عدالتی حکم امتناع کے باعث پی او اے کا اجلاس ملتوی

ی ایچ ایف کی عدم دلچسپی کے باعث قومی ہاکی ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے،صدر پی او اے

نجانے کیوں پاکستان ہاکی فیڈریشن جان بوجھ کر ان کھیلوں سے دور رہنا چاہتی ہے، عارف حسن۔ فوٹو : فائل

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (عارف حسن گروپ) کی جنرل کونسل کا گزشتہ روز کا اجلاس ہائی کورٹ کی طرف سے حکم امتناع کے باعث ملتوی ہو گیا۔

ملک بھر کی کھیلوں کی فیڈریشنزکے نمائندے اور پی او اے کے عہدیداران مقامی ہوٹل پہنچے تو پی او اے کے صدر جنرل (ر) عارف حسن نے متفقہ فیصلہ کے بعد اجلاس کو موخر کرنے کا اعلان کردیا۔

ذرائع کے مطابق 102 میں سے 78 ارکان اجلاس میں شرکت کے لیے لاہورآئے لیکن افطارکرنے کے بعد اپنے شہروں کو لوٹنا پڑا۔ عارف حسن کا کہنا ہے کہ فیصلے کا احترام کرتے ہیں تاہم معزز عدالت کو اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کیلیے پیر کو جواب داخل کریں گے۔




پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی او اے نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا،اب ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ لاہور ہائی کورٹ کو صحیح صورتحال سے آگاہ کیے بغیر اجلاس کیخلاف حکم امتناع حاصل کرلیا گیا ہے، ہمیں ابھی حکم امتناع کی کوئی کاپی نہیں ملی ہے لیکن پھر بھی عدالت کا احترام کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیاکہ اجلاس کو موخر کردیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پیر کے روز عدالت کو اصل حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے گا اور حکم امتناعی کو خارج کرنے کی درخواست کی جائے گی،اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ایک سوال پر صدر پی او اے نے کہاکہ پی ایچ ایف کی عدم دلچسپی کے باعث قومی ہاکی ٹیم کی کامن ویلتھ گیمز میں شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اولمپک ایسوسی ایشن نے متعدد بار ہاکی حکام سے ٹیم کی شرکت کے حوالے سے پوچھا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا، وہ اگر اب بھی میگا ایونٹ میں شرکت کی خواہاں ہے تو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے پاس اس کی تصدیق کر دے تاکہ ہم کامن ویلتھ گیمز انتظامیہ کو مطلع کرسکے، گرین شرٹس ایونٹ میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ ،ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے خلاف کھیل کر 2016 اولمپک گیمز کی بھرپور تیاری کر سکتے ہیں، نجانے کیوں پاکستان ہاکی فیڈریشن جان بوجھ کر ان کھیلوں سے دور رہنا چاہتی ہے۔ ایک سوال پر عارف حسن نے کہا کہ جنرل اکرم ساہی کی پی او اے کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے غیر قانونی قرار دیا ہے، پاکستان اسپورٹس بورڈ اس گروپ کی سرپرستی کرنا بند کر دے تو معاملہ حل ہو سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھ چکے ہیں ،امید ہے کہ کھیلوں کی دلدادہ شخصیت کی طرف سے مثبت جواب آئے گا۔
Load Next Story