تھیلیسیمیا نے مزدورکے جواں سال بیٹے کی جان لے لی
شوگر مل میں کام کرنیوالے نیک دین کے مزید 4 بچے مرض میں مبتلا، علاج میں مدد کی اپیل
کھوسکی شوگر ملزکے مزدور نیک دین کے پانچوں بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔ فوٹو: فائل
کھوسکی میں غریب محنت کش کا تھیلیسیمیا میں مبتلا بچہ علاج نہ ہونے کے باعث انتقال کر گیا ۔
جبکہ اسی بیماری میں مبتلا اس کے مزید4 بچے حکومت اور مخیر حضرات سے علاج میں مدد کے منتظر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کھوسکی شوگر ملزکے مزدور نیک دین کے پانچوں بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں، اس نے اپنی تمام جمع پونجی بچوں کے علاج پر لگا دی تاہم اس کا 17 سالہ بیٹا ہدایت اللہ جمعرات کی شام انتقال کر گیا جبکہ اس کی جواں سال بیٹی بھی تھیلیسمیا کی بیماری میں زندگی کی جنگ ہار چکی ہے۔ نیک دین نے بتایا کہ بچوں کا ہر پندرہ دن کے بعد کراچی سے خون تبدیل کرانا پڑتا ہے۔
بچوں کے علاج کیلیے اس نے اپنا قیمتی پلاٹ اور گھر سمیت 50 لاکھ سے زائد مالیت کا سامان اور جائیداد فروخت کردی ہے اور اب اس پاس کچھ نہیں بچا، وہ 7000 روپے ماہانہ پر شوگر ملز میں مزدوری کرتا ہے۔ نیک دین نے وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بچوں کا سرکاری خرچ پر علاج کروایاجائے۔
جبکہ اسی بیماری میں مبتلا اس کے مزید4 بچے حکومت اور مخیر حضرات سے علاج میں مدد کے منتظر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کھوسکی شوگر ملزکے مزدور نیک دین کے پانچوں بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں، اس نے اپنی تمام جمع پونجی بچوں کے علاج پر لگا دی تاہم اس کا 17 سالہ بیٹا ہدایت اللہ جمعرات کی شام انتقال کر گیا جبکہ اس کی جواں سال بیٹی بھی تھیلیسمیا کی بیماری میں زندگی کی جنگ ہار چکی ہے۔ نیک دین نے بتایا کہ بچوں کا ہر پندرہ دن کے بعد کراچی سے خون تبدیل کرانا پڑتا ہے۔
بچوں کے علاج کیلیے اس نے اپنا قیمتی پلاٹ اور گھر سمیت 50 لاکھ سے زائد مالیت کا سامان اور جائیداد فروخت کردی ہے اور اب اس پاس کچھ نہیں بچا، وہ 7000 روپے ماہانہ پر شوگر ملز میں مزدوری کرتا ہے۔ نیک دین نے وزیراعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بچوں کا سرکاری خرچ پر علاج کروایاجائے۔