مضحکہ خیز ناموں والے امریکی شہر

ذیشان محمد بیگ  اتوار 3 مارچ 2019
ایسے ناموں کی دلچسپ کَتھا، جن کو سُن کر ہنسی نہ رُکے۔ فوٹو: فائل

ایسے ناموں کی دلچسپ کَتھا، جن کو سُن کر ہنسی نہ رُکے۔ فوٹو: فائل

دنیا میں بہت سی پُراسرار جگہیں پائی جاتی ہیں، حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں اور رنگ برنگے پرندے، انواح واقسام کے جاندار اور ایسی ایسی صلاحیت کے حامل انسان دیکھنے میں آتے ہیں کہ جن کے بارے میں علم ہونے پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان ورطہء حیرت میں ڈوب کر اُنگلیاں دانتوں میں دبانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

آپ نے یقینا بہت سی ایسی چیزوں کے متعلق پڑھا یا سُنا ہو گا جنہوں نے اپنے عجیب وغریب اور انوکھے خواص کی بنا پر آپ کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہو گی۔ اِن تمام مقامات، جانداروں، چیزوں اور واقعات کی انفرادیت قدرتی بھی ہو سکتی ہے اور انسانوں کے ذہنِ رسا کے ہُنرکاری کی کارفرمائی بھی۔ لیکن ان سب سے قطعِ نظر بعض اوقات کچھ ایسی چیزیں بھی نظر سے گزرتی ہیں کہ انسان اپنی بے ساختہ ہنسی پر قابو نہیں پا سکتا۔ شاید آپ نے کراچی کے دو علاقوں ’مچھرکالونی‘ اور ’بھینس کالونی‘ کا نام سُنا ہو لیکن ہم آپ کو امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کے چند چھوٹے شہروں اور قصبات کے ایسے ناموں کا احوال بتاتے ہیں جن کے بارے میں جان کر آپ اپنے ہونٹوں پر اُبھرنے والی مسکراہٹ کو روکنے میں ناکام ہو جائیں گے۔

1 ۔ جلی ہوئی مکئی، الاباما (Burnt Corn, Alabama)

غذائی ناموں  پر شہروں کے  مضحکہ خیز نام رکھنے کی سب سے اعلٰی مثالوں میں سے ایک  ریاست الاباما کا یہ قصبہ بھی ہے۔ اس قصبے کے نام کی وجہء تسمیہ کے حوالے سے مختلف روایات مشہور ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جگہ پر یورپی آبادکاروں نے ریڈانڈینز کے کھیت جلائے تھے جبکہ  چند لوگوں کا ماننا ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہوا تھا یعنی ریڈانڈینز نے آبادکاروں کے کھیتوں کو آگ لگائی تھی۔ بہرحال حقیقت کچھ بھی رہی ہو، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ 1813ء میں اِس مقام پر دونوں گروہوں میں جنگ ہوئی تھی جو ریڈانڈینز نے جیتی تھی۔

2 ۔ اَن الاسکا، الاسکا  (Unalaska, Alaska)

انگریزی زبان میں کسی لفظ کا مطلب نفی کے معنوں میں لینے کے لیے اُس کے ساتھ ’اَن‘ (un) لگایا جاتا ہے۔ تاہم اس قصبے کے نام کا مطلب ’اینٹی الاسکا‘ (anti-Alaska) ہرگز نہیں ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اس جگہ آباد ’اَن اینگین‘ (Unangan) یا ’الیوِٹ‘ (Aleut) قوم کے مقامی افراد اس علاقے کو ’اگنالکش‘ (Agunalaksh) کہتے تھے لیکن ہجوں اور لہجوں کے فرق کے باعث سال ہاسال تک اس کے تلفظ کے بارے میں اُلجھن برقرار رہی۔ آخرکار  1800ء کے اواخر میں ’دی یونائیٹڈ اسٹیٹس بورڈ آن جیوگرافِک نیمز‘ (the United States Board on Geographic Names) نے یہ اعلان کیا کہ اس قصبے اور جس جزیرے پر یہ واقع ہے، دونوں کا سرکاری نام ’اَن الاسکا‘ (Unalaska) ہے۔ یہ نام اِن کے اصل نام کو آسان بنانے کے تجویز کیا گیا تھا۔

