جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک کی تیاری

یونیورسٹی آف وسکانسن کے ماہرین نے جینیاتی تبدیلی کے ذریعے بیکٹیریا سے ماحول دوست پلاسٹک بنایا ہے

امریکی ماہرین نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا سے حیاتیاتی اور ماحول دوست پلاسٹک تیار کرنے کا اہم کام کیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ یونیورسٹی آف وسکانسن

لاہور:
پوری دنیا میں پلاسٹک کی تباہ کاریوں کا شور ہورہا ہے جس کے بعد ماحول دوست اور ازخود ختم ہونے والے پلاسٹک کی تیاری کی سرتوڑ کوششیں ہورہی ہیں۔

اس ضمن میں ایک خبر امریکا سے آئی ہے جہاں یونیورسٹی آف وسکانسن کے ماہرین نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا بنایا ہے جو لکڑی والے درختوں سے ماحول دوست پلاسٹک تیار کرسکتا ہے۔ ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کھاد میں موجود بیکٹیریا این ایرومیٹی سائی وورن پودے اور درختوں کے ایک جزو 'لائگنِن' کو ہضم کرسکتا ہے۔ لائگنِن سبزپودوں کی خلوی دیوار میں پایا جاتاہے۔


تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بیکٹیریا بہت سے مفید مرکبات (کمپاؤنڈ) بناسکتا ہے۔ مثلاً تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ لائگنِن کو ہضم کرکے ایک طرح کا پیچیدہ کیمیکل بناتا ہے جسے ٹو پائرون فور، سکس ڈائی کاربو آکزیلک ایسڈ یا پی ڈی سی کہتے ہیں۔ اس کے لیے ماہرین کو بیکٹیریا سے تین اہم جین نکالنے پڑے اور اس کے بعد وہ مطلوبہ مرکب تیار کرنے کے قابل ہوگیا۔

اب اس مرکب کا حال بھی سن لیجئے کہ یہ اپنے خواص میں پلاسٹک پالیمر جیسا ہے اور اس سے پلاسٹک کی اشیا بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ پلاسٹک ازخود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ازخود گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

لیکن اس عمل سے حقیقی انداز میں پلاسٹک کا حصول ابھی بہت دور کی بات ہے۔
Load Next Story