پنجاب اسمبلی اراکین کی تنخواہ مراعات میں اضافہ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے فوری ٹویٹ میں پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے فوری ٹویٹ میں پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا۔ فوٹو: فائل

ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور حکومت کی کفایت شعاری اور سادگی کے سارے دلفریب دعوے فضا میں اس وقت تحلیل ہو گئے جب پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل چوبیس گھنٹے میں منظور کرا لیا جب کہ نو مراعات یافتہ حکومتی حلقوں نے میڈیا میں اٹھنے والے اعتراض کا یہ دلچسپ جواب دیا ہے کہ مہنگائی سے منتخب اراکین اسمبلی کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں، وہ بھی گرانی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم یہ خوش آیند امر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے فوری ٹویٹ میں پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ، انھوں نے کہا کہ خوش حالی ہو تو ایسے فیصلوں کا جواز بنتا ہے۔

وزیراعظم کا ٹویٹ بر وقت ہے لیکن یہ دلگداز حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی حکومتوں نے جاتے جاتے عوام کو ریلیف اور بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا مگر اپنے لیے بے شمار مراعات اور تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کی بہتی گنگا میں ہاتھ خوب دھوئے تھے، ارباب حکومت کو ملکی معیشت اور حساس اقتصادی و مالیاتی صورتحال کا ادراک کرنا چاہیے، وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم دوست ملکوں سے مالی امداد کے لیے کوشاں ہے، اپوزیشن یوں تو اس پر پھبتیاں کستی ہے، حکمرانوں کو کشکول بدست ہونے کا طعنہ دیتی ہے مگر جب مراعات لینے اور تنخواہوں میں اضافہ کا موقع آتا ہے تو سارے اصول بھول جاتی ہے، اس تضاد اور دوعملی پر عوام تڑپ اٹھتے ہیں۔

ماضی میں بھی اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں اور مراعات می اضافہ پر عوام نے حیرت اور ناپسندیدگی ظاہر کی تھی، اس لیے یہ کہنا کہ ایسا ہر دور میں ہوتا آیا ہے ،کون سی نئی بات ہے عوام کے زخمون پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جو مہنگائی کی چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں جب کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اب ملک میں معیشت مستحکم دکھائی دے رہی ہے اور اسی سانس میں کہتے ہیں تاہم مہنگائی مزید بڑھے گی ، اس پر لوگ چیخیں گے کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے، ان کا استدلال معنیٰ خیز لگتا ہے کہ جب معیشت بحال ہورہی ہو تو مہنگائی بڑھتی ہے۔

واضح رہے ''اکنامسٹ''' جریدہ نے 2019ء میں ہوشربا مہنگائی کی پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اختلافات کم ہو چکے ہیں اور قرض کے لیے مذاکرات جاری ہیں، حکومت مانے کہ بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ سے بندہ مزدور کے اوقات بہت تلخ ہو گئے ہیں، چنانچہ کابینہ کی توانائی کمیٹی نے گیس صارفین سے وصول کیے گئے اضافی بل آیندہ بلوں میں ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


دوسری جانب وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد نے بزنس لیڈرز سمٹ کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی معاشی ترقی کے لیے امن ضروری ہے ، دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان نے معاشی ترقی کے مواقعے ضایع کیے ہیں، مسلح افواج نے دہشتگردوں کا صفایا کیا ماضی میں قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا لیکن اب ہو گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ 6.6 فیصد معاشی خسارہ، 10 سال میں قرضہ کے بوجھ کا کئی گنا بڑھنا، بیرونی سرمایہ کاری میں مستقل کمی اور بے روزگاری، 1/3 آبادی کا خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنا یہ وہ تمام چیلنجز ہیں جن کا ہم پچھلے چھ ماہ سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

تفصیل کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ مذکورہ بل کے تحت اراکین اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات83 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر تقریباً2 لاکھ روپے تک کر دی گئیں۔ ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 18 ہزار روپے سے بڑھ کر 80 ، ڈیلی الاؤنس1 ہزار سے بڑھ کر 4ہزار ، ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے بڑھا کر 50ہزار ، یوٹیلیٹی الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار ، مہمانداری کا ماہانہ الاؤنس 10ہزار سے بڑھا کر20 ہزار روپے کر دیا گیا، اراکین اسمبلی کو دوران اجلاس 2 ہزار روپے روزانہ الاؤنس دیا جائے گا ، صوبائی وزراء ماہانہ 2 لاکھ 75 ہزار روپے تنخواہ اور مراعات لیں گے جب کہ ڈپٹی اسپیکر کو اس مد میں تقریبا ً2 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی تنخواہ اور مراعات 59 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر تین لاکھ پچاس ہزار روپے ، مہمان داری الاؤنس میں بیس ہزار روپے سے پچاس ہزار روپے ملیں گے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب حکومت سادگی اور کفایت شعاری کے دعوے کی روشنی میں اپنے فیصلے کے مضمرات کا فوری ادراک کرے۔ بصورت دیگر مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام یہ گلہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز ِچمن کچھ تو ادھر بھی
Load Next Story