3 ۔ کیوں، اریزونا (Why, Arizona)

کیوں (why)، اوہ کیوں، یہ قصبہ ’کیوں‘ (why) کہلاتا ہے ؟ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ ریاستی ہائی ویز نمبر 85 اور 86 اس مقام پر آ کر ملتے ہوئے انگریزی حرف ’Y‘ کی شکل بناتی ہیں۔ ریاست اریزونا کے قانون کے مطابق کسی بھی شہر کا نام کم ازکم تین حروف پر ضرور مشتمل ہونا چاہیے۔ اس لیے اس قصبے کے بانیان نے اس کا نام ’Y‘ سے تبدیل کر کے ’وائے‘ (why) رکھ دیا۔ البتہ اِن دونوں ناموں کو بولتے ہوئے کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، جب تک اِن کو لکھا ہوا نہ دیکھیں۔

4 ۔ انگوروں کا مکر، آرکنساس (Possum Grape, Arkansas)

یہ نام اِتنا عجیب تو نہیں ہے، جتنا سُننے میں لگتا ہے کیونکہ ’پوسم گریپ‘ (Possum Grape) امریکا کی جنوب مشرقی ریاستوں میں پیدا ہونے والے انگوروں کی ایک مقامی قِسم کا نام ہے۔ ریاست ’آرکنساس‘ (Arkansas) بھی امریکا کے جنوب میں واقع ہے، اس لیے یہاں کے باسیوں کے لے یہ نام عجیب نہیں۔ اس قصبے کے نام کے متعلق ایک دلچسپ روایت یہ بھی ملتی ہے کہ قریباً 20 برس تک یہاں کے باشندوں میں اس بات پر ہی اتفاق نہ ہو سکا کہ اس کا نام ’پوسم‘ (مکر کرنا یا جھوٹ موٹ آنکھیں موند لینا) ہونا چاہیے یا صِرف ’انگور‘ کا لفظ ہی کافی ہے۔

5 ۔ زیڈ زیڈ وائے زیڈ ایکس، کیلیفورنیا (Zzyzx, California)

’کرٹِس ہوو سپرنگر‘ (Curtis Howe Springer) ریڈیو پر تبلیغ کرنے والا ایک عیسائی مبلغ تھا۔ ستم ظریفی مگر یہ تھی کہ وہ اپنے ریڈیو پروگرام میں لوگوں کو یہ جھانسا دیتا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور یوں انہیں اپنی جعلی ادویات بیچنے کی کوشش کرتا۔ اس نے پورے ملک میں معدنی پانی سے غسل کروانے والے حماموں کا نظام بھی بنا رکھا تھاجو اس کے بقول صحت کے لیے انتہائی مفید تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ان حماموں سے ہونے والی آمدنی پر اس نے کبھی ٹیکس نہیں دیا۔ جب اس نے ’صحرائے موجاو‘ (Mojave Desert) میں کچھ زمین لی اور وہاں معدنی پانی سے غسل کے چشمے بنائے تو اس جگہ کو ’زیڈ زیڈ وائے زیڈ ایکس مِنرل سپرنگ ریزورٹ‘ (Zzyzx Mineral Springs resort) کا نام دیا۔ شائد اِس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ یہ صحت حاصل کرنے کا آخری مقام ہے۔ بلآخر وہ اپنی ہیراپھیریوں کی وجہ سے ’ایف بی آئی‘ (FBI) کی نظروں میں آ گیا اور پکڑا گیا۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُسے کتنی قید ہوئی ؟ محض 49 دن۔۔۔

6 ۔ بے نام، کولوراڈو  (No Name, Colorado)

مضحکہ خیز ناموں والے شہروں میں اس قصبے کی خاص اہمیت ہے کیونکہ اس کا نام ہی ’بے نام‘ (No Name) ہے۔اس غیر معمولی نام کا سہرا اُن تعمیر کنندگان کے سر جاتا ہے جو بین الریاستی سڑک نمبر 70 بنا رہے تھے۔ انھوں نے سڑک کے متعدد خارجی راستوں کو بغیر نشانوں کے خالی چھوڑ دیا۔ جب ’کولوراڈو ڈیپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن‘ (Colorado Department of Transportation) کا ایک افسر اُن راستوں کے نشان لگانے کے لیے گیا تو اُس نے خارجی راستے نمبر 119 پر ’بے نام‘ (No Name) لکھ دیا۔ اس وقت سے اِس قصبے کا کوئی نام نہیں۔ ریاستی حکام نے ایک بار اس علاقے کا نام رکھنے کی کوشش کی لیکن مقامی باشندوں نے مزاحمت کر کے اس کو ناکام بنا دیا۔

