ایف پی سی سی آئی کا پاک افغان چیمبر پر تحفظات کا اظہار

قومی چیمبرز کے بجائے 3ضلعی چیمبرز اور افغان چیمبر کے درمیان معاہدے سے قائم کیا گیا

زبیر احمد ملک نے اجلاس میں مزید کہا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کی جانب سے برطانوی ہائی کمیشن کی سرپرستی کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی نے پاک افغان مشترکہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حوالے سے قومی چیمبرز کا کردار ہونا چاہیے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان کے مجوزہ دورے کے حوالے سے منعقدہ بین الوزارتی اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک کا کہنا تھا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام پاکستان اور افغانستان کے قومی چیمبرز کے درمیان کسی معاہدے کے نتیجے کے بجائے پاکستان کی تین ضلعی چیمبرز اور افغان چیمبرز آف کامرس کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے۔




زبیر احمد ملک نے اجلاس میں مزید کہا کہ پاک افغان جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کی جانب سے برطانوی ہائی کمیشن کی سرپرستی کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے اور ایسے میں برطانوی ہائی کمیشن یا کسی اور غیر ملکی ادارے یا ایجنسی کی جانب سے پاک افغان جوائنٹ چیمبرز کی مالی امداد یا فنڈنگ بدقسمتی ہوگی۔زبیر احمد ملک نے اجلاس کو بتایا کہ اس قسم کے اقدامات ایف پی سی سی آئی کے زیر سرپرستی ہونے چاہئیں کیونکہ ایف پی سی سی آئی قومی چیمبر کی حیثیت رکھتی ہے ،ملک میں 120سے زائد چیمبرز اور ایسوسی ایشنز موجود ہیں جن کی نمائندگی ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں ہے اور ایف پی سی سی آئی ملک بھر کے تاجروں اور صنعتکاروں کی ایپکس باڈی ہے۔
Load Next Story