ایشوز پر ہم آہنگی ہوگی۔