7 ۔ ہیپی لینڈ، کنیکٹی کٹ (Happyland, Connecticut)

’ہیپی لینڈ‘ (Happyland) دراصل ریاست ’کنیکٹی کٹ‘ (Connecticut) کے بڑے قصبے ’پریسٹن‘ (Preston) کے ایک چھوٹے سے علاقے کا نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے یہاں پر ایک تفریحی پارک ہوتا تھا جو بدقسمتی سے 1930ء کی دھائی میں آنے والے ایک طوفان نے برباد کر دیا۔ اس تباہی کے بعد بھی اس پارک کی یاد میں اس جگہ کا نام ہی ’ہیپی لینڈ‘ (Happyland) پڑ گیا۔

8 ۔ چھوٹی جنت، ڈیلاور  (Little Heaven, Delaware)

1870 ء کی دھائی میں اس جگہ ایک زمیندار نے اپنے آئرش مزدوروں کی رہائش کے لیے چند کیبن تعمیر کیے اور اُن کا نام ’چھوٹی جنت‘ (Little Heaven) رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی زمانے میں اسی علاقے میں ایک جگہ کا نام ’چھوٹا جہنم‘ (Little Hell) بھی تھا۔ تاہم اب وہ موجود نہیں ہے۔

9 ۔ جلی ہوئی دکان، فلوریڈا  (Burnt Store, Florida)

مقامی افراد کے مطابق اس قصبے کا یہ نام اُس دکان کے نام پر پڑا جو ’دریائے پیس‘(Peace River) کے کنارے واقع تھی اور 1849ء میں جلا دی گئی۔ اس دکان کا ’جارج‘ نامی منتظم، ریڈانڈین قبیلے ’سیمی نال‘ (Seminole) سے ملاقاتیں کرتا رہتا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اسی قبیلے کے ایک حملے میں مارا گیا اور اس کے بعد وہ دکان بھی نظرِآتش کر دی گئی۔

10 ۔ تجربہ، جارجیا  (Experiment, Georgia)

گو مضحکہ خیز ناموں والے تمام شہروں کو بھی بذاتِ خود ’تجربے‘  (Experiment) ہی کہا جا سکتا ہے مگر جارجیا (Georgia) کے اس قصبے کے نام کی وجہ اس کے قریب ہی واقع جارجیا یونیورسٹی کی ’زرعی تجربہ گاہ‘ (Agricultural Experiment Station) ہے۔

11 ۔ ہائیکو، ہوائی (Haiku, Hawaii)

’ہائیکو‘ (Haiku) نام پڑھ کر شاید آپ کا ذہن جاپانی شاعری میں نظم کی ایک صنف کی طرف چلا گیا ہو، جو تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ریاست ’ہوائی‘ (Hawaii) کے اس قصبے کا نام جاپانی نظم پر نہیں بلکہ ’ہوائی‘ زبان کے ایک قدیم نام ’ہا ایکو‘ (Ha’iku) پر رکھا گیا ہے جس کا مطلب ہے ’قدرتی وادی‘۔ کچھ لوگ کہتے  ہیں کہ یہ نام ’ہوائی‘ زبان کے ایک اور لفظ پر رکھا گیا، جس کا مطلب ’غصے میں اچانک بولنا‘ یا ’تڑخ کر کے ٹوٹنا‘ ہوتا ہے۔ دیگر چند لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مقامی پھول کا نام ہے۔

12 ۔ سانتا کلاز، انڈیانا  (Santa Claus, Indiana)

پہلے اس قصبے کا نام ’سانتا فے‘ (Santa Fe) تھا۔ 1856ء میں جب سرکاری حکام کو یہ معلوم ہوا کہ ریاست میں اسی نام کا ایک اور شہر بھی موجود ہے تو انھوں نے اس کا نام بدل کر کرسمس کے تہوار کے مشہور مذہبی کردار  ’سانتا کلاز‘ (Santa Claus) کے نام پر رکھ دیا۔

