جولان کی پہاڑیوں پر امریکی موقف میں تبدیلی
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکا کی پالیسی میں بھی کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے۔
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکا کی پالیسی میں بھی کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے۔ فوٹو: فائل
اسرائیل نے ہاتھ پیر مارتے ہوئے جن نواحی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ان میں شام کی جولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں جنھیں گولان ہائیٹس بھی لکھا جاتا ہے۔ تاہم اب امریکا نے اپنی حالیہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیلی مقبوضہ علاقہ کے بجائے اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقہ کا نام دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ حقوق انسانی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا نے جولان کی پہاڑیوں کے بارے میں اپنے الفاظ میں تبدیلی کر دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکا کی پالیسی میں بھی کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے۔ بہرحال یہ امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔
امریکا شروع ہی سے اس پالیسی پر قائم ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے جب بھی پیش رفت کا ذکر ہو امریکا ہر لحاظ سے اسرائیل کی حمایت کرے گا۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صرف یہودیوں کا ملک ہے، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک ہے۔
نیتن یاہو نے کہا جو عرب باشندے اسرائیل میں مقیم ہیں اسرائیل ان کا ملک نہیں ہے بلکہ صرف یہودی شہریوں کا ملک ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان پر عربوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور مجوزہ عرب اسرائیل انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کر دی ہے۔ اسرائیل کے عرب شہریوں نے ملک کے حکمرانوں سے سوال کیا ہے کہ انھیں یہ بات کون بتائے گا اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک ہے یا نہیں۔ تو اس کے جواب میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ درست ہے اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک نہیں بلکہ صرف یہودیوں کا ملک ہے، عربوں کا ملک نہیں ہے۔یوں دیکھا جائے تو اسرائیل مسلسل جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
بہرحال گولان ہائٹس کے مسئلے پر امریکی وزارت خارجہ کے بیورو آف ڈیمو کریسی' ہیومن رائٹس اینڈ لیبر کے سربراہ مائیکل کوزاک نے وضاحت یوں کی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست کے قانونی جواز کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی مقبوضہ علاقہ بھی انسانی حقوق کی ذمے داری سے مبرا نہیں ہو سکتا اس لیے گولان کی پہاڑیوں کے انسانی حقوق کا معاملہ بھی مدنظر رہنا چاہیے' انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو اسرائیل' گولان ہائیٹس' مغربی کنارے اور غزہ کے مسئلے کے طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح اسرائیل کے لیے مقبوضہ القدس کو دارالحکومت بنانے کی کھل کر حمایت کی اور امریکی سفارتخانہ بھی تل ابیب کے بجائے القدس منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا اب گولان کے مسئلے میں بھی اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ حقوق انسانی کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا نے جولان کی پہاڑیوں کے بارے میں اپنے الفاظ میں تبدیلی کر دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امریکا کی پالیسی میں بھی کسی قسم کی تبدیلی آئی ہے۔ بہرحال یہ امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔
امریکا شروع ہی سے اس پالیسی پر قائم ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے جب بھی پیش رفت کا ذکر ہو امریکا ہر لحاظ سے اسرائیل کی حمایت کرے گا۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل صرف یہودیوں کا ملک ہے، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک ہے۔
نیتن یاہو نے کہا جو عرب باشندے اسرائیل میں مقیم ہیں اسرائیل ان کا ملک نہیں ہے بلکہ صرف یہودی شہریوں کا ملک ہے۔ نیتن یاہو کے اس بیان پر عربوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے اور مجوزہ عرب اسرائیل انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کر دی ہے۔ اسرائیل کے عرب شہریوں نے ملک کے حکمرانوں سے سوال کیا ہے کہ انھیں یہ بات کون بتائے گا اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک ہے یا نہیں۔ تو اس کے جواب میں نیتن یاہو نے کہا کہ یہ درست ہے اسرائیل اپنے تمام شہریوں کا ملک نہیں بلکہ صرف یہودیوں کا ملک ہے، عربوں کا ملک نہیں ہے۔یوں دیکھا جائے تو اسرائیل مسلسل جارحانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
بہرحال گولان ہائٹس کے مسئلے پر امریکی وزارت خارجہ کے بیورو آف ڈیمو کریسی' ہیومن رائٹس اینڈ لیبر کے سربراہ مائیکل کوزاک نے وضاحت یوں کی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست کے قانونی جواز کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کوئی مقبوضہ علاقہ بھی انسانی حقوق کی ذمے داری سے مبرا نہیں ہو سکتا اس لیے گولان کی پہاڑیوں کے انسانی حقوق کا معاملہ بھی مدنظر رہنا چاہیے' انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو اسرائیل' گولان ہائیٹس' مغربی کنارے اور غزہ کے مسئلے کے طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح اسرائیل کے لیے مقبوضہ القدس کو دارالحکومت بنانے کی کھل کر حمایت کی اور امریکی سفارتخانہ بھی تل ابیب کے بجائے القدس منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا اب گولان کے مسئلے میں بھی اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