وزیر اعظم پاکستان کی سعودی فرمانروا سے ملاقات
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ہفتے کو سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ہفتے کو سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ فوٹو: اے پی پی
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ہفتے کو سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ میاں محمد نواز شریف جو عمرے کی ادائیگی کے لیے نجی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں' انھوں نے رات گئے شاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔ اس دورے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے صاحبزادہ حسین نواز بھی ہمراہ تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق شاہ عبداللہ نے نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ وزیر اعظم نے نیک جذبات کے اظہار اور سعودی عرب میں اپنے نجی قیام کے دوران شاندار خیرمقدم اور مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک خاص اہمیت ہے اور پاکستان ہر مشکل کے وقت میں امید بھری نظروں سے سعودی عرب کی طرف ہی دیکھتا ہے اور بالعموم یہ امیدیں بر ہی آتی رہی ہیں۔ گووزیراعظم پاکستان نجی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں لیکن اس وقت پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے،اس کے تناظر میں یہ قوی امکان ہے کہ وزیراعظم اور شاہ عبداﷲ کے مابین ان معاملات پر گفتگو ہوئی ہو۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے عفریت نے بھی صورت حالات کو نہایت گمبھیر بنا رکھا ہے۔ پاکستان ایران سے گیس لینا چاہتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ بھی طے پا چکا ہے،لیکن اس پر ابھی کام ہونا باقی ہے، امریکا کو اس پر تحفظات ہیں۔ادھرپاکستان کو توانائی اور مالی امداد کی فوری ضرورت ہے، لہٰذا کوئی بعید نہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ اس موضوع پر بھی بات ہو۔
سعودی عرب ماضی میں کئی مواقع پر پاکستان کو مفت تیل فراہم کرتا رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وزیر اعظم ان سے اس دیرینہ روایت کے دہرائے جانے کی اپیل کر دیں۔ پاکستان میں اگرچہ گزشتہ روز قدرتی وسائل اور پیٹرولیم کے وفاقی وزیر خاقان عباسی نے بڑے موثق انداز میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایران گیس منصوبے کو ختم نہیں کرے گا بلکہ اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا، گو کہ انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس منصوبے میں کچھ مسائل اور پیچیدگیاں ضرور موجود ہیں کیونکہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عاید ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کے لیے دہری مصیبت پیدا ہو گئی ہے چنانچہ حکومت نے ایک طرف تو ایرانی گیس ٹیرف پر ایران کے ساتھ دوبارہ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہاں اس بات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایرانی گیس کے بہانے کہیں پاکستان خود بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں نہ آ جائے۔ چنانچہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں صرف سعودی عرب جیسا عظیم برادر ملک ہی پاکستان کو اس مشکل سے نکلنے کی راہ سمجھا سکتا ہے۔
سعودی فرمانروا سے ملاقات کے حوالے سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ، ان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے مکمل اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تمام سطحوں پر شاندار تعلقات ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بھائی چارے کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی اور عالمی معاملات پر یکساں نکتہ نظر پایا جاتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات سیاسی اتار چڑھائو پر مبنی نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی اور ہر سعودی شہری کے دل میں بستے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا الفاظ سے زیادہ عملی طور پر خیال رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں۔
میاں محمد نواز شریف کی شاہ عبداللہ سے ملاقات میں مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں کے حل، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔میاں محمد نوازشریف نے اپنے اس نجی دورے میں سعودی ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی مکہ مکرمہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں ایک منفرد کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلے ضروری ہیں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔
یوں دیکھا جائے تو بظاہر وزیراعظم عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب گئے تاہم اس نجی دورے میں اہم امور بھی زیر بحث آئے ہیں۔سعودی قیادت کی طرف امید افزابیان سامنے آئے ہیں جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ایسے وقت میں سعودی عرب پہنچے ہیں جب مصر میں شدید خلفشار پیدا ہو چکا ہے جب کہ شام میں خانہ جنگی جاری ہے' سعودی عرب ان دونوں ملکوں میں پیدا شدہ بحران سے متاثر ہو رہاہے اور پاکستان کے لیے بھی خارجہ سطح پر پیچیدگی موجودہے۔ اس لیے یہ امکان ہے کہ وزیراعظم کے دورہ میں مشرق وسطیٰ کے بحران پر بھی بات ہو گی اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت بھی زیر بحث آئے گی کیونکہ طالبان اور کرزئی انتظامیہ کے مابین جو مذاکرات ہونے کی باتیں ہورہی ہیں، ان میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے۔ عالمی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو وزیراعظم میاں نواز شریف کا دورہ سعودی عرب خاصی اہمیت کا حامل ہو گا اور اس کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی ایک خاص اہمیت ہے اور پاکستان ہر مشکل کے وقت میں امید بھری نظروں سے سعودی عرب کی طرف ہی دیکھتا ہے اور بالعموم یہ امیدیں بر ہی آتی رہی ہیں۔ گووزیراعظم پاکستان نجی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں لیکن اس وقت پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے،اس کے تناظر میں یہ قوی امکان ہے کہ وزیراعظم اور شاہ عبداﷲ کے مابین ان معاملات پر گفتگو ہوئی ہو۔ پاکستان میں توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے عفریت نے بھی صورت حالات کو نہایت گمبھیر بنا رکھا ہے۔ پاکستان ایران سے گیس لینا چاہتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ بھی طے پا چکا ہے،لیکن اس پر ابھی کام ہونا باقی ہے، امریکا کو اس پر تحفظات ہیں۔ادھرپاکستان کو توانائی اور مالی امداد کی فوری ضرورت ہے، لہٰذا کوئی بعید نہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ اس موضوع پر بھی بات ہو۔
سعودی عرب ماضی میں کئی مواقع پر پاکستان کو مفت تیل فراہم کرتا رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ وزیر اعظم ان سے اس دیرینہ روایت کے دہرائے جانے کی اپیل کر دیں۔ پاکستان میں اگرچہ گزشتہ روز قدرتی وسائل اور پیٹرولیم کے وفاقی وزیر خاقان عباسی نے بڑے موثق انداز میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایران گیس منصوبے کو ختم نہیں کرے گا بلکہ اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا، گو کہ انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس منصوبے میں کچھ مسائل اور پیچیدگیاں ضرور موجود ہیں کیونکہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عاید ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کے لیے دہری مصیبت پیدا ہو گئی ہے چنانچہ حکومت نے ایک طرف تو ایرانی گیس ٹیرف پر ایران کے ساتھ دوبارہ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہاں اس بات کی بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایرانی گیس کے بہانے کہیں پاکستان خود بھی اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں نہ آ جائے۔ چنانچہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں صرف سعودی عرب جیسا عظیم برادر ملک ہی پاکستان کو اس مشکل سے نکلنے کی راہ سمجھا سکتا ہے۔
سعودی فرمانروا سے ملاقات کے حوالے سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں ، ان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے مکمل اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تمام سطحوں پر شاندار تعلقات ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بھائی چارے کا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی اور عالمی معاملات پر یکساں نکتہ نظر پایا جاتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات سیاسی اتار چڑھائو پر مبنی نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی اور ہر سعودی شہری کے دل میں بستے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا الفاظ سے زیادہ عملی طور پر خیال رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں۔
میاں محمد نواز شریف کی شاہ عبداللہ سے ملاقات میں مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں کے حل، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔میاں محمد نوازشریف نے اپنے اس نجی دورے میں سعودی ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی مکہ مکرمہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات کی سطح پر اطمینان کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا کہ سعودی عرب اسلامی دنیا میں ایک منفرد کردار ادا کر رہا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلے ضروری ہیں۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔
یوں دیکھا جائے تو بظاہر وزیراعظم عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب گئے تاہم اس نجی دورے میں اہم امور بھی زیر بحث آئے ہیں۔سعودی قیادت کی طرف امید افزابیان سامنے آئے ہیں جو ایک اچھی پیش رفت ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف ایسے وقت میں سعودی عرب پہنچے ہیں جب مصر میں شدید خلفشار پیدا ہو چکا ہے جب کہ شام میں خانہ جنگی جاری ہے' سعودی عرب ان دونوں ملکوں میں پیدا شدہ بحران سے متاثر ہو رہاہے اور پاکستان کے لیے بھی خارجہ سطح پر پیچیدگی موجودہے۔ اس لیے یہ امکان ہے کہ وزیراعظم کے دورہ میں مشرق وسطیٰ کے بحران پر بھی بات ہو گی اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت بھی زیر بحث آئے گی کیونکہ طالبان اور کرزئی انتظامیہ کے مابین جو مذاکرات ہونے کی باتیں ہورہی ہیں، ان میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے۔ عالمی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو وزیراعظم میاں نواز شریف کا دورہ سعودی عرب خاصی اہمیت کا حامل ہو گا اور اس کے دونوں ملکوں کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