13 ۔ ہیپو، کینٹکی  (Hippo, Kentucky)

ریاست ’کینٹکی‘ (Kentucky) کے شہر ’ہیپو‘ (Hippo) میں ’ہیپوز‘ (دریائی گھوڑے) تو نہیں پائے جاتے البتہ اس کا نام 20 ویں صدی میں یہاں رہائش پزیر ’بی میڈیسن‘ (Bee Madison) نامی شخص کے نام پر رکھا گیا جس کی عرفیت ’ہیپو‘ (Hippo) تھی، حالانکہ اُس شخص کا دور دور تک دریائی گھوڑوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

14 ۔ واٹر پروف، لوئسیانا  (Waterproof, Louisiana)

شروع شروع میں اس جگہ کو آباد کرنے والے لوگ محض اس لیے یہاں آئے کیونکہ پورے علاقے میں یہ واحد جگہ تھی جو ’دریائے میسیسیپی‘ (Mississippi River) میں آنے والے تباہ کُن سیلابوں سے محفوظ تھی۔ اسی لیے اس کا نام ’واٹر پروف‘ (Waterproof) پڑ گیا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ پانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس بات کا اندازہ یہاں کے باشندوں کو اس وقت ہوا جب 2008ء میں یہاں قحط پڑا اور کسانوں کی قیمتی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

15 ۔ حادثہ، میری لینڈ  (Accident, Maryland)

اس عجیب نام کی وجہء تسمیہ جاننے کے لیے ہمیں ماضی کا سفر کرتے ہوئے 1700ء کے اواخر میں جانا پڑے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست ’میری لینڈ‘ (Maryland)  جب ایک کالونی کی حیثیت رکھتی تھی تو اس وقت وہاں کے دو ’سروئیرز‘ (surveyors) جن کے نام ’بروک بیل‘ (Brooke Beall) اور ’ولیم ڈیکنز جونیئر‘ (William Deakins, Jr.) تھے اور وہ دونوں آپس میں دوست بھی تھے، کو اتفاق سے زمین کا ایک ہی ٹکڑا پسند آ گیا اور انھوں نے اس کے حصول کے لیے درخواست دے دی۔ دونوں اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ ایک ہی جگہ لینا چاہ رہے ہیں۔ ’ڈیکنز‘ (Deakins) کو جب اس بات کا پتا چلا تو اس نے اپنی درخواست واپس لے لی کیونکہ ’بیل‘ (Beall) نے اس سے پہلے درخواست دی تھی۔ یوں اس کہانی کا انجام بخیر ہوا اور ایک حادثاتی اتفاق کی وجہ سے اس علاقے کا نام ’حادثہ‘ (Accident) پڑ گیا۔

16 ۔ سینڈوِچ، میساچیوسیٹس (Sandwich, Massachusetts)

1639 ء میں تشکیل پانے والا یہ قصبہ ’کیپ کوڈ‘  (Cape Cod)نامی بندرگاہ کا سب سے پُرانا قصبہ ہے، جس کا نام انگلستان کی کاؤنٹی ’کینٹ‘ (Kent) کی بندرگاہ ’سینڈوِچ‘ (Sandwich) کے نام پر رکھا گیا۔

17 ۔ جہنم، مشی گن (Hell, Michigan)

کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی یہ کہے ’’جہنم میں جاؤ‘‘ تو ضروری نہیں کہ وہ غصے کا اظہار ہی کر رہا ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو سمت سمجھا رہا ہو۔ اس قصبے کے نام کی کہانی کچھ ہوں ہے کہ ’جارج ریویس‘ (George Reeves) نامی ایک شخص نے ریاست مشی گن کے اس وسطی علاقے میں آٹا پیسنے کی چکی لگائی۔ وہ آٹا پسوانے کے لیے آنے والے کسانوں کو گھر میں کشید کی ہوئی شراب پیش کرتا۔ کھیتوں میں جب کوئی اُن کسانوں کی بیویوں سے اُن کے بارے میں پوچھتا کہ وہ کہاں ہیں ؟ تو وہ جل کے جواب دیتیں ’’وہ پھر جہنم میں گئے ہیں‘‘۔ اس طرح اس قصبے کا نام ’ہیل‘ (Hell) ہو گیا۔ آج بھی اس قصبے کے ڈاک خانے سے بھیجی جانے والی ہر ڈاک کو ’داغ‘ کے آگے روانہ کیا جاتا ہے تاکہ پتا چلے کہ یہ کہاں سے آئی ہے۔

