گلشن اقبال میں گارڈ نے ہی بینک کے 66 لاکر لوٹ لیے
گارڈاوراس کے 3ساتھیوں نے رات کی شفٹ کے گارڈزکو رسیوں سے باندھ کر لاکرز لوہے کی راڈ، سوئے،گیس کٹراورویلڈنگ سے کاٹے
پولیس کو اطلاع اتوار کی شام ساڑھے7 بجے بین منیجر نے دی،ڈکیت لاکرزمیں موجود بھاری مالیت کے طلائی زیور، دستاویزات، سامان اورگارڈزکااسلحہ لے کرفرار فوٹو:انٹرنیٹ
گلشن اقبال میں عسکری بینک میں نقب زنی کی واردات میں بینک کا سیکیورٹی گارڈ اپنے 3 ساتھیوں کے ہمراہ 66 لاکرزکاٹ کران میں موجود لاکھوں روپے کی نقدی، بھاری مالیت کے طلائی زیورات،قیمتی دستاویزات اور سامان لوٹ کر فرار ہوگئے، ملزمان بینک میں کے کلوزسرکٹ کیمروں کا ڈی وی آر اور رات کے سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ بھی اپنے ہمراہ لے گئے ہیں، پولیس کو بینک میں نقب زنی کی اطلاع اتوارکی شام ساڑھے 7 بجے بینک منیجر نے دی۔
تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال تھانے کی حدود گلشن اقبال بلاک 3 ڈسکو بیکری کے قریب عسکری بینک کی برانچ میں نقب زنی کی واردات کے دوران بینک کے سیکیورٹی گارڈ کاشف ولد سید انورعلی نے 3 ساتھیوں کے ہمراہ بینک کی دوسری منزل پر بنے لاکر روم میں 66 لاکرزکو لوہے کی لمبی راڈ ، سوئے،گیس کٹر اور ویلڈنگ کے سامان سے کاٹنے کے بعد لاکرزمیں موجود بھاری مالیت کے طلائی زیورات، قیمتی دستاویزات اور سامان لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس کو واردات کی اطلاع اتوار کی شام ساڑھے7 بجے بینک مینجر سید محمد اشرف زیدی نے دی جس پر پولیس حکام نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ، گلشن اقبال پولیس کے مطابق ایک شہری کی جانب سے عسکری بینک کے ہیڈ آفس میں اے ٹی ایم میشن بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
جس پر بینک کے ہیڈ آفس کی اطلاع پر بینک منیجر سید محمد اشرف زیدی بینک پہنچے بینک منیجر نے پولیس کو بتایا کہ وہ جب بینک پہنچے اوردروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا جس پر انھوں نے شیشے میں سے بینک کے اندر جھانک کردیکھا تو بینک کے گارڈ مختیارکے ہاتھ پیچھے کی جانب تھے جس پر انہیں شبہ ہوا کہ اور انھوں نے فوری طور پر سیکیورٹی کمپنی اور اپنے ہیڈ آفس کو اطلاع دی جس پر سیکیورٹی کمپنی اور پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے اوربینک کا دروازہ کھول کراندر داخل ہوئے تو سیکیورٹی گارڈ مختیارنے بتایا کہ رات سات بجے وہ اپنی ڈیوٹی پربینک آیا تو بینک میں داخل ہونے کے بعد دیکھا کہ اسٹورروم میں رات والا سیکیورٹی گارڈ اسلم زخمی حالت میں ہاتھ پیر بندھے پڑا ہے اسی دوران کاشف اور اس کے 3 ساتھیوں نے اسے بھی پکڑلیا اور اسٹور روم میں اسے بھی کرسی کے ساتھ باندھ دیا اورشورشرابہ کرنے پر اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
منیجر نے بتایا کہ وہ جب بینک کی پہلی منزل پر گئے تو دیکھا کہ لاکر روم کھلا ہوا تھا اور اندر لاکر روم میں 66 لاکر ٹوٹے ہوئے تھے اور ان میں رکھا سامان کاشف اور اس کے ساتھی لوٹ کر فرار ہوچکے تھے جبکہ سکیورٹی کمپنی کی ایک ٹی ٹی پستول اور ایک رپیٹر بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے، ایس پی گلشن اقبال طاہر احمد نورانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کی شام ساڑھے 7 بجے کے قریب مددگار15 سے اطلاع ملی تھی کہ بینک کی برانچ میں3 سیکیورٹی گارڈز کو باندھ کر چھوڑ دیا گیا ہے جب پولیس موقع پر پہنچی تو بینک منیجر اور سیکیورٹی کمپنی کے سپروائرز بھی موجود تھے اور انھوں نے بتایا کہ بینک میں دن کی ڈیوٹی کرنے والے گارڈ بندھے ہوئے ہیں۔
