انٹرپول کا انتباہ
انٹرپول نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان، عراق، لیبیا سمیت 9 ممالک میں جیلیں توڑنے میں القاعدہ ملوث ہوسکتی ہے
پاکستان، عراق، لیبیا سمیت 9 ممالک میں جیلیں توڑنے میں القاعدہ ملوث ہوسکتی ہے،انٹرپول فوٹو رائٹرز
انٹرپول نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان، عراق، لیبیا سمیت 9 ممالک میں جیلیں توڑنے میں القاعدہ ملوث ہوسکتی ہے۔اس نے اپنے رکن ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر دہشت گردی سے متعلق معلومات پر کارروائی کریں۔ فرانس کے شہر لیون سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان جیلوں پر حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے جن میں کئی دہشت گرد اور دوسرے جرائم پیشہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اسی بیان کے ذریعے انٹرپول نے اپنے 190 ارکان سے تعاون کی درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کا تعین کر کے بتائیں کہ کیا یہ سب حالیہ واقعات سلسہ وار ہیں اور کیا ان سب میں کوئی ربط پایا جاتا ہے یا نہیں۔ انٹرپول نے رکن ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ ان تمام فرار ہونے والے قیدیوں کے بارے میں ملنے والی کسی قسم کی معلومات تیزی سے زیر کارروائی لائیں۔ انٹرپول نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ان قیدیوں کے بارے میں ملنے والی تمام معلومات کو جلد از جلد انٹرپول جنرل سیکریٹریٹ کے علم میں لائیں تاکہ کسی بھی قسم کے نئے دہشتگردی کے حملے کو روکا جا سکے۔
انٹرپول کی وارننگ یا انتباہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے' جیلیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میںبھی ٹوٹ رہی ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کے الزامات میں ملوث افراد فرار ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد بھی فرار ہو جاتے ہیں' انٹرپول نے پاکستان سمیت 9 ملکوں میں جیلیں توڑنے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا جوشبہ ظاہر کیا ہے' اس میں وزن موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا میں بنوں جیل پر حملہ ہوا ' یہاں سے بھی متعدد قیدی فرار ہوئے اور ان میں عدنان رشید بھی شامل تھا' یہ سارے مفرور وزیرستان میں روپوش ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ بنوں جیل پر جب حملہ ہوا' اس وقت ملک پر پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت تھی جب کہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی حکومت کر رہی تھی' ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس واقعے سے سبق سیکھا جاتا اور اس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوتی اور کوتاہی کے مرتکب سرکاری عمال کو ملازمتوں سے برخاست کر کے انھیں جرم کے مطابق قانون میں درج سزا دی جاتی۔
سیاسی سطح پر بھی اگر کوئی قوت ملوث پائی جاتی تو اس سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا لیکن ہوا یہ کہ اس واقعے کو بھلا دیا گیا۔مرکزی حکومت نے توجہ دی نہ صوبائی حکومت متحرک ہوئی۔ یوں یہ واقعہ ماضی بن گیا۔ اس لاپرواہی اور بھول جانے کے کلچر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ ہو گیا اور یہاں سے بھی دہشت گردی میں ملوث کئی خطر ناک ملزم فرار ہو گئے۔ اس واقعے میں لاپروائی اور کوتاہی کا لیول بنوں جیل واقعے سے کہیں اونچا ہے۔
یہاں خفیہ اداروں نے متعلقہ حکام کو حملے سے دو تین روز قبل آگاہ کر دیا تھا' اس کے باوجود انتظامیہ نے ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا' اب اس حملے کو بھی کئی روز گزر چکے ہیں لیکن حکومت خاموش ہے' صرف سیاسی نمبر بنانے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں' اب ملک میں وفاقی سطح پر مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے۔ ابھی تک اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کوئی اعلیٰ سطح پر کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکا حتیٰ کہ انٹرپول کی طرف سے انتباہ آ گیا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اب اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا ہو گا' ملک کی دوسری جیلوں پر حملے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس امر کا خدشہ موجود ہے کہ کہیں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی تاریخ سندھ یا پنجاب میں بھی دہرا نہ دی جائے۔حالات کا تقاضا یہ ہے کہ دہشت گردی کو ثانوی مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ مرکزی اور بنیادی مسئلہ ہے کیونکہ اس معاملے سے ملک کی خارجہ اور داخلی ترجیحات کا تعین ہونا ہے۔ ملک اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے اور مزید کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انٹرپول کی وارننگ یا انتباہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے' جیلیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میںبھی ٹوٹ رہی ہیں اور وہاں سے دہشت گردی کے الزامات میں ملوث افراد فرار ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد بھی فرار ہو جاتے ہیں' انٹرپول نے پاکستان سمیت 9 ملکوں میں جیلیں توڑنے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا جوشبہ ظاہر کیا ہے' اس میں وزن موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا میں بنوں جیل پر حملہ ہوا ' یہاں سے بھی متعدد قیدی فرار ہوئے اور ان میں عدنان رشید بھی شامل تھا' یہ سارے مفرور وزیرستان میں روپوش ہوئے ہیں اور ان میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ بنوں جیل پر جب حملہ ہوا' اس وقت ملک پر پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت تھی جب کہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی حکومت کر رہی تھی' ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس واقعے سے سبق سیکھا جاتا اور اس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوتی اور کوتاہی کے مرتکب سرکاری عمال کو ملازمتوں سے برخاست کر کے انھیں جرم کے مطابق قانون میں درج سزا دی جاتی۔
سیاسی سطح پر بھی اگر کوئی قوت ملوث پائی جاتی تو اس سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا لیکن ہوا یہ کہ اس واقعے کو بھلا دیا گیا۔مرکزی حکومت نے توجہ دی نہ صوبائی حکومت متحرک ہوئی۔ یوں یہ واقعہ ماضی بن گیا۔ اس لاپرواہی اور بھول جانے کے کلچر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ ہو گیا اور یہاں سے بھی دہشت گردی میں ملوث کئی خطر ناک ملزم فرار ہو گئے۔ اس واقعے میں لاپروائی اور کوتاہی کا لیول بنوں جیل واقعے سے کہیں اونچا ہے۔
یہاں خفیہ اداروں نے متعلقہ حکام کو حملے سے دو تین روز قبل آگاہ کر دیا تھا' اس کے باوجود انتظامیہ نے ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کیا' اب اس حملے کو بھی کئی روز گزر چکے ہیں لیکن حکومت خاموش ہے' صرف سیاسی نمبر بنانے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں' اب ملک میں وفاقی سطح پر مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے۔ ابھی تک اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے کوئی اعلیٰ سطح پر کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکا حتیٰ کہ انٹرپول کی طرف سے انتباہ آ گیا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اب اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنا ہو گا' ملک کی دوسری جیلوں پر حملے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس امر کا خدشہ موجود ہے کہ کہیں بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی تاریخ سندھ یا پنجاب میں بھی دہرا نہ دی جائے۔حالات کا تقاضا یہ ہے کہ دہشت گردی کو ثانوی مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ مرکزی اور بنیادی مسئلہ ہے کیونکہ اس معاملے سے ملک کی خارجہ اور داخلی ترجیحات کا تعین ہونا ہے۔ ملک اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے اور مزید کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