شفیع محمد مشکل کردار بھی خوبصورتی سے ادا کرتے تھے

حصول تعلیم کے بعد ملازمت تلاش کررہے تھے انور سولنگی نے ریڈیو پر متعارف کرادیا

شفیع محمد کو فلموں میں کام کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور یہی شوق انھیں لاہور لایا۔ فوٹو: فائل

لاہور:
شفیع محمد فن اداکاری کے لیجنڈ فنکاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اداکاری کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں نئے آنیوالوں کے لیے نئے راہیں متعین کرگئے ہیں۔

شفیع محمد شاہ پوری زندگی جدوجہد میں گزری اور بہت مشکلات اور مسائل میں گِھرے رہے۔ ابتدائی دنوں میں ہی جب انھوں نے جام شورو یونیورسٹی سے ایم اے کیا، اُن کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی جاب مل جائے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بناسکیں لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔انھی دنوں ایک ہوٹل میں جہاں تمام فنکار اکٹھے ہوتے تھے، سندھی ڈراموں کے ممتاز اداکار انور سولنگی نے شفیع محمد کی آواز سنی تو انھیں ریڈیو پر کام کرنے کی پیشکش کی ،یوں ریڈیو پاکستان حید آباد سے انھوں نے فنی زندگی کا آغاز کیا ۔یہاں ان کی ملاقات اداکار محمد علی سے ہوئی جنہوں نے ان کی بے حد حوصلہ افزائی کی۔

شفیع محمد نے ریڈیو پاکستان سے چند ڈراموں میں صداکاری کی، پھر اچانک لاہور چلے گئے۔ محمد علی، زیبا نے شفیع محمد کے شوق اور لگن کو دیکھتے ہوئے اُن کی مکمل رہنمائی کی اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کیا۔ لاہور میں قیام کے دوران شفیع محمد نے ٹی وی پروڈیوسر شہزاد خلیل کے ڈرامے ''اُڑتا آسمان'' میں ایک کردار کرتے ہوئے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ۔ ڈرامہ سیریل ''تیسرا کنارہ'' کے بعد اشفاق احمد کے کھیل ''ایک محبت سو افسانے'' میں وہ تواتر سے کام کرتے رہے اور اپنی جدوجہد میں کامیابی کی طرف اُن کا سفر شروع ہوا۔




شفیع محمد کو فلموں میں کام کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور یہی شوق انھیں لاہور لایا جہاں انہو ں نے ''تلاش ''، ''شادی مگر آدھی '' سمیت چند ایک فلموں میں کام کیا لیکن وہ مطمئن نہ ہوئے۔ وہ واپس کراچی چلے گئے۔پرائیویٹ سیکٹر میں بننے والی ڈرامہ سیریل ''چاند گرہن'' نے شفیع محمد کو فن کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ایک وڈیرے کا کردار اُن کی پہچان بن گیا۔شفیع محمد شاہ مشکل سے مشکل کردار بھی بہت خوبصورتی سے ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنی صحت پر توجہ نہ دے سکے ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کا موٹاپا زیادہ بڑھ گیا کچھ عرصے تو شفیع محمد نے اس پر عمل کیا، اپنا وزن بھی کم کرنے کی کوشش کی لیکن اُن کی اندرونی کیفیت کا کسی کو اندازہ نہیں تھا لیکن جب علامات ظاہر ہونی شروع ہوئیں تو تشویش ہوئی بلڈ پریشر، شوگر اور چند ماہ قبل جگر کے عارضے کی شکایت نے محتاط کردیا۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر ایک چاق و چوبند شفیع محمد صحت کے معاملے میں کسی اہم مسئلے سے دوچار ہیں لیکن 18 نومبر 2007ء کو اچانک دِل نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا اور اُن کی زندگی کا سفر اختتام پذیر ہوا۔
Load Next Story