شہر کے مضافاتی علاقوں کی صورتحال پر حکام کی متضاد آرا

بارش 5 انچ سے زیادہ نہیں تھی تاہم نااہلی سے سعدی ٹائون اور صفورا گوٹھ زیر آب آگئے

صفورا گوٹھ کے قریب پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو رسی کی مدد سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی میں سب سے زیادہ بارش شہر کے شمال میں واقع مضافاتی علاقوں میں ہوئی، بارش کی مقدار5 انچ سے زیادہ نہیں تھی تاہم انتظامیہ کی نااہلی وغفلت کے باعث شہر کا نیا رہائشی علاقہ سعدی ٹائون اور صفورا گوٹھ مکمل طور پر زیر آب آگئے جبکہ گڈاپ ٹائون کے زرعی و رہائشی علاقے بھی متاثر ہوئے۔

اس ضمن میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کی مختلف و متضاد آرا سامنے آئی ہیں۔کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے نمائندہ ایکسپریس کو بتایا کہ سعدی ٹائون ودیگر علاقوں میں پانی پہاڑوں سے آنے والے برساتی ریلے اور ٹھڈو ڈیم سے اووفلوہوکر آیا ہے۔ ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے بتایا کہ ملیر ندی میں ظغیانی کا50سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ سکن نالہ،ٹھڈو نالہ اوردیگر نالے جن کا برساتی پانی ملیر ندی میں گرتا ہے، لیول برابر ہوجانے کے باعث اوورفلو ہوگئے اور برساتی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا۔




پی ایچ ای ڈی کے انجینئراکبر بلوچ نے بتایا کہ کیرتھر اور ناردرن بائی پاس کیچمنٹ ایریا کا برساتی پانی جو ملیر ندی میں گرتا ہے، قدرتی نالوں میں تجاوزات کے باعث سعدی ٹائون گڈاپ اور صفورا گوٹھ کے علاقوں میں گھس آیا۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر کیچمنٹ ایریا کے اطراف چھوٹے ڈیم تعمیرکردیے جائیں تو نہ صرف پانی کا ذخیرہ ہوجائیگا بلکہ رہائشی علاقے بھی محفوٖظ ہوجائیں گے۔ بلدیہ شرقی کے میونسپل کمشنر کمال مصطفیٰ نے کہاکہ ٹھڈو ڈیم میں شگاف آجانے کے باعث سعدی ٹائون اور صفورا گوٹھ زیر آب آئے ۔ایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ کونسل مسرور میمن نے بتایا کہ ہفتے کو واٹر بورڈ کی حب کینال میں شگاف سے کروڑوں گیلن پانی بہہ کر ان علاقوں کو زیرآب کرنے کا سبب بنا۔

Recommended Stories

Load Next Story