بھارت کے ساتھ ساتھ ناراض ہم وطنوں سے بھی بات کیجیے

ہمارے وہ نوجوان بھی محب وطن ہیں جواپنے حقوق کی بات کررہے ہیں لیکن ہم انہیں غدار ثابت کرنے پرتلے ہوئے ہیں

ہمارے وہ نوجوان بھی محب وطن ہیں جواپنے حقوق کی بات کررہے ہیں لیکن ہم انہیں غدار ثابت کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت نے جس بلوغت کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری قوم کو ایک نیا ولولہ عطا کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ثابت کیا کہ اندرونی اختلافات اپنی جگہ مگر دشمن کے خلاف پوری پاکستانی قوم یک زبان اور متحد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے برصغیر پر 764 سال تک حکمرانی کی مگر انہوں نے کبھی ہندوؤں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا۔ اگر مسلمان حکمران تعصب کا مظاہرہ کرتے تو آج بھارت میں ہندو دیکھنے کو بھی نہیں ملتے۔ مسلمان جب بھی یک جان ہوکر دشمن کے خلاف نکلے ہیں تو کامیابی ان کی مقدر بنی ہے۔

پاکستان کی مسلح افراد نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ جنگ باتوں سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی اور ہمت سے لڑی جاتی ہے؛ اور اس وقت پوری پاکستانی قوم اپنے ملک کی مسلح افواج پر فخر محسوس کرہی ہے۔

بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے پاکستان کو حقیر نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔ وہ شاید اپنی تعداد کو دیکھ کر یہ بھول گئے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے کبھی تعداد پر اکتفا نہیں کی، اور اپنے سے کئی گنا زیادہ قوتوں کو شکست دی ہے۔ یہاں میں اس بات کا بھی تذکرہ کرتا چلوں کہ پاکستان میں رہنے والے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہہ رے ہیں کہ ہندوستانی اور پاکستانی ''بھائی بھائی'' ہیں اور جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔ ہم بے شک امن چاہتے ہیں لیکن ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے طور طریقے بھی یکسر جدا ہیں۔ اگر یہ واقعی ایک ہی قوم ہوتے تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟ مودی سرکار اپنے ملک میں موجود عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کےلیے ہم پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ کیسی سوچ ہے کہ اپنے چند سالہ اقتدار کےلیے پورے خطے میں جنگ میں دھکیل دیاجائے؟

پاکستانی حکومت روز اول سے امن کی بات کررہی ہے۔ بھارتی پائلٹ کی رہائی کے بعد بھی بھارت اگر جنگی جنون میں مبتلا رہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرے تو یہی ''امن کی فاختائیں'' جو ہاتھوں میں ''موم بتیاں'' لیے اِدھر اُدھر مارچ کرتی نظر آتی ہیں، ان کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ امن کا مخالف کوئی بھی نہیں لیکن ملک کی عزت و حمیت کی قیمت پر امن کی بات نہیں کی جاسکتی۔


یہاں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ اب بھارت سے بھی اس طرح کی آوازیں آرہی ہیں کہ مودی سرکار پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ ان کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ حملہ ایک ڈرامہ تھا اور نریندر مودی انتخابات میں کامیابی کےلیے ہر حربہ اختیار کررہے ہیں۔ جہاں اس وقت بھارت میں سیاسی جماعتیں تقسیم ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حکومت سے شدید اختلاف رکھنے کے باوجود عمران خان کے ہر مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے سیاستدان بھارتی سیاستدانوں سے زیادہ ہوش مندی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی کے دوران ہماری سیاسی جماعتوں نے جو کردار ادا کیا ہے، اس کے بعد اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ملک کے اندر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند کیے جائیں اور رہنماؤں کو سیکیورٹی رسک قرار دے ان کی تذلیل نہ کی جائے۔ ہمارا ہر رہنما محب وطن ہے۔ ہمارے وہ نوجوان بھی وطن سے محبت کرتے ہیں جو اپنے حقوق کی بات کررہے ہیں، لیکن ہم انہیں غدار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے، لیکن انہیں ملک دشمن قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ آپ جہاں بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہیں آپ ملک کے اندر موجود ان لوگوں سے بھی بات کیجیے جنہیں مختلف معاملات پر تحفظات ہیں۔ اتحاد اور یکجہتی کا جو مظاہرہ آج دیکھنے میں آرہا ہے، اسے بعد میں بھی جاری رہنا چاہیے۔

ڈائیلاگ اس ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

حکومت کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانا چاہیے اور جس طرح پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے تمام جماعتوں نے ایک مؤقف اختیار کیا ہے، اسی طرح تمام معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ ملک میں لاپتا افراد کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا ہے۔ ہمیں یہ طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ اس موضوع پر بات کرنا ہی ملک دشمنی کہلائے۔ جو لوگ لاپتا ہوئے ہیں، وہ بھی ہمارے ہی بھائی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں آگئے ہوں؛ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم انہیں گلے لگائیں اور اگر انہوں نے کچھ غلط بھی کیا ہے تو انہیں معاف کرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھا جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Load Next Story