اس لیے وہ بینک میں داخل نہیں ہوئے پولیس کی موجودگی میں بینک کا دروازہ کھولا گیا اور جب بینک میں داخل ہوئے تو رات کی ڈیوٹی کرنے والے2 گارڈز کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور دوسری منزل پر شہریوں کے لاکرز ٹوٹے ہوئے تھے تھے انھوں نے بتایا کہ لاکرز کو لوہے کی بڑی راڈ اور نوکدار سوئے نما آلے سے توڑا گیا تھا پولیس کو4 سوئے اور دستانے ملے ہیں اور واردات میں گیس کٹر اور ویلڈنگ کا بھی استعمال کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر بینک کی بالائی منزل پر 84 لاکرز موجود تھے جن میں سے 66 لاکرز توڑے گئے ہیں۔
گارڈکاشف نے2013میں اسی طرح بینک سے 34لاکھ لوٹے
ایس پی طاہر احمد نورانی نے جائے وقوع پر گفتگو میں بتایا ہے کہ لاکرز روم کا مرکزی دروازہ لوہے کا تھا جسے ویلڈنگ کے ذریعے کاٹا گیا پولیس نے جائے واردات کے تمام شواہد اکٹھا کرلیے ہیں انھوں نے بتایا کہ واردات میں ملوث سیکیورٹی گارڈ ایک ماہ قبل سیکیورٹی کمپنی میں بھرتی ہوا تھا اور15دن ملزم نے اسی بینک کی کریم آباد برانچ میں ڈیوٹی کی15 روز قبل وہ دن کی ڈیوٹی کر رہا تھا۔
انھوں نے بتایاکہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیکیورٹی گارڈ کاشف اپنے4 ساتھیوں کے ہمراہ 2013 میں بھی نارتھ ناظم آباد کی بینک برانچ میں اسی طرح کی واردات کی جس میں 34 لاکھ روپے اورڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اس واردات میں بھی ملزمان جاتے ہوئے ڈی وی آر ساتھ لے گئے اور یو پی ایس سے چلنے والی اے ٹی ایم مشین کے تار بھی کاٹ دیے انھوں نے بتایاکہ بینک کا عملہ پولیس کو تمام معلومات فراہم کررہا ہے سیکیورٹی کمپنی کی بھی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں جیو فینسنگ اور فنگرپرنٹ بھی حاصل کر لیے گیئے ہیں ۔
بینک میں نقب زنی کا مقدمہ درج آئی جی نے رپورٹ طلب کرلی
گلشن اقبال پولیس نے گلشن اقبال میں عسکری بینک کی برانچ میں نقب زنی کی واردات کا مقدمہ 2019/128 بجرم دفعات392،337اے/34 کے تحت بینک منیجرکی مدعت میں سیکیورٹی گارڈ اوراس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے،علاوہ ازیں آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے گلشن اقبال میں عسکری بینک کی برانچ کے لاکرز توڑے جانے کے حوالے سے ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
بینک نے 4میں سے2گارڈکی معلومات دی،ایس پی