18 ۔ گرم کافی، میسیسیپی  (Hot Coffee, Mississippi)

اس قصبے کی ایک سرائے کا مالک ’ایل جے ڈیوِس‘ (L.J. Davis) اپنی کافی (Coffee) کی تشہیر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کرتا تھا کہ اس پورے علاقے میں اُس سے بہتر کافی کوئی نہیں بنا سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اپنے اِس دعوے میں سچا تھا کیونکہ وہ اپنی کافی میں چشمے کا صاف پانی، مٹھاس کے لیے خالص گُڑ کا شیرہ اور ’نیو اورلینز‘ (New Orleans) کے کافی کے بہترین بیج استعمال کرتا تھا۔ لوگوں کو اس کی کافی اس قدر پسند تھی کہ انھوں نے اسی پر اپنے قصبے کا نام رکھ دیا۔

19 ۔ بڑا بازو، مونٹانا  (Big Arm, Montana)

یہ قصبہ اپنے نزدیک واقع جھیل ’فلیٹ ہیڈ‘ Flathead (مچھلی کی ایک قسم) کی خلیج ’بِگ آرم‘ (Big Arm Bay) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جھیل مچھلیاں پکڑنے کے شوقینوں کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک ہے۔

20 ۔ کیڑے، نیبراسکا  (Worms, Nebraska)

ریاست ’کینٹکی‘ (Kentucky) کے شہر ’ہیپو‘ (Hippo) کی ہی طرح یہ نام ’کیڑے‘(Worms) بھی جنگلی حیات کی وجہ سے نہیں رکھا گیا بلکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نام جرمنی (Germany) میں واقع شہر ’وارمز‘ (Vorms) سے لیا گیا ہے۔ گو دونوں شہروں کے نام کے ہجوں میں فرق ہے تاہم بولنے میں ایک ہی طرح ادائیگی ہوتی ہے۔ ’وارمز‘ (Vorms) ایک رومی بادشاہ کی عرفیت تھی۔

21 ۔ چینی کا گودام، نیواڈا  (Sugar Bunker, Nevada)

جتنا یہ نام میٹھا لگتا ہے بدقسمتی سے حقیقت اُس کے اُلٹ ہے۔ 20 ویں صدی کے وسط تک یہ جگہ دھماکہ خیز کیمیائی مواد کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اچھی بات مگر یہ ہے کہ اب آج کل یہاں کیمیائی ٹیسٹ نہیں کیے جاتے۔

22 ۔ کیوں نہیں، نارتھ کیرولینا (Whynot, North Carolina)

افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ قصبہ،  ریاست ’اریزونا‘ (Arizona) کے قصبے ’کیوں‘ (Why) کا جُڑواں شہر نہیں ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ جب جرمن اور برطانوی آبادکار اپنے اس نئے قصبے کا نام رکھنے کی بحث میں مصروف تھے تو ایک شخص بولا ’’کیوں نہ (Why not) اس قصبے کا نام ’کیوں نہ‘ (Why not) ہی رکھ دیں اور گھر چلیں ؟‘‘ اور پھر ایسا ہی ہوا۔

23 ۔ پی پی، اوہیو (Pee Pee, Ohio)

ایک شخص نے اس علاقے کے ایک بڑے درخت پر اپنے نام کا مخخف ’پی پی‘ (PP) کندہ کیا ہوا تھا اور یوں اس قصبے کا نام ’پی پی‘ (Pee Pee) پڑ گیا۔ اس شخص کی شناخت کے بارے میں مختلف لوگوں کی الگ الگ رائے ہے۔ کچھ کے خیال میں وہ قصبے کا بانی ’میجر پاؤل پین‘ (Major Paul Paine) تھا جبکہ چند کے نزدیک وہ ’پیٹر پیٹرِک‘ (Peter Patrick) نامی کوئی شخص۔

24 ۔ اُکتاہٹ ؍ بیزاری، اوریگون (Boring, Oregon)

