کتب کی عدم دستیابی طلبا نے عوامی لائبریریوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا
کے ایم سی کے تحت شہرمیں40 سے زائد پبلک لائبریریاں قائم ہیں ،بیشترلائبریریوںمیں اہم اخبارات ورسائل بند کردیے گئے
انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے اور نوجوانوں میں مطالعے کی عادت ختم ہونے سے بھی کتب خانے ویران ہوئے،بزرگ شہری
شہر میں کئی دہائیوں تک علم اور شعور کے فروغ میں روشنی کا مینار بنی رہنے والی کتب خانے میں ویرانی نے ڈیرے ڈال لیے جدید علوم کے بارے میں کتابوں کے فقدان، فرنیچرکی حالت زار، نصاب سے متعلق معاون اورتحقیقی کتب کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ نے پبلک لائبریریوںکا رخ کرنا چھوڑدیا، اخبارات و رسائل اور جرائد کی فراہمی بند ہونے سے مطالعے کے شوقین بڑی عمر کے افراد بھی لائبریریوں سے دور ہوگئے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت کراچی کے مختلف علاقوں میں 40سے زائد پبلک لائبریریاں قائم ہیں جن میں سے زیادہ تر لائبریریاں شہر کے وسطی علاقوں میں قائم ہیں جہاں برصغیر سے ہجرت کرکے آنے والی علم دوست شخصیات، شعرااور ادیبوں نے سکونت اختیار کی اور یہ لائبرریاں کئی دہائیوں تک علم کی پاس بجھانے کا ذریعہ بنی رہیں تاہم کے ایم سی کے پاس فنڈز کی قلت کی وجہ سے اب یہ لائبریریاں ویران پڑی ہیں، کتابوں اور تاریخی جرائد کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے، بیشتر لائبریریاں محل وقوع کے لحاظ سے بہترین مقامات پر رہائشی علاقوں کے عین درمیان میں واقع ہیں جن میں کئی ایک سے زائد منازل پر مشتمل ہیں ان لائبریریوں میں بچوں اور خواتین کے لیے بھی الگ الگ ہالز موجود ہیں تاہم بچوں کے لیے کتب اور رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔
متعدد لائبرریوں میں ڈیجیٹل لائبریری اور انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے آئی ٹی روم بھی موجود ہیں تاہم کمپیوٹر نہیں ہیں اوران میں تالے پڑے ہیں، ناظم آباد ایک نمبر چاؤلہ مارکیٹ اور ناظم آباد نمبر چار کی لائبریری میں موجود طلبہ نے بتایا کہ وہ امتحان کی تیاری اور گروپ کی شکل میں پڑھائی کے لیے دن کے اوقات میں لائبریری آتے ہیں لیکن اپنی کتابیں ساتھ لانا پڑتی ہیں ،لائبریری میں موجود ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پیشتر عوامی کتب خانے سماجی رابطوں کا موثر ذریعہ تھے علاقہ مکین بالخصوص بزرگ شہری اپنے فارغ اوقات میں لائبریری میں جمع ہوتے اور اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرتے تھے تاہم اب لائبریریوں میں اہم اخبارات اور رسائل بند کردیے گئے ہیں ،لائبریرین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ نے اخبارات اور رسائل فراہم کرنا بند کردیے ہیں۔
لائبریرین کے محدود تعداد میں ماہانہ ڈائجسٹ اور ایک ہفتہ وار میگزین مہیا کیا جاتا ہے جو علاقے کی کچھ خواتین مطالعہ کے لیے لے جاتی ہیں،نارتھ ناظم آباد میں واقع تیموریہ لائبریری ان چند لائبریریوں میں سے ایک ہے جہاں فرنیچر اورکتابیں اچھی حالت میں ہیں تاہم یہاں بھی جدید علوم سے متعلق نئی کتب کا فقدان تیموریہ لائبریری میں پرانے اخبارات کا ریکارڈ اچھی حالت میں موجود ہے اور اخباری مواد پر تحقیق کرنے والے طلبہ اکثر اس لائبریری کا رخ کرتے ہیں اطراف میں واقع کالج کے طلبہ یہاں بیٹھ کر اپنے اسائنمنٹ مکمل کرتے ہیں اوپری منزل پر خواتین کا سیکشن ہے تیموریہ لائبریری میں موجود طلبہ اور شہریوں نے کہا کہ شہر کے عوامی کتب خانوں کی از سر نو بحالی کی اشد ضرورت ہے ان کتب خانوں میں بیشتر نایاب کتابیں بھی موجود ہیں جنھیں اسکین کرکے ڈیجیٹل لائبریری کی شکل میں باہم مربوط کیا جاسکتا ہے۔
