پاکستان کی امن کوششیں قابل قدر ہیں جرمنی

عالمی میڈیا کے تبصرے اپنی جگہ لیکن بھارتی سیاسی تاریخ کا یہ الم ناک دورانیہ ہے۔

عالمی میڈیا کے تبصرے اپنی جگہ لیکن بھارتی سیاسی تاریخ کا یہ الم ناک دورانیہ ہے۔ فوٹو: فائل

جرمنی نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور افغانستان میں قیام امن ،دو طرفہ تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون اور سرمایہ کاری میں فروغ پر اتفاق کیاگیا،شاہ محمود قریشی نے اپنے ہم منصب کو پلوامہ واقعے کے بعد ہندوستان کی طرف سے دراندازی اور اس کے نتیجے میں خطے میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

عالمی قوتوں کی طرف سے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کی کلیدی کردار کے حوالہ سے جرمنی کے وزیر خارجہ کے خیالات قابل قدر ہیں۔جرمنی سے زیادہ کسی جنگ کی تباہ کاریوں سے کون واقف ہوگا، جرمنی کی، امن پسندانہ کوششوں پر پاکستان کی توصیف بھارتی حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، خطے میں ہی نہیں پوری دنیا امن،استحکام اور معاشی ترقی وخوشحالی کے لیے یک زبان ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا کہ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ اور خطے کا اہم ملک ہونے کے ناتے افغان امن عمل میں موثر کردار ادا کر رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امن کاوشوں کو جرمنی قدر سے دیکھتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جرمنی یورپین یونین کا انتہائی اہم ملک ہے، ملاقات میں پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی جارحیت اور خطے میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال سمیت باہمی دلچسپی ، سیاحت کے فروغ اور دونوں ممالک کے سیاحوں کے لیے ویزہ سہولت میں آسانی، تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور پاک جرمن اسکولوں کے قیام پراتفاق ہوا،کشمیر میں بھارتی مظالم پر تبادلہ کیاگیا،انھوں نے اے پی ایس میں دہشتگردی کے اندوہناک واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں کے حوالے سے جرمن وزیر خارجہ کو آگاہ کیا، انھوں نے کہا بھارتی جارحیت کے باوجود جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو بھارت کے حوالے کیا۔

بھارت مقبوضہ وادی میں ابتر صورتحال کا ذمے دار جب کہ پاکستان امن و ترقی کا خواہاں ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی ظلم و بربریت کی روک تھام کے لیے عالمی برادری کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں اب مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اپنے ٹوئٹر بیان میں پاکستان کی جانب سے جیش محمد سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔


ادھر سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے منگل کو مستقبل کے امکانات اور علاقائی رابطوں پر ایس سی او عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرتار پور، سمجھوتہ ایکسپریس، ہائی کمشنر کی واپسی ہمارے امن اقدامات کی واضح نشانی ہیں، سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان پی فائیو اور دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا، پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے پر عالمی برادری کے شکر گزار ہیں، تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے، خطے کے امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔

دریں اثناء بھارتی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ صرف مودی ہیں، ہمیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ مودی الیکشن سے پہلے کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں۔

بھارتی مخدوش سیاسی صورتحال کا نقشہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی کھینچا ہے،اخبار کے مطابق بے روزگاری کا عفریت بھارت کو نگلنے لگا ہے اور مودی حکومت نے نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا،جب کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت ایشیا کی تیسری بڑی معیشت لیکن وہاں روزگار کی منڈی میں یہ اعداد و شمار غیر معمولی نہیں ، مودی نے وزیراعظم بننے سے قبل پچھلے الیکشن میں وعدہ کیا تھا کہ ملک میں ہر ماہ 10 لاکھ نئی ملازمتیں آئیں گی۔

مگر یہ وعدہ وفا نہیں ہو پایا۔پریانکا گاندھی نے بھی مودی پر شدید نکتہ چینی کی۔ایک بھارتی اخبار نے حکومت کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 1970ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی بھی اس تباہی کا ذمے دار نریندر مودی کو قراردیتے ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر سنتوش مہروترا نے کہا ہے کہ پاکستان سے چھیڑ چھاڑ مودی سرکار کو مہنگی پڑ گئی۔

عالمی میڈیا کے تبصرے اپنی جگہ لیکن بھارتی سیاسی تاریخ کا یہ الم ناک دورانیہ ہے جس میں بقول نیویارک ٹائمز مودی کے دور حکومت میں بھارتی سوسائٹی مذہبی بنیادوں پر پہلے سے بھی بہت زیادہ تقسیم ہو گئی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مودی کو یہ مجرمانہ افتخار حاصل ہوگیا ہے کہ بھارت کی بدنامی کے چرچے ان کی بدولت عالمی میڈیا میں ہو رہے ہیں۔
Load Next Story