بریگزٹ ڈیڈ لاک تھریسامے پھر ناکام

برطانیہ کے کسی معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے اخراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

برطانیہ کے کسی معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے اخراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ فوٹو: فائل

برطانوی پارلیمان میں یورپی یونین سے اخراج کے معاہدے پر رائے شماری میں حکومت کوایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور بریگزٹ ترمیم شدہ معاہدے کو برطانوی ایوان زیریں نے کثرت رائے سے مستردکردیا ۔اس صورتحال پر یورپی یونین نے کہا ہے کہ برطانیہ کے کسی معاہدے کے بغیر ہی یورپی یونین سے اخراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

برطانیہ کی خاتون وزیراعظم تھریسامے ایسے دوراہے پرکھڑی ہیں جہاں ایک طرف برطانیہ کے مفادات ہیں اور دوسری طرف مضبوط ترین اپوزیشن کے ہوتے انھیں اپنے فیصلے منوانے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ انھیں شدید دھچکا لگا ہے۔

برطانیہ نے 1973میں یورپی یونین میں شمولیت اختیارکی تھی اور41 سال بعد برطانوی عوام نے 2016 میں ہی ایک ریفرنڈم کے ذریعے یہ فیصلہ کیا کہ یورپی یونین میں شمولیت ایک گھاٹے کا سودا تھا، جب یہ طے پاگیا کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونا ہی ہے تو برطانیہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک یہ کہ سافٹ انخلا کرے یعنی جس میں یورپ کے ساتھ کچھ ایسے معاہدے کیے جائیں کہ برطانیہ کا انخلا بھی ہوجائے اور یورپی یونین کی شکل میں تشکیل پانے والی دنیا کی یہ واحد سنگل ٹریڈ مارکیٹ بھی متاثر نہ ہو۔


دوسری صورت میں برطانیہ کوئی خاص معاہدے کیے بغیر ہی یورپی یونین سے نکل جائے ،اس عمل کو اپنانے میں برطانیہ کو واضح نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بریگزٹ کے بعد ہوگا کیا؟ اس کی ہلکی سی جھلک مندرجات میں دیکھی جاسکتی ہے، برطانیہ اگر صرف اپنے دفاع پر توجہ مرکوز رکھے اور یورپ اپنی مشترکہ دفاعی فورس بنائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔اقتصادی طور پر ہر ملک اپنے اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھے گا وہیں سنگل مارکیٹ اور یورپین مشترکہ مارکیٹ کے انہدام کے بعد مواقعے اور مشکلات ایک ساتھ پیدا ہوں گی۔

برطانیہ اور یورپ میں بائیں بازوکی جماعتوں نے امیگریشن کو ایک بوجھ کے طور پر لیا ہے اور جو خدمات تارکین وطن نے یورپ اور لندن کو ملٹی کلچرل اور برداشت پر مبنی معاشرہ بنانے کے لیے دی ہیں وہ یکسر نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔

تارکین وطن کا سوال ہے کہ اگر برطانیہ سفید فام یورپین افراد کے ساتھ نہیں رہ سکتا تو وہ کب تک باقی اکائیوں کوکیسے برداشت کرے گا، بریگزٹ کے اثرات ملکی، بین الاقوامی دنیا پر ہوں گے، جس میں سلامتی کونسل کے اراکین ممالک کا نیا مقام اورکردار وقت متعین کرے گا۔ایک نئی روایت کے جنم لینے سے تاریخ پرکیا اثرات مرتب ہوں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔
Load Next Story