اس قصبے کے اس نام کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہاں زندگی کی کوئی رنگینی نہیں پائی جاتی بلکہ اس کا نام اس میں ابتدائی سکونت اختیار کرنے والے لوگوں میں سے ایک ’ولیم ہیریسن بورنگ‘ (William Harrison Boring) کے نام پر رکھا گیا۔ اس علاقے میں عمارتی لکڑی کی وافر مقدار میں موجودگی کے باعث جلد ہی یہ قصبہ ’ریلوے‘ (railway) کا اہم مرکز بن گیا اور یہاں ریل کی پٹڑیوں کے درمیان بچھائے جانے والی لکڑی کے تختے بنانے کے ساتھ ساتھ ریل گاڑیوں کو ایندھن کی فراہمی بھی ہونے لگی۔ یاد رہے کہ اُس زمانے میں ریل کا انجن بھاپ سے چلتا تھا۔

25 ۔ پناہ،پینسلوینیا  (Asylum, Pennsylvania)

کئی مرتبہ یہ لفظ ذہن میں عجیب ڈراؤنے سے مناظر اُبھار دیتا ہے لیکن اس قصبے کے نام میں یہ لفظ دوسرے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انقلابِ فرانس کے دوران تشدد سے بچنے کے لیے جو پناہ گزین وہاں سے بھاگ کر یہاں پہنچے، انھوں نے یہ قصبہ آباد کیا اور اسی وجہ سے اس کا نام ’پناہ‘ (Asylum) پڑ گیا۔ 1800ء کے قریب یہاں کے بہت سے رہائشی واپس فرانس چلے گئے تاہم اس قصبے کا یہی نام برقرار رہا۔

26 ۔ ڈرپوک ؍ بزدل، ساؤتھ کیرولینا (Coward, South Carolina)

اس بارے میں کچھ زیادہ تو معلوم نہیں کہ اس قصبے کا یہ نام کیسے پڑا۔ تاہم یہ قصبہ قریبی جنگل کے درختوں کی اونچائی سے بھی اوپر بنائے گئے معلق پُلوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جن پر چلنا بہرحال بزدل اور ڈرپوک لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ جھولتے ہوئے پُل جنگل کے فرش سے قریباً 50 فٹ کی اونچائی پر بنائے گئے ہیں اور خوفناک طریقے سے ڈولتے ہوئے ان پُلوں پر چلنا مہم جو افراد کا دل پسند مشغلہ ہے۔

27 ۔ میٹھے ہونٹ، ٹینیسی  (Sweet Lips, Tennessee)

بمشکل 100 افراد کی آبادی والے اس چھوٹے سے قصبے کا نام اس کے قریب ہی واقع ایک کھاڑی کے نام پر ہے۔ امریکی خانہ جنگی میں حصہ لینے والے سپاہی اس ندی کے پانی کو باقی جگہوں کی نسبت میٹھا خیال کرتے تھے۔

28 ۔ انڈے کا مشروب، یوٹاہ  (Eggnog, Utah)

امریکا اور کینیڈا میں کرسمس کے موقعے پر انڈے کا ایک خاص قسم کا مشروب تیار کیا جاتا ہے۔ اس قصبے کا یہ نام شاید اس لیے پڑ گیا کیونکہ اس علاقے میں مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے والے آبادکاروں کو پینے کے لیے اکثر یہی مشروب پیش کیا جاتا تھا۔

29 ۔ کُبڑے گُلِ لالہ، واشنگٹن (Humptulips, Washington)

اس نام کا گُلِ لالہ نامی پھول کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ زیادہ تر ذرائعے کہتے ہیں کہ یہ لفظ مقامی قبائل کی زبان سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’بانس سے چلانا مشکل‘۔ دراصل مقامی ریڈانڈین لوگ اس علاقے میں واقع دریا میں ایک ڈونگا نما کشتی استعمال کیا کرتے تھے جسے ایک بانس کی مدد دھکیلا جاتا تھا۔ اس لفظ میں اُس مشکل کا ذکر ہے جو اس سلسلے میں درپیش آتی تھی۔ دوسرے نظریئے کے مطابق اس لفظ کا مطلب ہے ’سرد مزاج‘۔

30 ۔ بہتی ناک کا سوراخ ویسٹ وِرجینیا  (Booger Hole, West Virginia)

