ملک میں بچوں کی بڑی تعداد ہیپاٹائٹس اے میں مبتلا ہو رہی ہے ماہر صحت
ملک میں ہیپاٹائٹس اے عام ہے جبکہ ہیپاٹائٹس انفیکشن ثانوی درجے 2 سے 8فی صد ہے۔
ماہرین نے کہا کہ دنیا میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ افرادہیپاٹائٹس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
ملک بھر میں بچوںکی بڑی تعداد ہیپاٹائٹس اے میں مبتلا ہے جبکہ 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی وائرس میں مبتلا ہیں یہ بات پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن نے عالمی ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر بریفنگ سے خطاب میں کہی۔
انھوں نے کہا کہ دنیا میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ افرادہیپاٹائٹس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،ان میں زیادہ ترجگرکا فیل ہونا، لیور سیروسسز جگرکا کینسر شامل ہیں لاکھوں افراد وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور لاکھوں دیگر افراد کو انفیکشن کے خطرات کا خدشہ ہے، ملک میں ہیپاٹائٹس اے عام ہے جبکہ ہیپاٹائٹس انفیکشن ثانوی درجے 2 سے 8فی صد ہے، ہیپاٹائٹس بی کے شکار شیرخوار بچوں میں سنگین انفیکشنز پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں،بچپن میں سنگین انفیکشن کا شکار ہونے والے 25 فی صد بڑے افراد ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے جگر کے سرطان کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہیپاٹائٹس اے آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثرہ کسی فردکے خون یا جسمانی رطوبت کے کسی دوسرے فردکے جسم میں داخل ہونے سے پھیلتا ہے ، جن بچوں کوحفاظتی ٹیکے نہیں لگتے وہ بچے ہیپاٹائٹس بی یا ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوجاتے ہیں ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس اے اور ہیپاٹائٹس بی کے تمام مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، ہیپاٹائٹس اے اور بی سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ حفاظتی ٹیکے ہیں ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین دو ٹیکوں اور ہیپاٹائٹس بی کے لیے تین ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔
ملک بھر میں بچوںکی بڑی تعداد ہیپاٹائٹس اے میں مبتلا ہے جبکہ 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی وائرس میں مبتلا ہیں یہ بات پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن نے عالمی ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر بریفنگ سے خطاب میں کہی۔
انھوں نے کہا کہ دنیا میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ افرادہیپاٹائٹس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،ان میں زیادہ ترجگرکا فیل ہونا، لیور سیروسسز جگرکا کینسر شامل ہیں لاکھوں افراد وائرس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور لاکھوں دیگر افراد کو انفیکشن کے خطرات کا خدشہ ہے، ملک میں ہیپاٹائٹس اے عام ہے جبکہ ہیپاٹائٹس انفیکشن ثانوی درجے 2 سے 8فی صد ہے، ہیپاٹائٹس بی کے شکار شیرخوار بچوں میں سنگین انفیکشنز پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں،بچپن میں سنگین انفیکشن کا شکار ہونے والے 25 فی صد بڑے افراد ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے جگر کے سرطان کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہیپاٹائٹس اے آلودہ خوراک اور پانی سے پھیلتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثرہ کسی فردکے خون یا جسمانی رطوبت کے کسی دوسرے فردکے جسم میں داخل ہونے سے پھیلتا ہے ، جن بچوں کوحفاظتی ٹیکے نہیں لگتے وہ بچے ہیپاٹائٹس بی یا ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوجاتے ہیں ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس اے اور ہیپاٹائٹس بی کے تمام مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، ہیپاٹائٹس اے اور بی سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ حفاظتی ٹیکے ہیں ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین دو ٹیکوں اور ہیپاٹائٹس بی کے لیے تین ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