کتب خانوں سے رشتہ برقرار رکھنے والے بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے اور نوجوانوں میں مطالعے کی عادت ختم ہونے سے کتب خانے ویران ہوگئے ہیں ،نوجوانوں کا کتب خانوں سے رشتہ جوڑنے کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت جدت اختیار کرنا ہوگی کتب خانوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں کو کتب خانوں کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے کتب خانوں پرسرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت کراچی کے مختلف علاقوں میں 40سے زائد پبلک لائبریریاں قائم ہیں جن میں سے زیادہ تر لائبریریاں شہر کے وسطی علاقوں میں قائم ہیں جہاں برصغیر سے ہجرت کرکے آنے والی علم دوست شخصیات، شعرااور ادیبوں نے سکونت اختیار کی اور یہ لائبرریاں کئی دہائیوں تک علم کی پاس بجھانے کا ذریعہ بنی رہیں تاہم کے ایم سی کے پاس فنڈز کی قلت کی وجہ سے اب یہ لائبریریاں ویران پڑی ہیں، کتابوں اور تاریخی جرائد کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے، بیشتر لائبریریاں محل وقوع کے لحاظ سے بہترین مقامات پر رہائشی علاقوں کے عین درمیان میں واقع ہیں جن میں کئی ایک سے زائد منازل پر مشتمل ہیں ان لائبریریوں میں بچوں اور خواتین کے لیے بھی الگ الگ ہالز موجود ہیں تاہم بچوں کے لیے کتب اور رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔
متعدد لائبرریوں میں ڈیجیٹل لائبریری اور انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے آئی ٹی روم بھی موجود ہیں تاہم کمپیوٹر نہیں ہیں اوران میں تالے پڑے ہیں، ناظم آباد ایک نمبر چاؤلہ مارکیٹ اور ناظم آباد نمبر چار کی لائبریری میں موجود طلبہ نے بتایا کہ وہ امتحان کی تیاری اور گروپ کی شکل میں پڑھائی کے لیے دن کے اوقات میں لائبریری آتے ہیں لیکن اپنی کتابیں ساتھ لانا پڑتی ہیں ،لائبریری میں موجود ایک بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پیشتر عوامی کتب خانے سماجی رابطوں کا موثر ذریعہ تھے علاقہ مکین بالخصوص بزرگ شہری اپنے فارغ اوقات میں لائبریری میں جمع ہوتے اور اخبارات اور رسائل کا مطالعہ کرتے تھے تاہم اب لائبریریوں میں اہم اخبارات اور رسائل بند کردیے گئے ہیں ،لائبریرین کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ نے اخبارات اور رسائل فراہم کرنا بند کردیے ہیں۔
لائبریرین کے محدود تعداد میں ماہانہ ڈائجسٹ اور ایک ہفتہ وار میگزین مہیا کیا جاتا ہے جو علاقے کی کچھ خواتین مطالعہ کے لیے لے جاتی ہیں،نارتھ ناظم آباد میں واقع تیموریہ لائبریری ان چند لائبریریوں میں سے ایک ہے جہاں فرنیچر اورکتابیں اچھی حالت میں ہیں تاہم یہاں بھی جدید علوم سے متعلق نئی کتب کا فقدان تیموریہ لائبریری میں پرانے اخبارات کا ریکارڈ اچھی حالت میں موجود ہے اور اخباری مواد پر تحقیق کرنے والے طلبہ اکثر اس لائبریری کا رخ کرتے ہیں اطراف میں واقع کالج کے طلبہ یہاں بیٹھ کر اپنے اسائنمنٹ مکمل کرتے ہیں اوپری منزل پر خواتین کا سیکشن ہے تیموریہ لائبریری میں موجود طلبہ اور شہریوں نے کہا کہ شہر کے عوامی کتب خانوں کی از سر نو بحالی کی اشد ضرورت ہے ان کتب خانوں میں بیشتر نایاب کتابیں بھی موجود ہیں جنھیں اسکین کرکے ڈیجیٹل لائبریری کی شکل میں باہم مربوط کیا جاسکتا ہے۔
کتب خانوں سے رشتہ برقرار رکھنے والے بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے اور نوجوانوں میں مطالعے کی عادت ختم ہونے سے کتب خانے ویران ہوگئے ہیں ،نوجوانوں کا کتب خانوں سے رشتہ جوڑنے کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت جدت اختیار کرنا ہوگی کتب خانوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں کو کتب خانوں کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے کتب خانوں پرسرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