وزیر صحت نے خریدی گئی دواؤں مشینری اور سامان کا ریکارڈ طلب کر لیا
اویس مظفر کی زیرصدارت اجلاس، 10 سال کے دوران کی گئی خریداریوں کے آڈٹ کا حکم، منصوبے کاغذات پر موجود ہیں تعمیرنہ ہوسکے
بیشتر آلات اور مشینری خراب ہے، ڈنگی اور ملیریا کے خاتمے کیلیے اسپرے مہم شروع کی جائے، کوتاہی کے مرتکب افسر ہٹادینگے، وزیر صحت فوٹو: فائل
سندھ کے وزیر صحت اوربلدیات سید اویس مظفر نے محکمہ صحت میں سرجیکل سامان ، ایم آر آئی مشینوں اور ادویات کی خریداری اور دیگرصحت کے مراکزکی تعمیرات میں مبینہ طور پراربوں روپے کی بدعنوانیوں کی اطلاع پر تحقیقات کا حکم دے کر محکمہ سے گزشتہ 10 سال کے دوران خریدی جانے والی بھاری مشینری اورسرجیکل سامان اورادویات کاریکارڈ طلب کرلیا ہے جبکہ ان تمام خریداریوں کا آڈٹ کرانے کا حکم جاری کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان خریداریوں میں بدعنوانیاں ثابت ہونے پرکسی افسرکومعاف نہیں کیاجائے گا۔
وہ پیرکومحکمہ صحت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے اجلاس میں سید اویس مظفرکو بتایا گیا کہ ماضی میں بیشتر منصوبے کاغذات پر موجود ہیں لیکن عملی طور پر تعمیر نہیں کیے جاسکے مختلف اسپتالوں میں بیشترسرجیکل آلات، قیمتی مشینری اور مانیٹرز سمیت دیگر قیمتی سامان خراب پڑا ہے خریداری میں مطلوبہ معیار کا خیال نہیں رکھا گیا جبکہ مختلف شعبوں سے مشینیں موجود ہی نہیں، کئی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوسکے ہیں۔
وزیر صحت نے ان تمام منصوبوں کا کاریکارڈ طلب کرلیا ہے مختلف اسپتالوں کیلیے خریدی گئی مشینری متعلقہ اسپتالوں کو نہیں دی گئی،ادویات کی خریداری صرف کاغذات تک محدود رہی جس کا وزیر صحت سید اویس مظفر نے سخت نوٹس لیا اور اجلاس میں موجود سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر محکمہ صحت میں خریدی جانے والی تمام مشینری اور خریدی جانے والی دواؤں کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ صورتحال واضح ہوسکے۔
اجلاس میں وزیر صحت نے سیکریٹری صحت اور ایڈمنسٹریٹرکے ایم سی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ڈنگی اور ملیریا کے خاتمے کیلیے اسپرے مہم شروع کردی جائے،اسپرے مہم کا میں خود جائزہ لوں گا،کوتاہی کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے گا بلکہ انھیں فارغ کردیا جائے گا۔
وہ پیرکومحکمہ صحت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے اجلاس میں سید اویس مظفرکو بتایا گیا کہ ماضی میں بیشتر منصوبے کاغذات پر موجود ہیں لیکن عملی طور پر تعمیر نہیں کیے جاسکے مختلف اسپتالوں میں بیشترسرجیکل آلات، قیمتی مشینری اور مانیٹرز سمیت دیگر قیمتی سامان خراب پڑا ہے خریداری میں مطلوبہ معیار کا خیال نہیں رکھا گیا جبکہ مختلف شعبوں سے مشینیں موجود ہی نہیں، کئی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوسکے ہیں۔
وزیر صحت نے ان تمام منصوبوں کا کاریکارڈ طلب کرلیا ہے مختلف اسپتالوں کیلیے خریدی گئی مشینری متعلقہ اسپتالوں کو نہیں دی گئی،ادویات کی خریداری صرف کاغذات تک محدود رہی جس کا وزیر صحت سید اویس مظفر نے سخت نوٹس لیا اور اجلاس میں موجود سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ فوری طور پر محکمہ صحت میں خریدی جانے والی تمام مشینری اور خریدی جانے والی دواؤں کا آڈٹ کرایا جائے تاکہ صورتحال واضح ہوسکے۔
اجلاس میں وزیر صحت نے سیکریٹری صحت اور ایڈمنسٹریٹرکے ایم سی کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ڈنگی اور ملیریا کے خاتمے کیلیے اسپرے مہم شروع کردی جائے،اسپرے مہم کا میں خود جائزہ لوں گا،کوتاہی کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے گا بلکہ انھیں فارغ کردیا جائے گا۔