معروف نقاد ڈاکٹر فرمان فتح پوری سپرد خاک سوئم آج ہوگا
فرمان صاحب تنقید کا معتبر حوالہ تھے،سحر انصاری،خدمات یاد رکھی جائیں گی،ظفر اقبال
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی نماز جنازہ جامع مسجد خلفائے راشدین گلشن اقبال میں ادا کی جارہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
ممتازمحقق، نقاد اوراسکالر ڈاکٹر فرمان فتح پوری کوآہوں اورسسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔
ڈاکٹرفرمان فتح پوری ہفتہ کے روز خالق حقیقی سے جاملے تھے گزشتہ روز انکی نمازجنازہ جامع مسجد خلفائے راشدین گلشن اقبال میں اداکی گئی، بعدازاں انھیں یونیورسٹی قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا،مرحوم ڈاکٹرفرمان فتح پوری کی نمازجنازہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار،انجینئر ناصر جمال، واسع جلیل، رئوف صدیقی، مزمل قریشی، عدنان احمد،امین الحق،وائس چانسلرکراچی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد قیصر، ضیاالدین میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی،وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال، پروفیسرسحرانصاری، ڈاکٹر نثار ترابی، ڈاکٹررئوف پاریکھ، شاداب احسانی، زیڈ ایچ خرم، توصیف احمد خان ،پروفیسررئیس علوی،اعجازفاروقی،عزیز و اقارب اور دوستوں نے شرکت کی جبکہ مرحوم کی زندگی میں ان سے فیضیاب ہونے والے کئی شعرا،ادیب اوردانشور ان کی نمازجنازہ میں شریک نہ ہوسکے۔
نمازجنازہ کے بعدمتحدہ قومی موومنٹ کے رہنماڈاکٹرفاروق ستارنے مرحوم کی خدمات کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ فرمان فتح پوری دنیائے ادب کا روشن ستارہ تھے انھوں نے اردوکی بے پناہ خدمت کی،تعلیمی میدان میں انکی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، ڈاکٹرپیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ فرمان فتح پوری ہمارے دیرینہ ساتھی تھے وہ بہت نفیس انسان اور اچھے دوست تھے،پروفیسرسحرانصاری کاکہنا تھا کہ فرمان فتح پوری نے بہت سے چراغ روشن کیے ہیں وہ ہرنئے آنے والے کوراستہ فراہم کرتے تھے اور انکی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں کے کام آجائیں فرمان فتح پوری ہمارے ہاں تنقیدکا بڑا معتبرحوالہ تھے وفاقی اردویونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹرظفراقبال کاکہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں فرمان صاحب نے بے پناہ خدمات انجام دیں ان جیسے لوگ صدیوں میں پیداہوتے ہیں ڈاکٹرفرمان فتح پوری نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے کام سے خود کو منوایا ہے،مرحوم کا سوئم آج بعد نمازظہر جامع مسجد خلفائے راشدین گلشن اقبال میں ہوگا۔
ڈاکٹرفرمان فتح پوری ہفتہ کے روز خالق حقیقی سے جاملے تھے گزشتہ روز انکی نمازجنازہ جامع مسجد خلفائے راشدین گلشن اقبال میں اداکی گئی، بعدازاں انھیں یونیورسٹی قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا،مرحوم ڈاکٹرفرمان فتح پوری کی نمازجنازہ میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار،انجینئر ناصر جمال، واسع جلیل، رئوف صدیقی، مزمل قریشی، عدنان احمد،امین الحق،وائس چانسلرکراچی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد قیصر، ضیاالدین میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضاصدیقی،وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر اقبال، پروفیسرسحرانصاری، ڈاکٹر نثار ترابی، ڈاکٹررئوف پاریکھ، شاداب احسانی، زیڈ ایچ خرم، توصیف احمد خان ،پروفیسررئیس علوی،اعجازفاروقی،عزیز و اقارب اور دوستوں نے شرکت کی جبکہ مرحوم کی زندگی میں ان سے فیضیاب ہونے والے کئی شعرا،ادیب اوردانشور ان کی نمازجنازہ میں شریک نہ ہوسکے۔
نمازجنازہ کے بعدمتحدہ قومی موومنٹ کے رہنماڈاکٹرفاروق ستارنے مرحوم کی خدمات کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ فرمان فتح پوری دنیائے ادب کا روشن ستارہ تھے انھوں نے اردوکی بے پناہ خدمت کی،تعلیمی میدان میں انکی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، ڈاکٹرپیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ فرمان فتح پوری ہمارے دیرینہ ساتھی تھے وہ بہت نفیس انسان اور اچھے دوست تھے،پروفیسرسحرانصاری کاکہنا تھا کہ فرمان فتح پوری نے بہت سے چراغ روشن کیے ہیں وہ ہرنئے آنے والے کوراستہ فراہم کرتے تھے اور انکی کوشش ہوتی تھی کہ لوگوں کے کام آجائیں فرمان فتح پوری ہمارے ہاں تنقیدکا بڑا معتبرحوالہ تھے وفاقی اردویونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹرظفراقبال کاکہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں فرمان صاحب نے بے پناہ خدمات انجام دیں ان جیسے لوگ صدیوں میں پیداہوتے ہیں ڈاکٹرفرمان فتح پوری نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے کام سے خود کو منوایا ہے،مرحوم کا سوئم آج بعد نمازظہر جامع مسجد خلفائے راشدین گلشن اقبال میں ہوگا۔