گلشن معمار زہریلے کھانے سے ہلاک5بہنوں کی والدہ شامل تفتیش

صفیہ کا کردار مشکوک نظر آرہا ہے ،اس کی حالت بھی زیادہ بہتر نہیں ہے،پولیس، لاشوں کی تدفین نہ ہوسکی

گلشن معمار میں زہریلا کھانا کھانے سے ہلاک ہونے والی 5بہنوں کا گروپ ۔ فوٹو : راحیل سلمان/ ایکسپریس

گلشن معمار میں زہریلا کھانا کھانے کے باعث ہلاک ہونے والی پانچوں بہنوں کی ماں کو پولیس نے شامل تفتیش کرلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ اس کا کردار مشکوک نظر آرہا ہے۔

تاہم ابھی اس کی حالت بھی زیادہ بہتر نہیں ہے ، ہلاک ہونے والی بہنوں کی لاشیں تاحال ایدھی سرد خانے میں رکھی ہوئی ہیں ، تفصیلات کے مطابق پیر کی شب گلشن معمار کے علاقے میں زہریلا کھانا کھانے کے باعث 16 سالہ کرن دختر غلام مرتضیٰ ، 12 سالہ عنبرین ، 8 سالہ سوب ، 18 سالہ ارم اور 22 سالہ پارس ہلاک ہوگئی تھیں جبکہ ان کے والد غلام مرتضیٰ ، اس کی اہلیہ صفیہ ، ایک بیٹی 17 سالہ مہر النسا اور بیٹا 25 سالہ عامر اسپتال میں زیر علاج ہیں ، پولیس کا کہنا ہے کہ بیٹا عامر کلفٹن میں نجی اسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ میاں بیوی جناح اسپتال میں ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ غلام مرتضیٰ کی اہلیہ صفیہ کا کردار مشکوک ہے ، اسے شامل تفتیش کرلیا گیا ہے ،کھانے کے نمونے کیمیکل ایگزمن کیلیے بھیج دیے گئے ہیں رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی بات کہی جاسکے گی ۔




پولیس ذرائع نے بتایا کہ ممکن ہے کہ واقعہ کسی رنجش کا نتیجہ ہو ، پولیس کا کہنا ہے کہ چونکہ ابھی صفیہ زیر علاج ہے ، اس لیے فوری طور پر اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا تاہم اس سے تفتیش جاری ہے ، غلام مرتضیٰ کی حالت تشویشناک ہے اور وہ جناح اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج ہے۔

علاوہ ازیں ہلاک ہونے والی پانچوں بہنوں کی لاشیں سہراب گوٹھ پر واقع ایدھی سرد خانے میں رکھی ہوئی ہیں ، غلام مرتضیٰ کے بھائی غلام نبی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کا آبائی تعلق لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو سے ہے ، ان کی کوئی خاندانی دشمنی یا کسی سے کوئی رقابت نہیں چل رہی ، وہ فوری طور پر واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ کسی نے زہر ملایا یا کیا واقعہ پیش آیا ، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ واقعے سے قبل غلام مرتضیٰ کے گھر کوئی نہیں آیا تھا ، انھوں نے مزید بتایا کہ پانچوں بہنوں کی لاشیں ایدھی سرد خانے میں رکھی ہوئی ہیں ، غلام مرتضیٰ اور اس کی اہلیہ کی حالت کچھ بہتر ہوجائے اس کے بعد ان کی تدفین کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔
Load Next Story