روئی کی عالمی پیداوارمیں اضافے اورقیمتیں کم رہنے کاامکان
سال2013-14 میں روئی کی پیداوار6 لاکھ ٹن زیادہ،کھپت3لاکھ ٹن کم رہے گی
چین ریزروز15ملین ٹن تک پہنچانے کیلیے روئی خریدے گا،انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی فوٹو: فائل
لاہور:
چین کی جانب سے سال 2013-14کے دوران نیشنل ریزروز کے لیے غیر متوقع طور پر روئی کی خریداری جاری رکھنے اور روئی کے نیشنل ریزروز ریکارڈ 15ملین میٹرک ٹن تک بڑھانے کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
تاہم دنیا بھر میں روئی کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ اور کھپت کم ہونے کی توقعات کے باعث روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی نہ آنے کے خدشات ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ انٹرنیشل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین سال 2013-14کے دوران اپنے کاشت کاروں سے 20ہزار 400یوآن فی ٹن کے حساب سے روئی کی خریداری جاری رکھے گا اور روئی کے نیشنل ریزروز میں 2012-13 کے مقابلے میں 50فیصد اضافہ کرتے ہوئے یہ ریزروز 15ملین میٹرک ٹن تک بڑھائے گاجو 2013-14کے دنیا بھر کے روئی کے اینڈنگ اسٹاکس کا تقریباً 76فیصد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال 2013-14کے دوران دنیا بھر میں روئی کی پیداوار 25.6ملین ٹن متوقع ہے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 6 لاکھ 30ہزار میٹرک ٹن زیادہ ہے جبکہ کھپت کا اندازہ 24ملین میٹرک ٹن ہے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 3لاکھ 30ہزار ٹن کم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس تاریخ کی بلند ترین سطح 19.8ملین میٹرک ٹن ہونگے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 1.31 ملین ٹن زائد ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روئی کی کھپت میں کمی کی دیگر وجوہ کے ساتھ ساتھ پولیسٹر کے استعمال کے رجحان میں اضافہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2013-14کے دوران چین اور بھارت میں روئی کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ، امریکا میں کم جبکہ پاکستان، برازیل، ازبکستان وغیرہ میں پہلے تخمینوں کے برابر ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ قبل ازیں اطلاعات آ رہی تھیں کہ چین اپنے روئی کے نیشنل ریزروز کے بارے میں پالیسی تبدیل کرتے ہوئے سال 2013-14کے دوران نیشنل ریزروزکے لیے روئی کی خریداری میںکمی کا کرے گا۔ آئی سی اے سی کی رپورٹ کے مطابق سال 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا رجحان صرف چین کی پالیسیوں پر منحصر ہو گا۔
چین کی جانب سے سال 2013-14کے دوران نیشنل ریزروز کے لیے غیر متوقع طور پر روئی کی خریداری جاری رکھنے اور روئی کے نیشنل ریزروز ریکارڈ 15ملین میٹرک ٹن تک بڑھانے کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان ہے۔
تاہم دنیا بھر میں روئی کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ اور کھپت کم ہونے کی توقعات کے باعث روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی نہ آنے کے خدشات ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ انٹرنیشل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین سال 2013-14کے دوران اپنے کاشت کاروں سے 20ہزار 400یوآن فی ٹن کے حساب سے روئی کی خریداری جاری رکھے گا اور روئی کے نیشنل ریزروز میں 2012-13 کے مقابلے میں 50فیصد اضافہ کرتے ہوئے یہ ریزروز 15ملین میٹرک ٹن تک بڑھائے گاجو 2013-14کے دنیا بھر کے روئی کے اینڈنگ اسٹاکس کا تقریباً 76فیصد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاکہ سال 2013-14کے دوران دنیا بھر میں روئی کی پیداوار 25.6ملین ٹن متوقع ہے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 6 لاکھ 30ہزار میٹرک ٹن زیادہ ہے جبکہ کھپت کا اندازہ 24ملین میٹرک ٹن ہے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 3لاکھ 30ہزار ٹن کم ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس تاریخ کی بلند ترین سطح 19.8ملین میٹرک ٹن ہونگے جو پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 1.31 ملین ٹن زائد ہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں روئی کی کھپت میں کمی کی دیگر وجوہ کے ساتھ ساتھ پولیسٹر کے استعمال کے رجحان میں اضافہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2013-14کے دوران چین اور بھارت میں روئی کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں زیادہ، امریکا میں کم جبکہ پاکستان، برازیل، ازبکستان وغیرہ میں پہلے تخمینوں کے برابر ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ احسان الحق نے بتایا کہ قبل ازیں اطلاعات آ رہی تھیں کہ چین اپنے روئی کے نیشنل ریزروز کے بارے میں پالیسی تبدیل کرتے ہوئے سال 2013-14کے دوران نیشنل ریزروزکے لیے روئی کی خریداری میںکمی کا کرے گا۔ آئی سی اے سی کی رپورٹ کے مطابق سال 2013-14 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا رجحان صرف چین کی پالیسیوں پر منحصر ہو گا۔