بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگریز

پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی نظام پر بنائی گئی اسپیشل کمیٹی نے بلدیاتی نظام کے مسودے کو حتمی شکل دیدی

اجلاس میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ صوبوں کی جانب سے تاحال کسی ایک مسودے پر قانون سازی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تو صرف ایک ماہ بعد بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ چاروں صوبوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے یکساں قانون سازی مکمل نہ کرنے کے باعث ستمبر میں بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ یہ عذر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے اس حکم پر پیش کیا ہے کہ ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں جو آئین کا منشا ہے، ملک میں آمریت نہیں جمہوریت ہے، قانون سازی کریں، یا آرڈیننس لائیں ، پولنگ ایک ہی روز ہونی چاہیے، فیصلہ پر عمل نہ ہوا تو عدالت اپنا حکم جاری کریگی ،یہ در حقیقت بلدیاتی روڈ میپ کی تیاری کا واضح عدالتی حکم نامہ تھا جس کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب بلدیاتی نظام کے قانون کی منظوری کے آخری مراحل میں ہے، الیکشن کمیشن جب بھی کہے گا حکومت پنجاب پورا تعاون کرے گی، عدالت نے اس طرز عمل کو سراہا،وزیراعظم نواز شریف جدہ روانگی سے قبل نئے بلدیاتی نظام میں عوامی مسائل کا حل تلاش کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسائل گھر کی دہلیز پر حل کرنے کے اقدامات فوری تجویز کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلے یہ موقف اختیار کیا کہ ستمبر میں الیکشن کا انعقاد بہت مشکل ہے،عملی دشواریاں در پیش ہیں تاہم منگل کو صوبائی وزیرڈاکٹر سکندر میندرو کا بیان آیا کہ حکومت سندھ نے لوکل گورنمنٹ بل تیار کرلیا ہے جسے جلد سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردیا جائے گا، ان کا کہنا ہے کہ یہ بل 1960-79 اور2001 سے کہیں بہتر ہے۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ کا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن جلد کرائیں جائیں۔ خیبر پختونخواکی صوبائی انتظامیہ نے اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات کا عندیہ دیا ہے۔ بلوچستان غالباً وہ پہلا صوبہ ہے جس نے 13 مئی2010 کو مقامی حکومت کی بحالی کے نظام کے باب میں قانون سازی کی اور لوکل گورنمنٹ فریم ورک تیار کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اصولی طور پر باقی تمام صوبے بلدیاتی الیکشن کرانے کے ضمن میں قانون سازی کے آخری مراحل میں ہیں تاہم عملی مشکلات کو دور کرنا ان کی ذمے داری ہے۔

بلدیاتی انتخابات کا معاملہ حکمرانوں نے خود بگاڑا ہے اور اس کے عدم انعقاد سے اب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جاگیردارانہ اوروڈیرانہ طرز سیاست اور فیوڈل ذہنیت کے باعث مقامی حکومت کی بحالی کی مزاحمت کی جارہی ہے، جب کہ دیکھا جائے تو مین اسٹریم سیاست کا کافی بوجھ مقامی حکومتوں کے شانوں پر آجاتا ہے اورقومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور سینیٹرز کو قانون سازی کا بہت سا وقت مل جاتا ہے مگر حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ بلدیاتی الیکشن کرانے کا کریڈٹ ہمیشہ آمروں کو جاتا ہے۔ سندھ کے سیاسی کلچر کے تناظر میں بلدیاتی انتخابات کا ایشو اس ستم ظریفانہ فقرہ کا محتاج ہوگیا ہے کہ اس بدنصیب صوبہ اور اس کے بڑے شہر کراچی میں ''لوکل باڈیزاور ڈید باڈیز ہی اصل مسئلہ ہیں۔''


