فائنل کے موقع پرسخت ترین سیکیورٹی انتظامات

اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے کم از کم چار مرتبہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا

اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے کم از کم چار مرتبہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا

پی ایس ایل فور فائنل کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے، اہم شخصیات کی آمد کے سبب دیگر میچز کی بانسبت سیکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا۔

ٹکٹ رکھنے والے افراد کے سوا کسی کو اطراف کے علاقوں میں داخلے کی اجازت نہ تھی جبکہ اسٹیڈیم میں آنے کیلیے قومی شناختی کارڈ دکھانا لازمی تھا، اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے کم از کم چار مرتبہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا،پولس اور رینجرز کی بھاری نفری کے ساتھ فوج کا اسپیشل یونٹ بھی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹیڈیم میں تعینات تھا، قریب واجوار کی بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز مستعد تھے، کنٹرول روم میں عملہ انتہا چوکس حالت میں خفیہ کیمروں کی مدد سے ہر آنے جانے والے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔


فضا میں ہیلی کاپٹر مسلسل چکر لگاتا رہا، اسٹیڈیم کے باہر ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں موجود تھیں، فائنل کے آغاز سے تین گھنٹے قبل ہی اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھر چکا تھا، چیئرمین اور وی آئی پی باکسز میں غیرمتعلقہ افراد کی بھرمار کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگئی اور ان کو باہر نکال دیا گیا، تماشائیوں کی جانب سے موبائل ٹیلی فون کی ٹارچ اجتماعی طور پر روشن کرنے کا نظارہ قابل دید رہا۔

فائنل دیکھنے کے لیے آنے والوں میں چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، گورنر سندھ عمران اسماعیل،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال،وفاقی وزرا اسد عمر اورشیخ رشید، رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ، خیبر پختونخواکے وزرا عاطف خان اور شوکت یوسف زئی،ایم کیوایم کے ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان، صوبائی وزرا، کمشنرکراچی وسیم اختر،کمشنر کراچی افتخار شلہوانی اور آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
Load Next Story