پولیس نے بینک برانچ میں تعینات سیکیورٹی گارڈ کی تفصیلات مانگی تھی لیکن بینک کی جانب سے4 گارڈ میں سے صرف2 سیکیورٹی گارڈ کی تفصیلات فراہم کی گئی تھی ،یہ بات ایس پی طاہر احمد نورانی نے گفتگو میں بتائی انھوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کمپنی کے پاس بھی واردات میں ملوث گارڈ کے حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں ہے ایس پی گلشن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ واردات میں ملوث سیکیورٹی گارڈ کاشف 4 سال جیل میں رہ کر آیا تھا 2017 میں ملزم جیل سے رہا ہوا اور رہا ہونے کے بعد اس نے سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت کی اور پھر بینک میں نقب زنی کی واردات کرلی انھوں نے بتایا کہ سیکیورٹی گارڈ کاشف کے خلاف شاہ فیصل ، شاہراہ فیصل اور نارتھ کراچی کے تھانوں میں 6 مقدمات درج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال تھانے کی حدود گلشن اقبال بلاک 3 ڈسکو بیکری کے قریب عسکری بینک کی برانچ میں نقب زنی کی واردات کے دوران بینک کے سیکیورٹی گارڈ کاشف ولد سید انورعلی نے 3 ساتھیوں کے ہمراہ بینک کی دوسری منزل پر بنے لاکر روم میں 66 لاکرزکو لوہے کی لمبی راڈ ، سوئے،گیس کٹر اور ویلڈنگ کے سامان سے کاٹنے کے بعد لاکرزمیں موجود بھاری مالیت کے طلائی زیورات، قیمتی دستاویزات اور سامان لوٹ کر فرار ہوگئے، پولیس کو واردات کی اطلاع اتوار کی شام ساڑھے7 بجے بینک مینجر سید محمد اشرف زیدی نے دی جس پر پولیس حکام نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ، گلشن اقبال پولیس کے مطابق ایک شہری کی جانب سے عسکری بینک کے ہیڈ آفس میں اے ٹی ایم میشن بند ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
جس پر بینک کے ہیڈ آفس کی اطلاع پر بینک منیجر سید محمد اشرف زیدی بینک پہنچے بینک منیجر نے پولیس کو بتایا کہ وہ جب بینک پہنچے اوردروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ نہیں کھلا جس پر انھوں نے شیشے میں سے بینک کے اندر جھانک کردیکھا تو بینک کے گارڈ مختیارکے ہاتھ پیچھے کی جانب تھے جس پر انہیں شبہ ہوا کہ اور انھوں نے فوری طور پر سیکیورٹی کمپنی اور اپنے ہیڈ آفس کو اطلاع دی جس پر سیکیورٹی کمپنی اور پولیس حکام موقع پر پہنچ گئے اوربینک کا دروازہ کھول کراندر داخل ہوئے تو سیکیورٹی گارڈ مختیارنے بتایا کہ رات سات بجے وہ اپنی ڈیوٹی پربینک آیا تو بینک میں داخل ہونے کے بعد دیکھا کہ اسٹورروم میں رات والا سیکیورٹی گارڈ اسلم زخمی حالت میں ہاتھ پیر بندھے پڑا ہے اسی دوران کاشف اور اس کے 3 ساتھیوں نے اسے بھی پکڑلیا اور اسٹور روم میں اسے بھی کرسی کے ساتھ باندھ دیا اورشورشرابہ کرنے پر اسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
منیجر نے بتایا کہ وہ جب بینک کی پہلی منزل پر گئے تو دیکھا کہ لاکر روم کھلا ہوا تھا اور اندر لاکر روم میں 66 لاکر ٹوٹے ہوئے تھے اور ان میں رکھا سامان کاشف اور اس کے ساتھی لوٹ کر فرار ہوچکے تھے جبکہ سکیورٹی کمپنی کی ایک ٹی ٹی پستول اور ایک رپیٹر بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے، ایس پی گلشن اقبال طاہر احمد نورانی نے صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کی شام ساڑھے 7 بجے کے قریب مددگار15 سے اطلاع ملی تھی کہ بینک کی برانچ میں3 سیکیورٹی گارڈز کو باندھ کر چھوڑ دیا گیا ہے جب پولیس موقع پر پہنچی تو بینک منیجر اور سیکیورٹی کمپنی کے سپروائرز بھی موجود تھے اور انھوں نے بتایا کہ بینک میں دن کی ڈیوٹی کرنے والے گارڈ بندھے ہوئے ہیں۔