ادھر انتخابی ادارہ نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن کی بار بار کی یاد دہانی کے باوجود چاروں صوبوں نے قانون سازی کا عمل مکمل نہیں کیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا گیا کہ قانون سازی کے عمل میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے، کمیشن کو قانون سازی کے بعد چاروں صوبوں میں انتخابات کی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے تین ماہ درکار ہوں گے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کی صدارت میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران کا اجلاس ہوا جس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے قائم خصوصی سیل کے افسران نے بھی شرکت کی، اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کی جانیوالی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور صوبوں کی جانب سے تاحال بلدیاتی انتخابات کے لیے صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون کے مسودے نہ ملنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

اجلاس میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ صوبوں کی جانب سے تاحال کسی ایک مسودے پر قانون سازی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تو صرف ایک ماہ بعد بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہیں لہٰذا سپریم کورٹ سمیت متعلقہ اداروں کو صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاخیر سے آگاہ کیا جائے گا کہ بلدیاتی انتخابات دسمبر سے پہلے ممکن نہیں ہیں، صوبائی حکومتوں کو پھر ایک حتمی تاریخ دی جائے گی کہ مسودہ قانون دیا جائے جسکے تحت انتخابات کرائے جائیں چاروں صوبائی حکومتوں کے مسودہ قانون کے جائزے کے بعد چاروں صوبائی حکومتوں کو ایک قانون پر متفق کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں ایک اجلاس بھی بلایا جائے گا، صوبائی حکومتیں عید کے فوری بعد بھی قانون سازی کر لیں تو اکتوبر کے آخری ہفتے سے قبل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیںہو گا،علاوہ ازیں کنٹونمنٹ میں قانون سازی کے بعد بلدیاتی انتخابات کے لیے 60 روز درکار ہوں گے۔

پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی نظام پر بنائی گئی اسپیشل کمیٹی نے بلدیاتی نظام کے مسودے کو حتمی شکل دیدی' سٹی اور ویلج کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے اور ان کا انتخاب براہ راست کروانے کی شقیں بھی شامل کر لی گئیں' (ق) لیگ' پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے اسپیشل کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے جب کہ حکومت نے بلدیاتی نظام کی 12اگست کو منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری گورنر پنجاب کو بھجوا دی۔ گزشتہ روز اسپیشل کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس پر (ق) لیگ' پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے مذکورہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ تمام ممبران اسمبلی اپنے حلقوں کو جا چکے ہیں اور حکومت کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ عید کے بعد کمیٹی کا اجلاس ہو گا لیکن حکومت نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی اسلیے ہم اجلاس میں شریک نہیں ہونگے۔

دوسری طرف اسپیشل کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور دیگر ممبران نے شرکت کے بعد بلدیاتی نظام کی تجاویز میں سٹی اور ویلج کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب براہ راست کروانے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہ لانے کی آئینی شق بھی شامل کر لی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12اگست کو بلایا جائے گا جس میں نئے بلدیاتی نظام کی منظوری دی جائے گی۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید' (ق) لیگ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار وقاص موکل اور پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار شہاب الدین نے حکومتی فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اکثریت کے بل بوتے پر پنجاب اسمبلی میں بلدیاتی نظام منظور کروانا چاہتی ہے لیکن ان کا ہر صورت راستہ روکا جائے گا اور اس کے لیے اگر عدالت میں بھی جانا پڑا تو گریز نہیں کیا جائے گا۔یہ ساری صورتحال صوبائی حکومتوں سے اس بات کا سنجیدہ تقاضہ کرتی ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن کے شفاف انعقاد کو یقینی بنائیں ، یہ گراس روٹ سیاست کی بنیادی اینٹ ہے، عوام کو جن روز مرہ مسائل کا سامنا ہے وہ بلدیاتی ہی ہیں، وقت کا تقاضہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ جلد طے کی جائے، روڈ میپ تیار ہو تاکہ تمام صوبے آئین کی بالادستی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس اہم ذمے داری سے عہدہ برآ ہوں ۔
Load Next Story