نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جماعت اہلسنت کے ضلعی رہنما مولانا نوری زخمی

واردات پھلیلی تھانے کی حدود گئوشالہ میں ہوئی، مشتعل شہری سڑکوں پر آ گئے، ٹائر جلائے

مظاہرین نے ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس نے مذاکرات کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ فوٹو: فائل

پھلیلی تھانے کی حدود گؤشالہ میں نامعلوم مسلح افراد نے رحمانیہ مسجد کے پیش امام اور جماعت اہلسنت کے ضلعی نائب امیر مولانا ہاشم رضا نوری پر فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔

زخمی کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا، جس سے علاقے میں اشتعال پھیل گیا، مشتعل افراد نے علاقے میں احتجاج کیا اور ٹائر نذر آتش کر کے سڑک کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس نے مذاکرات کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔ دریں اثنا عالم دین ہاشم رضا نوری پر قاتلانہ حملہ کرنے والے افراد کی گرفتاری کے لیے سنی تحریک نے گؤ شالہ کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سنی تحریک کے رہنماؤں، عالم دین سمیت مکینوں نے بھی شرکت کی اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ اس دوارن مشتعل افراد نے سڑک پر ٹائر جلائے اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑک کو بلاک کردیا۔




مقررین نے ہاشم رضا نوری پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ شہریوں سمیت علمائے کرام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے عالم دین ہاشم رضا نوری پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ معجزانہ طور پر بچ گئے تاہم گولی ان کی ٹانگ میں لگی اور وہ اس وقت سول اسپتال مین زیر علاج ہیں۔ حملہ کی بروقت اطلاع متعلقہ تھانہ میںدی گئی لیکن پولیس نے تاحال حملہ آورروں کو تاحال گرفتار نہیں کیا جس کے باعث مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنان اور شہریوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہاشم رضا نوری پر حملہ کرنے والے افراد کو بے نقاب کیا جائے۔
Load Next Story