یہ نام تو ریاست ’نیبراسکا‘ (Nebraska) کے شہر ’وارمز‘ (Worms) سے بھی زیادہ کراہت انگیز لگتا ہے۔ گو اس قصبے کا ماضی اور تاریخ قابلِ شرمندگی ہے البتہ اس کا بہتی ہوئی ناکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ 1900ء کے اوائل میں یہ قصبہ بدمعاشوں کی بھرماراور مجرموں سے اٹا ہوا تھا اور پُرتشدد کارروائیوں سے دوچار رہنے کے سبب بدنام تھا۔ یہاں کئی لوگ قتل ہوئے اور بہت سے اجتماعی طور پر غائب کر دیے گئے۔ آج کل یہ قصبہ بھوت پکڑنے کے شوقینوں کا مرکزِنگاہ ہے۔ جہاں تک اس کے عجیب وغریب نام کا تعلق ہے تو داستانوں کے مطابق یہاں کے بہت سے رہائشی اس قصبے میں لوگوں کے قتل اور غائب ہونے کے واقعات کو ’بُوگی مین‘ (boogieman) سے منسوب کرتے ہیں جو ایک دیومالائی عفریت کے کردار کا نام  ہے۔

31 ۔ میں اکیلا ہوں، وِسکونسِن (Imalone, Wisconsin)

اس قصبے کے نام کے حوالے سے ایک دلچسپ کہانی بیان کی جاتی ہے۔ اس قصبے کے بانی کا نام ’سنوبال اینڈرسن‘ (Snowball Anderson) تھا۔ ایک دن وہ کہیں جانے لگا تو اپنے پیٹرول پمپ کی دیکھ بھال کے لیے ایک شخص ’بِل گرینجر‘ (Bill Granger) کو ذمہ داری سونپ گیا۔ اسی دوران ایک سیلزمین وہاں پہنچا اور اپنے ریکارڈ میں لکھنے کے لیے ’بِل‘ (Bill) سے اس جگہ کا نام پوچھا۔ سیلزمین کے استفسار پر ’بِل‘ (Bill) نے جواب دیا کہ ’’میں اکیلا ہوں‘‘ (I’m alone)۔ دراصل ’بِل‘ (Bill) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ مجھے معلوم نہیں، اور کیونکہ پیٹرول پمپ پر میں اکیلا ہوں اس لیے کسی سے اس جگہ کا نام پوچھنے کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔ ہوں اس سیلزمین نے اپنے سوال پر ’بِل‘ (Bill) کے جواب ’میں اکیلا ہوں‘ (I’m alone) کو اس علاقے کا نام سمجھتے ہوئے اپنے ریکارڈ میں یہی لکھ دیا۔ جبکہ قصبے کے ایک موجودہ رہائشی کے مطابق ’اینڈرسن‘ (Anderson) نے اس قصبے کا یہ نام خود ہی رکھا تھا کیونکہ وہ خود بھی اکیلا ہی تھا۔

32 ۔ ڈکارتا پانی،  وائے اومینگ (Chugwater, Wyoming)

اس نام کے پیچھے جو کہانی مشہور ہے وہ یہ ہے کہ مقامی ریڈانڈین قبائل کا ایک نوجوان جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’اَرنے بھینسوں‘ کے شکار کو جاتا تو وہ اکثر نوجوانی کے جوش وجذبات میں آکر اُن جنگلی بھینسوں کے تعاقب میں چٹانوں کی چوٹیوں تک پہنچ جاتا جہاں سے کئی بھینسے پھسل کر نیچے جا گرتے اور گرتے ہوئے بھیانک انداز میں ڈکارنے کی بلند آوازیں نکالتے۔ چونکہ وہاں وادی میں نزدیک ہی ایک ندی بھی تھی اس لیے مقامی باشندوں نے اس علاقے کو اپنی زبان میں ’’وادی کا وہ پانی جہاں بھینسے ڈکارتے ہیں‘‘ کہنا شروع کر دیا جو بعدازاں مختصر ہو کر ’ڈکارتا پانی‘ (Chugwater) رہ گیا۔افسوس کہ آج 21 ویں صدی میں ہم میں سے بہت سے لوگ اس طرح کی آوازیں اس وقت نکالتے ہیں جب انہیں بہت شدید پیاس لگی ہوئی ہو۔

[email protected]



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