بتایا جائے حراستی مراکز کس کے کنٹرول میں ہیں سندھ ہائیکورٹ

عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کیا تو سخت حکم جاری کرسکتے ہیں، لاپتہ افرادکیس میں ریمارکس

سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، ہوم سیکریٹری خیبرپختونخوا ودیگر کو نوٹس، وضاحت طلب۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے آرمی چیف ،سیکریٹری دفاع وداخلہ اوراعلیٰ حکام کوہدایت کی ہے کہ لاپتہ افرادکے مقدمات میں عدالتی حکم پرعملدرآمد کیا جائے ورنہ عدالت سخت حکم بھی جاری کرسکتی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع،سیکریٹری داخلہ،ہوم سیکریٹری خیبر پختونخوااوردیگرکونوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحتی بیان داخل کرنے کی ہدایت کی ہے کہ بتایاجائے کہ یہ حراستی مراکزکس کے کنٹرول میں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ قانون نافذکرنے والے ادارے ایک دوسرے پرذمے داری ڈال کرجان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں، حکام نے عدالت کیلیے بھی تضحیک آمیزرویہ اختیارکیاہے،متاثرہ خاندانوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عدالت نے ڈی جی فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی)اورآئی جی کے پی کے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرطلب کر لیا ہے،چیف جسٹس مشیرعالم اورجسٹس فاروق شاہ پرمشتمل بینچ نے منگل کو متعدد لاپتہ افرادکے اہل خانہ کی جانب سے دائردرخواستوں کی سماعت کی۔عدالت نے آبزرو کیا کہ متعلقہ ادارے ایک دوسرے پرذمے داری ڈال کر جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔

عدالت نے کے پی کے،فاٹااورپاٹامیں قائم حراستی مراکزکے کنٹرول سے متعلق تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی پرمتعلقہ حکام کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کرنے سے گریزنہیںکیاجائیگا۔بینچ نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ ملک بھرکے حراستی مراکزمیں سندھ سے تعلق رکھنے والے افرادکی بازیابی کیلیے اقدامات اور متعلقہ اداروں سے رابطے کے حوالے سے بھی رپورٹ جمع کرائیں،اس ضمن میں ڈپٹی اٹارنی جنرل اورایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تحریری جواب کو یقینی بنائیں بصورت دیگرمتعلقہ حکام کیخلاف کاررروائی کی جائیگی،عدالت کو بتایا گیا کہ وکالت بی بی کابیٹا حمد طاہر کے پی کے حراستی مرکز میں ہے،ہوم ڈپارٹمنٹ سندھ کی ہدایت پر پولیس کی ایک ٹیم سوات میں مٹہ کے علاقے میں واقع حراستی مرکزگئی تھی لیکن وہاں کے منتظمین نے محمد طاہر کو اس کے حوالے کرنے کے بجائے یقین دہانی کرائی کے اس سے ایک دودن میں رہا کردیا جائے گا تاہم اب تک رہا نہیں کیاگیا۔




عدالت نے ہدایت کی کہ رہاہونے والوں کوسندھ حکومت کے ذمے دارافسران کے حوالے کیاجائے تا کہ اہل خانہ تک بحفاظت پہنچانے کیلیے ہرممکن اقدامات کیے جاسکیں،مسمات امینہ بتول کی درخواست کی سماعت کے موقع پرعدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے خاونداجمل وحید14فروری2013کوبحفاظت گھر واپس آگئے ہیں مگران کادیوراسامہ وحیدتاحال لاپتہ ہے۔اس موقع پرعدالت کوبتایاگیاکہ انہیں پاک فوج کے تفتیشی کیمپ (کے پی کے) میں قیدمشتبہ افرادکی فہرست موصول ہوئی ہے جس میں13ویں نمبرپراسامہ وحید کانام بھی درج ہے،مسمات امینہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیارکیاکہ حساس اداروں نے اجمل وحید اور اسامہ وحید کو کراچی ایئرپورٹ سے 12 مارچ 2012 کو گرفتارکرلیا تھا۔

گلفام بی بی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس بیٹا اشفاق احمد 13 اگست 2009 کو اردوبازار گیا تھا واپس نہیں آیا،فضل رحیم نے کہا ہے کہ اس کا بیٹا سجاد رحیم 13 مئی 2011سے لاپتہ ہے، مسمات سمعیہ نے کہاکہ اس کے بیٹے فیض علی کو 7 جنوری2011کو گرفتار کیا گیا،سعید خان نے موقف اختیار کیا کہ اس کے بھائی فیاض خان اوراس کے دوست محمدعمران خان کو 17 اپریل2011کو حراست میں لیا گیا،مسعود حسن نے کہا ہے کہ اس کے بھائی آصف اقبال کو 21جون2011کو حراست میں لیا گیا،محمدزمان نے کہا ہے کہ اس کے عزیزوں محمد سلیمان، پیرزادہ،محمدطاہر،ایازخان،باسن خان، فرحان اللہ اور بسم اللہ خان کو بھی چند ماہ قبل حراست میں لیا گیا مگر رہا نہیں کیا گیا۔
Load Next Story