بلوچستان میں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج
بارشوں اور برف باری سے جہاں فوائد ہوں گے وہاں فوری طور پر نقصان بھی ہورہا ہے
بارشوں اور برف باری سے جہاں فوائد ہوں گے وہاں فوری طور پر نقصان بھی ہورہا ہے
لاہور:
بلوچستان میں تسلسل سے ہونے والی طوفانی بارشوں اور برف باری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرنقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔بارشوں اور برف باری سے جہاں فوائد ہوں گے وہاں فوری طور پر نقصان بھی ہورہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے مختلف شہروں اور قصبوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکڑوں گاڑیاں اور ان میں موجود ہزاروں مسافر سیلابی ریلوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
باران رحمت برسنے سے حب ڈیم تو بھرگیا ہے اور اس سے کراچی کو ایک سال تک پانی بھی فراہم کیا جاسکے گا لیکن بلوچستان میں ڈیمز نہ ہونے کے باعث یہ سیلابی پانی ذخیرہ نہیں کیا جاسکا ہے ، جس کے باعث آنے والے موسم گرما میں بلوچستان کے باسی ماضی کی طرح ہی پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔ بارشیں اور برفباری تو پانی کے ذخائرکا اہم ترین ذریعہ ہیں لیکن بلوچستان میں سب کچھ الٹ ہے۔ ہمارے نمایندگان کے مطابق کچے مکانات گرنے، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے عوام کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، برفباری سے کئی علاقوں کے زمینی راستے بند ہیں جب کہ ریلوے کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔کوئٹہ سے تفتان جانے والی ٹرین پھنس گئی، نوشکی میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے اور کوئٹہ زاہدان سیکشن ریلوے لائن پانی میں ڈوب گئی جس سے کوئٹہ سے جانیوالی مال گاڑی نوشکی کے قریب پھنس گئی ہے ، ریلوے انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ایکسپریس کے نمایندگان کے مطابق کوئٹہ ، چمن، مستونگ، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ ، بارکھان، خضدار، خانوزئی، برشور، بوستان، ژوب، بولان، سبی، قلات اور شیرانی سمیت مختلف علاقوں میں رات گئے تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش ہوتی رہی جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے ۔
کوئٹہ صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے والے چھوٹے تالاب اور ڈیمز نہ ہونے کے سبب حالیہ بارشوں کا پانی استعمال میں نہیں لایا جاسکا ہے، کوئٹہ سمیت گوادر میں پانی کی کمی کے خطرات پھر بھی موجود رہیں گے ۔ بلوچستان کے عوام کے لیے ایسا ریلیف پیکیج جنگی بنیادوں پر تیارکیا جانا چاہیے جو عوام کے مسائل کو نہ صرف حل کرے بلکہ ان کے مصائب میں کمی کا سبب بھی بنے، بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کیا جائے۔
بلوچستان میں تسلسل سے ہونے والی طوفانی بارشوں اور برف باری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرنقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔بارشوں اور برف باری سے جہاں فوائد ہوں گے وہاں فوری طور پر نقصان بھی ہورہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے مختلف شہروں اور قصبوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکڑوں گاڑیاں اور ان میں موجود ہزاروں مسافر سیلابی ریلوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔
باران رحمت برسنے سے حب ڈیم تو بھرگیا ہے اور اس سے کراچی کو ایک سال تک پانی بھی فراہم کیا جاسکے گا لیکن بلوچستان میں ڈیمز نہ ہونے کے باعث یہ سیلابی پانی ذخیرہ نہیں کیا جاسکا ہے ، جس کے باعث آنے والے موسم گرما میں بلوچستان کے باسی ماضی کی طرح ہی پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔ بارشیں اور برفباری تو پانی کے ذخائرکا اہم ترین ذریعہ ہیں لیکن بلوچستان میں سب کچھ الٹ ہے۔ ہمارے نمایندگان کے مطابق کچے مکانات گرنے، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے عوام کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، برفباری سے کئی علاقوں کے زمینی راستے بند ہیں جب کہ ریلوے کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔کوئٹہ سے تفتان جانے والی ٹرین پھنس گئی، نوشکی میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے اور کوئٹہ زاہدان سیکشن ریلوے لائن پانی میں ڈوب گئی جس سے کوئٹہ سے جانیوالی مال گاڑی نوشکی کے قریب پھنس گئی ہے ، ریلوے انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ایکسپریس کے نمایندگان کے مطابق کوئٹہ ، چمن، مستونگ، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ ، بارکھان، خضدار، خانوزئی، برشور، بوستان، ژوب، بولان، سبی، قلات اور شیرانی سمیت مختلف علاقوں میں رات گئے تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش ہوتی رہی جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے ۔
کوئٹہ صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن زیر زمین پانی کو ری چارج کرنے والے چھوٹے تالاب اور ڈیمز نہ ہونے کے سبب حالیہ بارشوں کا پانی استعمال میں نہیں لایا جاسکا ہے، کوئٹہ سمیت گوادر میں پانی کی کمی کے خطرات پھر بھی موجود رہیں گے ۔ بلوچستان کے عوام کے لیے ایسا ریلیف پیکیج جنگی بنیادوں پر تیارکیا جانا چاہیے جو عوام کے مسائل کو نہ صرف حل کرے بلکہ ان کے مصائب میں کمی کا سبب بھی بنے، بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کیا جائے۔