سینٹرل جیل پر حملے کا خدشہ صورتحال سے نمٹنے کی ریہرسل

رینجرز، ایف سی اور ضلعی پولیس نے حصہ لیا، مسلسل سائرن بجنے سے قیدیوں میں خوف

سینٹرل جیل پر حملے کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور:
سینٹرل جیل حیدرآباد پر دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظرکسی بھی امکانی صورتحال سے نمٹنے کیلیے حفاظتی ریہرسل کی گئی جس میں رینجرز، ایف سی اور ضلعی پولیس نے بھی حصہ لیا۔

ریہرسل کے دوران مسلسل سائرن بجائے جانے سے قیدیوں اور علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ سینٹرل جیل پر حملے کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کردیے گئے ہیں۔ ریہرسل کے بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات عبدالمجید صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت جیل میں 5اہم قیدی ہیں تاہم امریکی صحافی ڈینیل پرل قتل کیس کے2 ملزمان عمرشیخ اور محمد ہاشم کی موجودگی کے باعث سینٹرل جیل پر حملے کا خدشہ ہے، ریہرسل کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں اورکمی کاجائزہ لینا تھا جبکہ ہمیں فوج، رینجرز،ایف سی اور ضلعی پولیس کی مدد بھی حاصل ہے۔




انھوں نے بتایا کہ سینٹرل جیل کی صورتحال بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان جیسی نہیں لیکن اس کے باوجودحملے کے خطرے کے پیش نظر رینجرز، ایف سی اور پولیس کی تین سو اضافی نفری بھی حفاظتی فرائض انجام دے رہی ہے۔ان کاکہنا تھاکہ جیل پولیس کی تربیت دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے نہیں بلکہ قیدیوں کو سنبھالنے کی ہے، اگرباہر سے جیل پر حملہ ہوتوپھر پولیس، رینجرز اور دیگرسرکاری ایجنسیاں مدد کوآتی ہیں ،ہماراکام خطرے سے بروقت آگاہ کرنا اورجیل ٹوٹنے کے بعد قیدیوں کو فرار سے روکنا ہے۔

ان کاکہنا تھاکہ دہشت گرد وقت بتاکر یا پھر ٹیلی فون کرکے نہیں آتے، دہشت گردوں نے جیل پرحملے کی کھلی دھمکی دی ہیجس کے بعد ہم نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سینٹرل جیل میں 5انتہائی اہم قیدیوں میں 3 کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ہے جبکہ 2 ڈینیل پرل کیس کے ملزمان ہیں، جنہیں دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا گیا ہے تاکہ کوئی اور قیدی ان کے نظریات اور خیالات قبول کرکے ان کا ہمنوا نہ بن جائے۔ انھوں نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں واچ ٹاورز کے درمیان خندقیں بھی کھودی گئی ہیں جوکہ حفاظتی پلان کا حصہ ہے۔
Load Next Story