عدالتی حکم عدولی کے ایم سی کے ڈائریکٹر بچت بازار کے وارنٹ گرفتاری جاری

کورنگی نمبر 6 کی مارکیٹ کے قریب لگائے گئے رمضان بچت بازار کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے بند کرنیکا حکم۔۔۔، درخواست گزار

کورنگی نمبر 6 کی مارکیٹ کے قریب لگائے گئے رمضان بچت بازار کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے بند کرنیکا حکم دیا جائے، درخواست گزار

سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود مارکیٹ کے قریب مرکزی سڑک پر رمضان بچت بازار کے انعقاد کو نہیں روکا جاسکا۔

جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو کے ایم سی کے ڈائریکٹر بچت بازار اور بچت بازار کے منتظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے 20 اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ، درخواست گزارشیخ حبیب احمد کے وکیل محمد جمیل نے بینچ کو بتایا کہ عدالت عالیہ کا حکم مدعا علیہان کو پہنچادیا گیا تھا لیکن اسکے باوجود وہ اس پرعملدرآمد نہیں کررہے ہیں جو کہ توہین عدالت کے مترادف ہے اس لیے مدعاعلیہان کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں کارروائی کی جائے۔

پیر کو ایس ایچ او عوامی کالونی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ رمضان بچت بازار کی ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہاں ایک ہزار سے زائد اسٹال ہولڈرز ہیں انھوں نے مزاحمت کی اور امن وامان کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اس لیے بازار نہیں ہٹایا گیا۔


فاضل بینچ نے ان کے موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرانا تمہاری ذمے داری ہے امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینا ایس ایچ او کے دائرہ کار میں نہیں ، عدالت کو بتایا گیا کہ بازار کا آرگنائزر اعتکاف میں بیٹھ گیا ہے اس لیے اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا، انجمن دکانداران مصطفی مارکیٹ کے صدر شیخ حبیب احمد اور دیگر نے ہوم سیکریٹری سندھ، ڈپٹی کمشنر کراچی شرقی، ڈائریکٹر بچت بازار کے ایم سی، انٹر پرائز اینڈ انویسٹمنٹ پروموشن ڈپارٹمنٹ، ایس ایچ او عوامی کالونی پولیس اسٹیشن اور رمضان بچت بازار کے منتظم عبدالرؤف کو فریق بناتے ہوئے محمد جمیل ایڈووکیٹ کے توسط سے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کراچی شرقی اور ڈائریکٹر بچت بازار کے ایم سی نے عبدالرؤف نامی شخص کو بچت بازارلگانے کی اجازت دیدی ہے جوکہ غیر قانونی ہے کیونکہ اس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔



درخواست گزار کے مطابق ہوم سیکریٹری اور ڈپٹی کمشنر نے بچت بازار کا اجازت نامہ جاری کیا جبکہ ڈائریکٹر بازارکے ایم سی نے اس کے لیے این او سی جاری کردیا، تاہم انھوں نے بچت بازارکے انعقاد کے لیے ضروری شرائط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جبکہ درخواست گزار نے اس سلسلے میں مدعا علیہان کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی اور 9جولائی کو اس سلسلے میں ایک خط بھی تحریرکیا، درخواست گزار کے مطابق کسی مرکزی مارکیٹ کے قریب عارضی بچت بازار نہیں لگایا جاسکتا۔

اسکے علاوہ اس بچت بازار کے انعقاد سے ٹریفک کی روانی سمیت متعدد شہری مسائل پیدا ہورہے ہیں ، درخواست گزار کے مطابق اس نے متعدد بار مدعاعلیہان سے اس سلسلے میں شکایت کی کہ بچت بازار کے نام پر انکی دکانوں کے سامنے تجاوزات قائم کرلی گئی ہیں ، انھوں نے جو مہنگی دکانیں خریدی ہوئی ہیں ان کے سامنے عارضی کیبن لگاکر انکے کاروبار کو تباہ کیا جارہا ہے جو کہ آئین کے تحت مساوی مواقع فراہم کرنے کے حق کی خلاف ورزی ہے لیکن مدعا علیہان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ ڈپٹی کمشنر اور ڈائریکٹر بچت بازار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچت بازار کے انعقاد کا اجازت نامہ جاری کرنے سے قبل علاقے کا جائزہ لیں لیکن مدعا علیہان اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہے اس لیے عدالت عالیہ سے استدعا کی جاتی ہے کہ مدعاعلیہان کو انکے فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا جائے اور کورنگی نمبر 6کی مارکیٹ کے قریب منعقد کیے گئے رمضان بچت بازار کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے بند کرنے کا حکم دیاجائے۔
Load Next Story