بجلی بلوں کے 300 بڑے نادہندگان کی فہرست تیار چیف انجینئرز کو وصولی کا ٹاسک
سیاسی شخصیات ،صنعت کاروں، تاجر وں اوربڑے آبادگار وں سمیت تمام نا دہندگان کی فہرست اخبارات میں بھی شائع کرائی جائیگی
حیسکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر لئیق احمد کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ فوٹو: شاہد علی/ ایکسپریس
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے3 سو ٹاپ غیر سرکاری نادہندگان کی فہرست تیار کرتے ہوئے ان سے واجبات کی وصولی کے لیے حیسکو کے تین چیف انجینیئرز کو خصوصی ٹاسک دے دیا ہے۔
جبکہ ان نادہندگان کی فہرست اخبارات میں بھی شائع کرائی جائے گی جن میں سیاسی شخصیات کے علاوہ صنعت کار، تاجراوربڑے آبادگار بھی شامل ہیں۔ حیسکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر لئیق احمد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ3 سوٹاپ نجی نادہندگان میں گھریلو، کمرشل، ایگری کلچرل، انڈسٹریل اوردیگر شامل ہیں اورصرف ان 3 سوٹاپ نادہندگان پر ہی حیسکو کے 18 کروڑ روپے کے واجبات ہیں جبکہ ان میں سیاسی و غیرسرکاری اہم شخصیات بھی شامل ہیں لیکن ان سے واجبات اب ہرصورت میں وصول کیے جائیں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں حیسکو تقریباً یومیہ ایک لاکھ یونٹ چوری ہونے سے بچارہاہے جس کے نتیجے میں بلنگ میں بھی اضافہ ہواہے، بجلی چوری کے خلاف کارروائی سے اس ماہ کے اختتام تک مجموعی طورپر لائن لاسز میں ایک فیصدکمی آجائے گی جو27 سے کم ہوکر 26 فیصد رہ جائیں گے جس کے نتیجے میں حیسکو کی بلنگ میں ایک کروڑ یونٹس بڑھنے کے علاوہ آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
انھوں نے بتایا کہ حیسکو کے سرکاری وغیرسرکاری صارفین پرمجموعی طورپر 39 ارب21 کروڑ 60 لاکھ 20 ہزارکے واجبات ہیں، جن میں وفاقی حکومت کے اداروں اور محکموں پر ایک ارب 26 کروڑ 29 لاکھ 30 ہزار جبکہ گھریلو،کمرشل، زرعی اور انڈسٹریل صارفین پر 15 ارب 57کروڑ 30لاکھ 50ہزار روپے کے واجبات ہیں، سندھ حکومت اور اس کے مختلف اداروں اور محکموں پر ماہ جون تک 30 ارب 45کروڑ50لاکھ روپے کابل اور بقایات جات تھے جس میں سے 9 ارب 45 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں جبکہ21 ارب روپے سے زائد رقم باقی ہے، سندھ حکومت اور ماتحت محکموں کی بلنگ 14 ہزار 669 میٹرز کی ریڈنگ سے کی جاتی ہے جس میں سے 8ہزار 171میٹرز کو سندھ حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ یہ ان کے زیراستعمال ہیں تاہم سندھ حکومت نے چارہزار سے زاید میٹرز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اورکہا ہے کہ یہ ہمارے زیراستعمال نہیں ہیں، جس کے باعث حیسکو اور سندھ حکومت کے درمیان بارہ ارب روپے سے زاید کی بلنگ کا تنازع چل رہا ہے۔
انھوں نے بتایاکہ ایف آئی اے اور حیسکو نے مشترکہ طورپراب تک 1403بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی ہے اور اس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد بجلی کے یونٹس چوری ہونے سے بچائے گئے، بجلی چوروں پر 17 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عاید کیا گیا ہے اور3 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زاید وصولی بھی کی گئی، ہم نے 303 بجلی چوروں کے مقدمات کے اندراج کے لیے متعلقہ تھانوں میں لیٹرجمع کرائے لیکن پولیس نے صرف بارہ مقدمات درج کرکے صرف 6 بجلی چوروں کو گرفتارکیاجبکہ اس کے مقابلے میں حیسکو نے بجلی چوری میں ملوث 8 ملازمین کو معطل کردیا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی سے قبل حیسکو کی بجلی کی طلب ایک ہزار میگاواٹ تھی لیکن کارروائی کے بعد طلب میں دوسومیگاواٹ کمی آئی ہے، بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سندھ حکومت اچھا تعاون کررہی ہے اور اس حوالے سے ایک ڈی ایس پی اور بیس پولیس اہلکاروں کی خدمات حیسکو کے حوالے کی گئی ہیں تاہم مقامی پولیس کا رویہ درست نہیں ہے۔
جوکہ بجلی چوروں کے خلاف مقدمے کے اندراج اور کارروائي میں تساہل برت رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکٹریسٹی ایکٹ کے تحت بجلی چوروں کے خلاف رات کو کارروائی نہیں کی جاسکتی جبکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے بجلی چوری کا سلسلہ رات کو ہی ہوتاہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس ایکٹ کو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ کیاجائے۔ انکا کہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے دوران کسی بھی صارف کوحراساں نہیں کیا جارہاہے، اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے جو بھی احکام جاری کیے ہیں اس پر عمل کیاجائے گا۔ دوسری جانب حیسکو کے اعلامیے کے مطابق ٹھٹھہ آپریشن ڈویژن کے ایکسین سید نبی شاہ نے بجلی چوری اورخراب کارکردگی پر تین لائین مین محمداسلم، خان محمد اورفرخ ندیم، میٹرریڈرجاویداقبال اور لائین سپرنٹنڈنٹ ٹوروح الامین کو معطل کرکے انہیں سرکل آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جبکہ ان نادہندگان کی فہرست اخبارات میں بھی شائع کرائی جائے گی جن میں سیاسی شخصیات کے علاوہ صنعت کار، تاجراوربڑے آبادگار بھی شامل ہیں۔ حیسکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر لئیق احمد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ3 سوٹاپ نجی نادہندگان میں گھریلو، کمرشل، ایگری کلچرل، انڈسٹریل اوردیگر شامل ہیں اورصرف ان 3 سوٹاپ نادہندگان پر ہی حیسکو کے 18 کروڑ روپے کے واجبات ہیں جبکہ ان میں سیاسی و غیرسرکاری اہم شخصیات بھی شامل ہیں لیکن ان سے واجبات اب ہرصورت میں وصول کیے جائیں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں حیسکو تقریباً یومیہ ایک لاکھ یونٹ چوری ہونے سے بچارہاہے جس کے نتیجے میں بلنگ میں بھی اضافہ ہواہے، بجلی چوری کے خلاف کارروائی سے اس ماہ کے اختتام تک مجموعی طورپر لائن لاسز میں ایک فیصدکمی آجائے گی جو27 سے کم ہوکر 26 فیصد رہ جائیں گے جس کے نتیجے میں حیسکو کی بلنگ میں ایک کروڑ یونٹس بڑھنے کے علاوہ آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
انھوں نے بتایا کہ حیسکو کے سرکاری وغیرسرکاری صارفین پرمجموعی طورپر 39 ارب21 کروڑ 60 لاکھ 20 ہزارکے واجبات ہیں، جن میں وفاقی حکومت کے اداروں اور محکموں پر ایک ارب 26 کروڑ 29 لاکھ 30 ہزار جبکہ گھریلو،کمرشل، زرعی اور انڈسٹریل صارفین پر 15 ارب 57کروڑ 30لاکھ 50ہزار روپے کے واجبات ہیں، سندھ حکومت اور اس کے مختلف اداروں اور محکموں پر ماہ جون تک 30 ارب 45کروڑ50لاکھ روپے کابل اور بقایات جات تھے جس میں سے 9 ارب 45 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں جبکہ21 ارب روپے سے زائد رقم باقی ہے، سندھ حکومت اور ماتحت محکموں کی بلنگ 14 ہزار 669 میٹرز کی ریڈنگ سے کی جاتی ہے جس میں سے 8ہزار 171میٹرز کو سندھ حکومت نے تسلیم کرلیا ہے کہ یہ ان کے زیراستعمال ہیں تاہم سندھ حکومت نے چارہزار سے زاید میٹرز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اورکہا ہے کہ یہ ہمارے زیراستعمال نہیں ہیں، جس کے باعث حیسکو اور سندھ حکومت کے درمیان بارہ ارب روپے سے زاید کی بلنگ کا تنازع چل رہا ہے۔
انھوں نے بتایاکہ ایف آئی اے اور حیسکو نے مشترکہ طورپراب تک 1403بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کی ہے اور اس کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد بجلی کے یونٹس چوری ہونے سے بچائے گئے، بجلی چوروں پر 17 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عاید کیا گیا ہے اور3 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زاید وصولی بھی کی گئی، ہم نے 303 بجلی چوروں کے مقدمات کے اندراج کے لیے متعلقہ تھانوں میں لیٹرجمع کرائے لیکن پولیس نے صرف بارہ مقدمات درج کرکے صرف 6 بجلی چوروں کو گرفتارکیاجبکہ اس کے مقابلے میں حیسکو نے بجلی چوری میں ملوث 8 ملازمین کو معطل کردیا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی سے قبل حیسکو کی بجلی کی طلب ایک ہزار میگاواٹ تھی لیکن کارروائی کے بعد طلب میں دوسومیگاواٹ کمی آئی ہے، بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سندھ حکومت اچھا تعاون کررہی ہے اور اس حوالے سے ایک ڈی ایس پی اور بیس پولیس اہلکاروں کی خدمات حیسکو کے حوالے کی گئی ہیں تاہم مقامی پولیس کا رویہ درست نہیں ہے۔
جوکہ بجلی چوروں کے خلاف مقدمے کے اندراج اور کارروائي میں تساہل برت رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکٹریسٹی ایکٹ کے تحت بجلی چوروں کے خلاف رات کو کارروائی نہیں کی جاسکتی جبکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے بجلی چوری کا سلسلہ رات کو ہی ہوتاہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس ایکٹ کو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ کیاجائے۔ انکا کہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کے دوران کسی بھی صارف کوحراساں نہیں کیا جارہاہے، اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے جو بھی احکام جاری کیے ہیں اس پر عمل کیاجائے گا۔ دوسری جانب حیسکو کے اعلامیے کے مطابق ٹھٹھہ آپریشن ڈویژن کے ایکسین سید نبی شاہ نے بجلی چوری اورخراب کارکردگی پر تین لائین مین محمداسلم، خان محمد اورفرخ ندیم، میٹرریڈرجاویداقبال اور لائین سپرنٹنڈنٹ ٹوروح الامین کو معطل کرکے انہیں سرکل آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