پاک بھارت جامع مذاکرات
پاکستان نے بھارت کو جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے تاریخیں تجویز کر دی ہیں تا کہ تصفیہ طلب مسائل حل کیے جا سکیں۔
پاکستان نے بھارت کو جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے تاریخیں تجویز کر دی ہیں تا کہ تصفیہ طلب مسائل حل کیے جا سکیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان نے بھارت کو جامع مذاکرات کی بحالی کے لیے تاریخیں تجویز کر دی ہیں تا کہ تصفیہ طلب مسائل حل کیے جا سکیں۔ اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ جامع مذاکرات کے آٹھ معاملات میں سے دو کے لیے تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جن میں سے ایک وولر بیراج اور دوسرا سرکریک کا معاملہ ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بھارت نے ابھی تک ان مجوزہ تاریخوں کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔
انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ بھارت بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی مجوزہ تاریخیں سامنے لے آئے۔اس بارے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے پڑوسی ممالک میں اگر پر امن تعلقات قائم نہ ہوں تو اس میں دونوں کا خسارہ ہوتا ہے۔ یورپی ممالک نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سیکڑوں سال کے باہمی جنگ و جدل کے بعد بالٓاخر تمام ممالک کو یورپی یونین میں اکٹھا کر لیا، اپنی کرنسی مشترک کر لی، سرحدوں کو کھول دیا اور اس طرح ان کی تعمیر و ترقی کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ اسی نہج پر اگر جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی اپنے اختلافات پر قابو پاتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو اس بدقسمت خطے کی قسمت بھی بدل سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت میں جہاں کچھ لوگ باہمی تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں وہاں ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں جو تعلقات کو بدستور کشیدہ رکھنے کے حق میں ہیں اور جب بھی تعلقات میں بہتری کی کوئی شکل پیدا ہوتی ہے کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جاتا ہے اور سب کیا دھرا خاک میں مل جاتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنمائوں نے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور توقع ہے کہ دونوں ممالک جامع مذاکرات بلاتعطل شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ٹریک ٹو سفارت کاری شروع کر دی ہے اور توقع ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
اعزاز احمد نے امید ظاہر کی کہ دوسری جانب سے بھی پاکستان جیسے جذبے کا اظہار کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایسے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت جامع مذاکرات کی بحالی پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے تو اس حوالے سے تاریخیں بھی تجویز کر دی ہیں۔ اب بھارت کو اس معاملے میں تاخیر نہ کرتے ہوئے فوری طور پر جامع مذاکرات کی بحالی کی تاریخ مقرر کرنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک اپنے متنازعہ معاملات پر بات چیت کریں اور انھیں حل کرنے کا کوئی راستہ سامنے آ سکے۔
انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ بھارت بھی مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی مجوزہ تاریخیں سامنے لے آئے۔اس بارے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے پڑوسی ممالک میں اگر پر امن تعلقات قائم نہ ہوں تو اس میں دونوں کا خسارہ ہوتا ہے۔ یورپی ممالک نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سیکڑوں سال کے باہمی جنگ و جدل کے بعد بالٓاخر تمام ممالک کو یورپی یونین میں اکٹھا کر لیا، اپنی کرنسی مشترک کر لی، سرحدوں کو کھول دیا اور اس طرح ان کی تعمیر و ترقی کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ اسی نہج پر اگر جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک بھی اپنے اختلافات پر قابو پاتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تو اس بدقسمت خطے کی قسمت بھی بدل سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت میں جہاں کچھ لوگ باہمی تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں وہاں ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں جو تعلقات کو بدستور کشیدہ رکھنے کے حق میں ہیں اور جب بھی تعلقات میں بہتری کی کوئی شکل پیدا ہوتی ہے کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جاتا ہے اور سب کیا دھرا خاک میں مل جاتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنمائوں نے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور توقع ہے کہ دونوں ممالک جامع مذاکرات بلاتعطل شروع کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ٹریک ٹو سفارت کاری شروع کر دی ہے اور توقع ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔
اعزاز احمد نے امید ظاہر کی کہ دوسری جانب سے بھی پاکستان جیسے جذبے کا اظہار کیا جائے گا۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایسے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت جامع مذاکرات کی بحالی پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے تو اس حوالے سے تاریخیں بھی تجویز کر دی ہیں۔ اب بھارت کو اس معاملے میں تاخیر نہ کرتے ہوئے فوری طور پر جامع مذاکرات کی بحالی کی تاریخ مقرر کرنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک اپنے متنازعہ معاملات پر بات چیت کریں اور انھیں حل کرنے کا کوئی راستہ سامنے آ سکے۔