کراچی اے ٹی ایمز کی بڑی تعداد عید سے قبل ہی غیر موثر
بیشتراے ٹی ایمزپرآئوٹ آف آرڈر،ایشورلنک ڈائون،ہوسٹ ازناٹ پراسیسنگ،آپکی ٹرانزیکشن فی الوقت ممکن نہیں
بیشتراے ٹی ایمزپرآئوٹ آف آرڈر،ایشورلنک ڈائون،ہوسٹ ازناٹ پراسیسنگ،آپکی ٹرانزیکشن فی الوقت ممکن نہیں جیسے پیغامات نظرآتے ہیں ۔ فوٹو: فائل
شہر میں نصب بینکوں کی اے ٹی ایمزکی بڑی تعدادعید کی تعطیلات سے قبل ہی بند ہوگئی ہے جس سے ہزاروں بینک کھاتے داروں کو عیدکی خریداری کے لیے رقوم کی شدید قلت کاسامنا ہے۔
شہر کے مصروف کاروباری علاقوں، تجارتی مراکز اوربازاروں میں نصب 50فیصد سے زائداے ٹی ایمزبند پڑی ہیں۔ اے ٹی ایمزکی بندش سے عیدکی خریداری کرنیوالے شہریوںکو شدیدمشکلات کاسامنا ہے۔ بیشتر اے ٹی ایمزپر آئوٹ آف آرڈرکے نوٹس چسپاں ہیں جبکہ بے شمارمشینوں سے ایشور لنک ڈائون، ہوسٹ ازناٹ پراسیسنگ، آپ کی ٹرانزیکشن فی الوقت ممکن نہیں جیسے پیغامات نشرہورہے ہیں۔ شہریوںکا کہناہے کہ تہواروں پر اے ٹی ایمزکی بندش اورمعذرت کے پیغامات نشرہونا معمول بن چکاہے۔
اے ٹی ایمزکی بندش سے سب سے زیادہ تنخواہ دارطبقہ متاثر ہورہا ہے جن کی تنخواہیں عیدسے چند روزقبل ہی اداکی گئی ہیں۔ تنخواہ دارطبقے میںعید کی خریداری کے لیے تنخواہ کاانتظار کیاجا رہاتھا تاہم تنخواہ آنے کے باوجوداے ٹی ایم نہ چلنے اوربینکوں میںرقوم کی قلت کے سبب چیک کے ذریعے رقوم نکلوانے میںطویل انتظاراور تکالیف کے سبب تنخواہ دارطبقے کے لیے عیدکی خریداری مشکل ہوگئی ہے۔ بینک کھاتے داراپنی ہی رقوم نکلوانے کے لیے دربہ در دھکے کھانے پرمجبور ہیں۔
شہریوں کا کہناہے کہ اے ٹی ایمز کے ذریعے بلاتعطل سروس کی فراہمی یقینی بنانا اسٹیٹ بینک کی ذمے داری ہے تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیے جانے سے اے ٹی ایمزسے متعلق عوامی شکایات میںتیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اے ٹی ایمزکے ذریعے کھاتے داروںکو 24گھنٹے خدمات کی فراہمی یقینی بنانے میںناکام رہاہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہرمیں نصب اے ٹی ایمز کا یہ حال ہے توچھوٹے شہروں میں نصب اے ٹی ایمزکس حال میں ہوں گے۔
اے ٹی ایمزکے علاوہ چیکس کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پررقوم نکلوائی جارہی ہیںجس سے بینکوںمیں نقدرقم کی قلت پیداہوگئی ہے۔ بینکوںکے ابتدائی2سے 3 گھنٹے کے اوقات کارمیں رقم نہ ہونے کے سبب کھاتے داروں کو طویل انتظارکرنا پڑتاہے۔ اس زحمت سے بچنے کیلیے کھاتے داراے ٹی ایم کارخ کرتے ہیں لیکن اے ٹی ایمز سے بھی معذرت کے پیغامات نشرہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ بینکوں کورقوم کی قلت دورکرنے کے لیے مرکزی بینک سے رقم قرض لیناپڑتی ہے جس پراسٹیٹ بینک اپنامارجن وصول کرتا ہے۔
شہر کے مصروف کاروباری علاقوں، تجارتی مراکز اوربازاروں میں نصب 50فیصد سے زائداے ٹی ایمزبند پڑی ہیں۔ اے ٹی ایمزکی بندش سے عیدکی خریداری کرنیوالے شہریوںکو شدیدمشکلات کاسامنا ہے۔ بیشتر اے ٹی ایمزپر آئوٹ آف آرڈرکے نوٹس چسپاں ہیں جبکہ بے شمارمشینوں سے ایشور لنک ڈائون، ہوسٹ ازناٹ پراسیسنگ، آپ کی ٹرانزیکشن فی الوقت ممکن نہیں جیسے پیغامات نشرہورہے ہیں۔ شہریوںکا کہناہے کہ تہواروں پر اے ٹی ایمزکی بندش اورمعذرت کے پیغامات نشرہونا معمول بن چکاہے۔
اے ٹی ایمزکی بندش سے سب سے زیادہ تنخواہ دارطبقہ متاثر ہورہا ہے جن کی تنخواہیں عیدسے چند روزقبل ہی اداکی گئی ہیں۔ تنخواہ دارطبقے میںعید کی خریداری کے لیے تنخواہ کاانتظار کیاجا رہاتھا تاہم تنخواہ آنے کے باوجوداے ٹی ایم نہ چلنے اوربینکوں میںرقوم کی قلت کے سبب چیک کے ذریعے رقوم نکلوانے میںطویل انتظاراور تکالیف کے سبب تنخواہ دارطبقے کے لیے عیدکی خریداری مشکل ہوگئی ہے۔ بینک کھاتے داراپنی ہی رقوم نکلوانے کے لیے دربہ در دھکے کھانے پرمجبور ہیں۔
شہریوں کا کہناہے کہ اے ٹی ایمز کے ذریعے بلاتعطل سروس کی فراہمی یقینی بنانا اسٹیٹ بینک کی ذمے داری ہے تاہم اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیے جانے سے اے ٹی ایمزسے متعلق عوامی شکایات میںتیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اے ٹی ایمزکے ذریعے کھاتے داروںکو 24گھنٹے خدمات کی فراہمی یقینی بنانے میںناکام رہاہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہرمیں نصب اے ٹی ایمز کا یہ حال ہے توچھوٹے شہروں میں نصب اے ٹی ایمزکس حال میں ہوں گے۔
اے ٹی ایمزکے علاوہ چیکس کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پررقوم نکلوائی جارہی ہیںجس سے بینکوںمیں نقدرقم کی قلت پیداہوگئی ہے۔ بینکوںکے ابتدائی2سے 3 گھنٹے کے اوقات کارمیں رقم نہ ہونے کے سبب کھاتے داروں کو طویل انتظارکرنا پڑتاہے۔ اس زحمت سے بچنے کیلیے کھاتے داراے ٹی ایم کارخ کرتے ہیں لیکن اے ٹی ایمز سے بھی معذرت کے پیغامات نشرہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ بینکوں کورقوم کی قلت دورکرنے کے لیے مرکزی بینک سے رقم قرض لیناپڑتی ہے جس پراسٹیٹ بینک اپنامارجن وصول کرتا ہے۔