امریکا اور شمالی کوریا کے مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم

امریکا کی کوشش تھی کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر بند کر نے کا اعلان کر دے۔

امریکا کی کوشش تھی کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر بند کر نے کا اعلان کر دے۔ فوٹو : ٹویٹر

ملکوں کی خارجہ پالیسی پر نگاہ رکھنے والے بعض مبصرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اِل کے مابین ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہونے والی حالیہ سربراہ کانفرنس کو ناکام قرار دے دیا ہے کیونکہ اس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا لیکن شاید دو عالمی سربراہوں کی اس اہم ملاقات کے بارے میں کوئی فیصلہ صادر کرنا قدرے قبل از وقت ہے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات گزشتہ برس سنگاپور میں ہوئی تھی۔

ہنوئی سے آنیوالی رپورٹ کے مطابق امریکا کی کوشش تھی کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر بند کر نے کا اعلان کر دے لیکن شمالی کوریا کے سربراہ اس پر تیار نہیں تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ سربراہ ملاقات کسی نتیجے کا اعلان کیے بغیر ہی ختم ہو گئی اور دونوں ملکوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ یا معاہدہ عمل میں نہ آ سکا۔

یہ الگ بات ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھیں کوریا کا مرد آہن پسند آیا ہے اور اس کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ آیندہ ملاقاتوں میں ہم دونوں کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے چنانچہ سفارتکاری جاری رکھی جائے گی اور امید کو بھی قائم رکھا جائے گا۔ ماضی قریب میں دونوں لیڈر جو ایک دوسرے پر پھبتیاں کستے رہے ہیں اب آیندہ کے تعلقات کو منفی ریمارکس سے گریزاں رکھیں گے۔


یاد رہے کوریا کا جزیرہ نما امریکا اور روس کے درمیان سردجنگ کا میدان جنگ رہا ہے۔ اس صورتحال کا مداوا کرنے کے لیے لازم ہے کہ شمالی کوریا کو تنہائی سے باہر نکال کر اسے ''مین اسٹریم'' میں لایا جائے جس کے بعد لامحالہ صورتحال کو معمول پر لانے میں زیادہ بہتر مدد ملے گی لیکن اس میں امریکا پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شمالی کوریا پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے جس کے جواب میں شمالی کوریا اپنے جوہری اسلحہ میں جس حد تک ممکن ہو سکے کمی کر لے اور یقین دہانی کرائے کہ وہ اپنے مہلک ہتھیاروں کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی نہیں دیگا لیکن ایسی باتیں کرنا آسان ہے مگر ان پر عملدرآمد کرنا آسان نہیں ہو گا لیکن چین جس کو شمالی کوریا پر سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے وہ پیانگ یانگ کو رضامند کرنے کے لیے اپنا دباؤ ضرور استعمال کر سکتا ہے لیکن حالات کو معمول پر لانے کے لیے ضروری ہو گا کہ اس مقصد کے لیے وسیع تر عالمی سفارتکاری سے مدد لینے کی کوشش کی جائے۔

نیز جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر بھی آمادہ کیا جانا چاہیے جو فی الوقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے جب کہ شمالی کوریا کے بارے میں مغربی سامراج کا پروپیگنڈا یہ ہے کہ اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے وہ غربت و ناداری کا شکار ہے چنانچہ اگر وہ جوہری پروگرام پر مناسب قدغن عائد کرے تو اس کے غربت کا شکار عوام کے لیے غربت کی گہری کھائی سے نکلنے کا آغاز ہو سکتا ہے۔

 
Load Next Story