ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ

کمرشل بینکوں سے لیا گیا قرض 113 ارب تک پہنچ گیا۔

صوبائی حکومتوں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاکستان آرمی و نیوی، یوٹیلٹی اسٹورز پر اربوں روپے واجب الادا۔ فوٹو: گیٹی

ملک کے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان سمیت دیگر اداروں کی جانب سے اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(ٹی سی پی)کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

وزارت تجارت نے ٹریڈنگ کارپوریشن کا مالی بحران حل کرنے کے لیے فیڈرل ایڈجسٹر کے ذریعے چاروں صوبائی حکومتوں ،گلگت بلتستان ،آزاد جموں وکشمیر، ڈائریکٹریٹ جنرل آف پاکستان آرمی،پاکستان نیوی ،یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن اور نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ سمیت دیگراداروں کے مختص کردہ بجٹ سے واجبات کی ایٹ سورس کٹوتی کرکے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ادا کرنے کے لیے وزارت خزانہ سے رجوع کرلیا ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے سمری تیار کرکے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوائی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بطور انچارج وزیر برائے کامرس اینڈ ٹیکسٹائل سمری دیکھ کر ای سی سی کو بھجوانے کا اختیار دیا ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے یہ سمری ای سی سی کو بھجوائی جارہی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب سمری کی کاپی کے مطابق ای سی سی کو بھجوائی جانے والی سمری میں وزارت تجارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چاروں صوبائی حکومتوں اور مذکورہ اداروں کے ذمے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے اربوں روپے کے واجبات ہیں جو بار بار درخواستیں کرنے کے باوجود ادا نہیں کیے جارہے جس کی وجہ سے ٹی سی پی کا مالی بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔


سمری میں بتایا گیا ہے کہ مالی بحران کے باعث ٹی سی پی نے اپنے آپریشنز جاری رکھنے کے لیے حکومتی گارنٹی پر کمرشل بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے حاصل کررکھے ہیں، 30 ستمبر 2018 تک ٹریڈنگ کارپوریشن کے ذمے کمرشل بینکوں کے واجب الادا قرضے بڑھ کر 113.711 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے جن میں اصل رقم 47.143ارب روپے ہے مگر بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث سود درسود کی صورت میں یہ قرضہ بڑھ کر 113.711 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور حکومت پاکستان کو اس قرضے پر بینکوں کو 8 ارب روپے سالانہ سود کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔

سمری میں بتایا گیا ہے کہ سندھ،پنجاب،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سمیت گلگت بلتستان ،آزاد جموں وکشمیر ڈائریکٹریٹ جنرل آف پاکستان آرمی ،پاکستان نیوی کے ذمے مالی سال 2004-05 سے گندم کی مد میں اربوں روپے کے واجبات ہیں جو بار بار درخواستیں کرنے کے بھی ادا نہیں کیے جارہے لہٰذا ای سی سی فیڈرل ایڈجسٹر کے ذریعے صوبائی حکومتوں کے شیئر اور گلگت بلتستان ،آزاد جموںوکشمیر ڈائریکٹریٹ جنرل آف پاکستان آرمی ، پاکستان نیوی کے بجٹ سے ایٹ سروس کٹوتی کرکے یہ واجبات ٹی سی پی کو ادا کرنے کی منظوری دے۔

اسی طرح یوٹیلٹی اسٹورز کی جانب سے ادائیگیوں میں مزید تاخیر سے بچنے کے لیے ٹی سی پی کی جانب سے خریدی جانے والی چینی پر سبسڈی کی رقم یوٹیلیٹی اسٹورز کی بجائے براہ راست ٹی سی پی کو ادا کی جائے۔

سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور نیشنل فرٹیلائزرمارکیٹنگ لمیٹڈ(این ایف ایم ایل) کو بھی ٹی سی پی کے 36.695 ارب روپے کے بقایا جات فوری طور پر ادا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے ذمے چینی کی مد میں 27.42 ارب روپے کے واجبات ہیں اسی طرح فرٹیلائزر کی مد میں نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ کمپنی کے ذمے 9.275 ارب روپے کے واجبات ہیں۔

سمری میں کہا گیا ہے کہ ٹی سی پی ملک میں اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لیے کموڈیٹی آپریشن فنانسنگ کی سہولت فراہم کرتی ہے اور حکومتی ایما پر اشیاء خرید کر سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں کو فراہم کرتی ہے۔ صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث ٹریڈنگ کارپوریشن شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس کے حاصل کردہ قرضوں پر سود ادا کرنے کی وجہ سے حکومت کے مالی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔
Load Next Story