ووڈہل پاکستانی بیٹنگ کوچ بننے کا خواب دیکھنے لگے
سابق کھلاڑیوں کے اعتراضات کے باوجود میں نے پاکستانی پلیئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردارادا کیا، ٹرینٹ ووڈ ہل
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیمپئنز ٹرافی سے قبل مختصر مدت کیلیے ٹرینٹ ووڈ ہل کو بیٹنگ کوچ مقرر کیا تھا ۔ فوٹو : فائل
ٹرینٹ ووڈ ہل پھر سے پاکستان ٹیم کا بیٹنگ کوچ بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیمپئنز ٹرافی سے قبل مختصر مدت کیلیے ٹرینٹ ووڈ ہل کو بیٹنگ کوچ مقرر کیا تھا، جس پر سابق کرکٹرز نے شدید تنقید کی، بعض نے تو سڈنی کے گریڈ کرکٹر کے نام تک سے لاعلمی ظاہر کی تھی، ان کی کوچنگ میں گرین شرٹس بیٹنگ تک کرنا بھول گئے جس کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی میں ایک بھی فتح ہاتھ نہیں آئی تھی،اس کے باوجود ووڈ ہل دوبارہ پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سابق کھلاڑیوں کے اعتراضات کے باوجود میں نے پاکستانی پلیئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردارادا کیا، میری تقرری انتخاب عالم نے مشتاق احمد کی سفارش پر کی تھی، ڈیو واٹمور کو اس بارے میں کچھ کہنے کا اختیار نہیں تھا لیکن میں نے ان کے ساتھ بہترکا م کیا، وہ بہترین کوچ ہیں اور میں جلد ہی ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کیلیے پُراعتماد ہوں، آئندہ برس کے آغاز میں ورلڈ ٹوئنٹی20 کے موقع پر میں پاکستان ٹیم کو دوبارہ جوائن کرسکتا ہوں، ویسے بھی پاکستان کو آئندہ موسم گرما میں یہاںآنا ہے پھرورلڈ کپ بھی شیڈول ہے۔ ٹرینٹ ووڈ نے کہا کہ کسی بھی ایونٹ کی تیاریوں کیلیے غیرملکی کوچ زیادہ بہتر رہتا کیونکہ وہ جذبات کے بجائے دماغ سے کام لیتا ہے، میں پاکستانی پلیئرز اور کوچ سے بہت متاثر ہوا، بولنگ کوچ محمد اکرم ایک عظیم شخص ہیں، انھیں زیادہ وقت ملے تو کئی نئے فاسٹ بولرز متعارف کرا سکتے ہیں۔ ووڈ ہل نے مزید کہا کہ میں اب بھی پاکستانی ٹیم کے میچ دیکھتا ہوں، مجھے ویسٹ انڈیز میں کامیابی سے کافی خوشی ہوئی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چیمپئنز ٹرافی سے قبل مختصر مدت کیلیے ٹرینٹ ووڈ ہل کو بیٹنگ کوچ مقرر کیا تھا، جس پر سابق کرکٹرز نے شدید تنقید کی، بعض نے تو سڈنی کے گریڈ کرکٹر کے نام تک سے لاعلمی ظاہر کی تھی، ان کی کوچنگ میں گرین شرٹس بیٹنگ تک کرنا بھول گئے جس کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی میں ایک بھی فتح ہاتھ نہیں آئی تھی،اس کے باوجود ووڈ ہل دوبارہ پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سابق کھلاڑیوں کے اعتراضات کے باوجود میں نے پاکستانی پلیئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردارادا کیا، میری تقرری انتخاب عالم نے مشتاق احمد کی سفارش پر کی تھی، ڈیو واٹمور کو اس بارے میں کچھ کہنے کا اختیار نہیں تھا لیکن میں نے ان کے ساتھ بہترکا م کیا، وہ بہترین کوچ ہیں اور میں جلد ہی ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کیلیے پُراعتماد ہوں، آئندہ برس کے آغاز میں ورلڈ ٹوئنٹی20 کے موقع پر میں پاکستان ٹیم کو دوبارہ جوائن کرسکتا ہوں، ویسے بھی پاکستان کو آئندہ موسم گرما میں یہاںآنا ہے پھرورلڈ کپ بھی شیڈول ہے۔ ٹرینٹ ووڈ نے کہا کہ کسی بھی ایونٹ کی تیاریوں کیلیے غیرملکی کوچ زیادہ بہتر رہتا کیونکہ وہ جذبات کے بجائے دماغ سے کام لیتا ہے، میں پاکستانی پلیئرز اور کوچ سے بہت متاثر ہوا، بولنگ کوچ محمد اکرم ایک عظیم شخص ہیں، انھیں زیادہ وقت ملے تو کئی نئے فاسٹ بولرز متعارف کرا سکتے ہیں۔ ووڈ ہل نے مزید کہا کہ میں اب بھی پاکستانی ٹیم کے میچ دیکھتا ہوں، مجھے ویسٹ انڈیز میں کامیابی سے کافی خوشی ہوئی۔