اس لیے وہ بینک میں داخل نہیں ہوئے پولیس کی موجودگی میں بینک کا دروازہ کھولا گیا اور جب بینک میں داخل ہوئے تو رات کی ڈیوٹی کرنے والے2 گارڈز کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور دوسری منزل پر شہریوں کے لاکرز ٹوٹے ہوئے تھے تھے انھوں نے بتایا کہ لاکرز کو لوہے کی بڑی راڈ اور نوکدار سوئے نما آلے سے توڑا گیا تھا پولیس کو4 سوئے اور دستانے ملے ہیں اور واردات میں گیس کٹر اور ویلڈنگ کا بھی استعمال کیا گیا ہے انھوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر بینک کی بالائی منزل پر 84 لاکرز موجود تھے جن میں سے 66 لاکرز توڑے گئے ہیں۔
گارڈکاشف نے2013میں اسی طرح بینک سے 34لاکھ لوٹے
ایس پی طاہر احمد نورانی نے جائے وقوع پر گفتگو میں بتایا ہے کہ لاکرز روم کا مرکزی دروازہ لوہے کا تھا جسے ویلڈنگ کے ذریعے کاٹا گیا پولیس نے جائے واردات کے تمام شواہد اکٹھا کرلیے ہیں انھوں نے بتایا کہ واردات میں ملوث سیکیورٹی گارڈ ایک ماہ قبل سیکیورٹی کمپنی میں بھرتی ہوا تھا اور15دن ملزم نے اسی بینک کی کریم آباد برانچ میں ڈیوٹی کی15 روز قبل وہ دن کی ڈیوٹی کر رہا تھا۔
انھوں نے بتایاکہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیکیورٹی گارڈ کاشف اپنے4 ساتھیوں کے ہمراہ 2013 میں بھی نارتھ ناظم آباد کی بینک برانچ میں اسی طرح کی واردات کی جس میں 34 لاکھ روپے اورڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اس واردات میں بھی ملزمان جاتے ہوئے ڈی وی آر ساتھ لے گئے اور یو پی ایس سے چلنے والی اے ٹی ایم مشین کے تار بھی کاٹ دیے انھوں نے بتایاکہ بینک کا عملہ پولیس کو تمام معلومات فراہم کررہا ہے سیکیورٹی کمپنی کی بھی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں جیو فینسنگ اور فنگرپرنٹ بھی حاصل کر لیے گیئے ہیں ۔
بینک میں نقب زنی کا مقدمہ درج آئی جی نے رپورٹ طلب کرلی
گلشن اقبال پولیس نے گلشن اقبال میں عسکری بینک کی برانچ میں نقب زنی کی واردات کا مقدمہ 2019/128 بجرم دفعات392،337اے/34 کے تحت بینک منیجرکی مدعت میں سیکیورٹی گارڈ اوراس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے،علاوہ ازیں آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے گلشن اقبال میں عسکری بینک کی برانچ کے لاکرز توڑے جانے کے حوالے سے ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی ایسٹ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
بینک نے 4میں سے2گارڈکی معلومات دی،ایس پی
پولیس نے بینک برانچ میں تعینات سیکیورٹی گارڈ کی تفصیلات مانگی تھی لیکن بینک کی جانب سے4 گارڈ میں سے صرف2 سیکیورٹی گارڈ کی تفصیلات فراہم کی گئی تھی ،یہ بات ایس پی طاہر احمد نورانی نے گفتگو میں بتائی انھوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کمپنی کے پاس بھی واردات میں ملوث گارڈ کے حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں ہے ایس پی گلشن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ واردات میں ملوث سیکیورٹی گارڈ کاشف 4 سال جیل میں رہ کر آیا تھا 2017 میں ملزم جیل سے رہا ہوا اور رہا ہونے کے بعد اس نے سیکیورٹی کمپنی میں ملازمت کی اور پھر بینک میں نقب زنی کی واردات کرلی انھوں نے بتایا کہ سیکیورٹی گارڈ کاشف کے خلاف شاہ فیصل ، شاہراہ فیصل اور نارتھ کراچی کے تھانوں میں 6 مقدمات درج ہیں۔