کراچی مزدوروں کی الم ناک موت
کراچی سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑوں شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرکا سلسلہ انتہائی تیزی سے فروغ پا رہا ہے
کراچی سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑوں شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرکا سلسلہ انتہائی تیزی سے فروغ پا رہا ہے
کراچی میں بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں زیر تعمیر عمارت سے چھ مزدوروں کے گرکر جاں بحق ہونے کے واقعے نے ہر درد مند دل کو دکھی اور ہر آنکھ کو اشک بارکیا ہے۔ کراچی سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑوں شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرکا سلسلہ بلڈنگز لازکو نظر اندازکرتے ہوئے انتہائی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ آئے دن اس طرح کے سانحات تواتر کے ساتھ جنم لے رہے ہیں ۔ شہرکراچی گزشتہ چند برسوں کے دوران کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوگیا ہے۔
انتہائی چھوٹے پلاٹس پرکمرشل کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر نے تمام قوانین کو روند ڈالا ہے، خدانخواستہ زلزلے کے جھٹکے آنے یا زمین دھنسے سے یہ عمارتیں اپنے ناقص میٹریل اورکمزور بنیادوں کی وجہ سے زمین بوس ہوکر بھاری جانی ومالی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں ، گو پولیس نے کمپنی کے ٹھیکیدارکوگرفتار کرلیا ہے جب کہ عمارت کے مالک سمیت پارٹنرزکی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پرچھاپے مارے گئے لیکن کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی، کیونکہ واقعے کے بعد ملزمان گھروں سے فرار ہوچکے ہیں۔ پولیس نے قتل خطا کا مقدمہ درج کیا ہے، ہماری روایتی پولیس ایسے قانونی سقم ایف آئی آر میں چھوڑ دیتی ہے جن کا فائدہ ملزمان کو عدالتی کارروائی کے دوران ملتا ہے اور ملزمان کی ضمانت ہونے کے امکانات واضح موجود ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بندہ مزدور کے حقوق کا تحفظ کوئی ادارہ نہیں کرتا ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مزدوروں نے سیفٹی بیلٹ نہیں پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی ڈولی کے ساتھ کوئی اضافی رسی بندھی ہوئی تھی جسے پکڑکر وہ لٹک جاتے، زیر تعمیر عمارت میں بھی سیفٹی کے کوئی انتظامات نہیں دکھائی دیے، مزدور جس ڈولی پر کھڑے ہوکر شیشے کاٹنے اورلگانے کا کام کر رہے تھے اس کی رسی اور وائرکوپولیس نے قبضے میں لے کرجانچ کے لیے لیبارٹری بھجوایا دیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ رسی اور وائر کتنا وزن اٹھانے کے قابل تھی اور اسے کس چیزسے تیارکیا گیا تھا ۔
تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ کروانے کا مطالبہ کرنیوالے مرحومین کے لواحقین کی داد رسی حکومت سندھ کرنی چاہیے ، کیونکہ بلڈرز کے ساتھ ساتھ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو مالی امداد بھی دینا حکومت پر فرض ہے۔ واقعے کی شفاف اورغیر جانبدرانہ تحقیقات کی جائے اورجوبھی ذمے دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انتہائی چھوٹے پلاٹس پرکمرشل کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر نے تمام قوانین کو روند ڈالا ہے، خدانخواستہ زلزلے کے جھٹکے آنے یا زمین دھنسے سے یہ عمارتیں اپنے ناقص میٹریل اورکمزور بنیادوں کی وجہ سے زمین بوس ہوکر بھاری جانی ومالی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں ، گو پولیس نے کمپنی کے ٹھیکیدارکوگرفتار کرلیا ہے جب کہ عمارت کے مالک سمیت پارٹنرزکی گرفتاری کے لیے ان کے گھروں پرچھاپے مارے گئے لیکن کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی، کیونکہ واقعے کے بعد ملزمان گھروں سے فرار ہوچکے ہیں۔ پولیس نے قتل خطا کا مقدمہ درج کیا ہے، ہماری روایتی پولیس ایسے قانونی سقم ایف آئی آر میں چھوڑ دیتی ہے جن کا فائدہ ملزمان کو عدالتی کارروائی کے دوران ملتا ہے اور ملزمان کی ضمانت ہونے کے امکانات واضح موجود ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بندہ مزدور کے حقوق کا تحفظ کوئی ادارہ نہیں کرتا ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مزدوروں نے سیفٹی بیلٹ نہیں پہنے ہوئے تھے اور نہ ہی ڈولی کے ساتھ کوئی اضافی رسی بندھی ہوئی تھی جسے پکڑکر وہ لٹک جاتے، زیر تعمیر عمارت میں بھی سیفٹی کے کوئی انتظامات نہیں دکھائی دیے، مزدور جس ڈولی پر کھڑے ہوکر شیشے کاٹنے اورلگانے کا کام کر رہے تھے اس کی رسی اور وائرکوپولیس نے قبضے میں لے کرجانچ کے لیے لیبارٹری بھجوایا دیا ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ رسی اور وائر کتنا وزن اٹھانے کے قابل تھی اور اسے کس چیزسے تیارکیا گیا تھا ۔
تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ کروانے کا مطالبہ کرنیوالے مرحومین کے لواحقین کی داد رسی حکومت سندھ کرنی چاہیے ، کیونکہ بلڈرز کے ساتھ ساتھ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو مالی امداد بھی دینا حکومت پر فرض ہے۔ واقعے کی شفاف اورغیر جانبدرانہ تحقیقات کی جائے اورجوبھی ذمے دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