کے ڈی اے پائپ فیکٹری کی اراضی ہماری ملکیت ہے ایم ڈی واٹر بورڈ

7 ایکڑ اراضی کوآپریٹیو سوسائٹی کے نام اور یہاں پلاٹنگ کرنے کا عمل شروع کرکے اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے

فراہمی و نکاسی آب کی اسکیمیں شروع کررہے ہیں،بڑی مقدار میں پائپ درکار ہونگے۔ فوٹو: فئال

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید نے 32 ایکڑ قطعہ اراضی پر محیط کے ڈی اے پائپ فیکٹری کی 7 ایکڑ اراضی کے ڈی اے آفیسر کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے لیے مختص کرنے کے اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کے ڈی اے پائپ فیکٹری کی اراضی واٹر بورڈ کی ملکیت ہے جو کسی کے نام ٹرانسفر نہیں ہوسکتی۔


ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے نام ایک مراسلہ میں ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا ہے کہ پائپ فیکٹری ماضی میںکے ڈی اے واٹر ونگ کے پاس تھی جو بعد ازاں واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے نام ٹرانسفر نہیں کی گئی اب جبکہ واٹر بورڈ شہر میں بڑے پیمانے پر فراہمی و نکاسی آب کی اسکیمیں شروع کررہا ہے اور اس کیلیے بڑی مقدار میں پائپ درکار ہوں گے، پائپ فیکٹری بلدیہ عظمیٰ کراچی یا کے ڈی اے کے پاس رہنے کا کوئی جواز نہیں لہٰذا فوری طور پر کے ڈی اے پائپ فیکٹری کو واٹر بورڈ کے سپردکیا جائے تاکہ پائپ اور گٹروں کے ڈھکن وہاں تیار کرکے شہریوں کو سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔

انھوں نے کہا کہ 7 ایکڑ اراضی کوآپریٹیو سوسائٹی کے نام اور یہاں پلاٹنگ کرنے کا عمل شروع کرکے اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے، واٹر بورڈ نے ماضی میں اس سلسلے میں اعلیٰ حکومتی حکام اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کو متعدد خطوط ارسال کیے ہیں کہ پائپ فیکٹری واٹر بورڈ کو منتقل کی جائے مگر ایسا کرنے کے بجائے اس زمین کو کسی اور مقصد کے تحت استعمال میں لانے کا عمل ایک قومی ورثے (پائپ فیکٹری) کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
Load Next Story