سیل ہائیڈرنٹ کھولنے کی اجازت دینے پر جج کیخلاف کارروائی کی سفارش

سپریم کورٹ کے حکم پر واٹر بورڈ اور انتظامیہ نے ابراہیم حیدری میں واقع ہائیڈرنٹ کو سیل کردیا تھا

ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج شفیع پیرزادہ کا ہائیڈرنٹ کھولنے کی اجازت دینے کا حکم نامہ غیر قانونی قراردے دیا۔ فوٹو: فائل

ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے سیل ہائیڈرنٹ کھولنے کی اجازت دینے کے حکم نامے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج شفیع پیرزادہ کیخلاف کارروائی کرنے کی سفارش کردی۔

جسٹس صلاح الدین پہنور پر مشتمل سنگل بینچ کے روبرو سیل شدہ غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹ کھولنے کے فیصلے کیخلاف واٹر بورڈ انتظامیہ کی درخواست پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے سیشن کورٹ کی جانب سے سیلڈ ہائڈرنٹ کھولنے کے اجازت نامے کو غیر قانونی قرار دیدیا، ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پہنور کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے اجازت دے کر حد سے تجاوز کیا۔


حکم نامے کے مطابق عدالت عالیہ نے ایڈیشنل سیشن جج شفیع پیرزادہ کیخلاف کارروائی کی سفارش کی ہے، عدالت نے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو معاملہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کے علم میں لانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس میں کہا کہ واٹر بورڈ اور انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی کی، غیر قانونی ہائیڈرنٹ کھولنے کی اجازت دی جو ماتحت عدالت کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا، سپریم کورٹ نے 23 دسمبر 2015 کو حکم دیا کہ زیر زمین غیر قانونی پانی نکال کر ہائیڈرنٹس چلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے، واٹر بورڈ اور انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر شہر میں موجود غیر قانونی ہائڈرنٹس کیخلاف کارروائی کا حکم دیا۔ واٹر بورڈ اور انتظامیہ نے ابراہیم حیدری میں ہائیڈرنٹ سیل کردیا تھا۔

 
Load Next Story