اسرائیل نے 91 یہودی بستیوں کیلیے ترجیحی فنڈ کی منظوری دیدی
کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزرا کا فیصلے سے اختلاف، 4 ممبران نے ووٹ نہیں ڈالا
کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی وزرا کا فیصلے سے اختلاف، 4 ممبران نے ووٹ نہیں ڈالا۔ فوٹو: اے ایف پی
BAHALWALPUR:
اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں 91 یہودی بستیوں کی تعمیر کو ترجیحی فنڈنگ کی فہرست میں شامل کر دیا۔
کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں نئی بستیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ۔ یہ بستیاں 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے گئے علاقوں میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا۔ ان بستیوں کی تعمیر کے مسئلے پر اسرائیل فلسطین امن مذاکرات 3 برس معطل رہے جو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں سے گزشتہ ماہ دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ نے 600 سے زیادہ قصبوں کی فہرست جاری کی جن کو ترقیاتی کام کے لیے ترجیحی قرار دیا گیا۔
ان علاقوں کو ریاستی رعایت اور مراعات کا ضرورت مند قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل اکثر یہ فہرست جاری کرتا ہے اور ایسے علاقوں کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ تازہ ترین فہرست میں 91 بستیوں کو شامل کیا گیا جبکہ گزشتہ دسمبر میں یہ تعداد 85 تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کے خلاف اسرائیلی کابینہ میں عدم اتفاقِ پیدا ہوا ہے۔ کابینہ کے 4 ممبران نے اس معاملے پر ووٹ نہیں ڈالا۔
مخالفین میں شامل وزیر ماحولیات امیر پریتز کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی چال ہے جو امن کی کوششوں کے خلاف ہے۔ وزیر انصاف اور فلسطینیوں کے ساتھ مرکزی مذاکرات کار نے بھی اس فیصلے کی حمایت میں ووٹ نہیں ڈالا۔
اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں 91 یہودی بستیوں کی تعمیر کو ترجیحی فنڈنگ کی فہرست میں شامل کر دیا۔
کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں نئی بستیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ۔ یہ بستیاں 1967 کی جنگ میں قبضہ کیے گئے علاقوں میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اس بات کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کیا۔ ان بستیوں کی تعمیر کے مسئلے پر اسرائیل فلسطین امن مذاکرات 3 برس معطل رہے جو امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں سے گزشتہ ماہ دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ نے 600 سے زیادہ قصبوں کی فہرست جاری کی جن کو ترقیاتی کام کے لیے ترجیحی قرار دیا گیا۔
ان علاقوں کو ریاستی رعایت اور مراعات کا ضرورت مند قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیل اکثر یہ فہرست جاری کرتا ہے اور ایسے علاقوں کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔ تازہ ترین فہرست میں 91 بستیوں کو شامل کیا گیا جبکہ گزشتہ دسمبر میں یہ تعداد 85 تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس اقدام کے خلاف اسرائیلی کابینہ میں عدم اتفاقِ پیدا ہوا ہے۔ کابینہ کے 4 ممبران نے اس معاملے پر ووٹ نہیں ڈالا۔
مخالفین میں شامل وزیر ماحولیات امیر پریتز کا کہنا ہے کہ یہ ایک سیاسی چال ہے جو امن کی کوششوں کے خلاف ہے۔ وزیر انصاف اور فلسطینیوں کے ساتھ مرکزی مذاکرات کار نے بھی اس فیصلے کی حمایت میں ووٹ نہیں ڈالا۔