آئی سی سی محاذ پرہزیمت کے باوجود بھارت بازنہ آیا

’دہشتگردی‘پرتجویزردہونے کے فیصلے کاجائزہ لینے کیلیے7مارچ کواجلاس طلب

سیکریٹری بورڈ نے کونسل کو بھیجے خط کے مضمون سے ہی لاتعلقی اختیار کرلی فوٹو: فائل

آئی سی سی محاذ پر ہزیمت کے باوجود بھارت باز نہ آیا، 'دہشتگردی' پر تجویز رد ہونے کے فیصلے کا جائزہ لینے کیلیے7مارچ کو اجلاس طلب کرلیا، ادھر بی سی سی آئی کے سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے کونسل کو بھیجے خط کے مضمون سے ہی لاتعلقی اختیار کرلی،انھوں نے کہا کہ میں اس میں پاکستان کا ذکر نہ ہونے کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز اور چیف ایگزیکٹیو راہول جوہری کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کوایک خط لکھاگیا تھا،اس میں پاکستان کا نام لیے بغیر تجویز پیش کی گئی کہ جن ممالک میں دہشتگردی پنپ رہی ہے ان سے دوسرے ممبران کو کرکٹ تعلقات منقطع کردینے چاہئیں،مگر بھارت سے ہی تعلق رکھنے والے آئی سی سی کے چیئرمین ششانک منوہر نے یہ تجویز رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہمارا کام کرکٹ کی دیکھ بھال ہے، اس طرح کے معاملات حکومتی سطح پر دیکھے جانے چاہئیں۔


اس رسوائی کے بعد بی سی سی آئی کی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز نے 7 مارچ کو اجلاس طلب کرلیا جس میں آئی سی سی کے اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔ ادھر بھارتی بورڈ کے ہی ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ خط میں جو مطالبہ کیا گیا اس کے تسلیم ہونے کا ویسے ہی کوئی امکان نہیں تھا، آئی سی سی کے چیئرمین نے واضح کردیا کہ یہ چیزیں حکومتی سطح پر اٹھانا چاہئیں، بی سی سی آئی بھی اس بات کو جانتی تھی اس کے باوجود چانس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ادھر آئی سی سی کے اجلاس میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے خط کے مضمون سے لاتعلقی ظاہر کردی، جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں واضح طور پر پاکستان کا نام کیوں نہیں لیا گیا تو انھوں نے کہاکہ یہ خط میں نے نہیں لکھا، یہ بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹیو کی جانب سے لکھا گیا جس پر کونسل کے چیئرمین نے وضاحت کردی ہے، ویسے بھی ہمارا اصل مقصد ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کے سیکیورٹی خدشات تھے جس کو ختم کرانے کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔
Load Next Story