افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر پاکستان کی تشویش بے بنیاد نہیں جیمز ڈوبنز
افغانستان کے ساتھ بھارت کے معاشی اور تہذیبی رشتے کو دیکھتے ہوئے وہاں سفارت خانوں کا کھلنا غلط نہیں لگتا،امریکی ایلچی
افغان شدت پسندوںکا آزادی کیساتھ پاکستان میںرہنا تشویشناک ہے،طالبان کیساتھ مذاکرات3 ماہ میںشروع ہ جائینگے،امریکی ایلچی فوٹو: فائل
پاکستان اور افغانستان کیلیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیمز ڈوبنز نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر اپنی تشویش کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے لیکن یہ مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے سرحدی شہروں قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانی سفارخانوں کی موجودگی پر کئی بار سوال اٹھایا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ان سفارتخانوں کا استعمال اس کے صوبہ بلوچستان اور دوسرے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کیلیے کیا جا رہا ہے تاہم بھارت اس الزام کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب کسی امریکی اہلکار نے ریکارڈ پر جا کر بھارت کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ جیمز ڈوبنز نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان سے بھاری تعداد میں شدت پسند افغانستان میں دراندازی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ان کے مخالف کچھ شدت پسند دوسری طرف سے بھی پاکستان میں گھستے ہیں تو پاکستان کی تشویش بے بنیاد نہیں ہے لیکن ہماری نظروں میں اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔
ڈوبنز کا کہنا تھا کہ قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانیوں کی ایک قلیل تعداد موجود ہے اور افغانستان کے ساتھ بھارت کے معاشی اور تہذیبی رشتے کو دیکھتے ہوئے وہاں سفارت خانوں کا کھلنا غلط نہیں لگتا۔ بھارت نے افغانستان کی ترقی کے لیے2 ارب ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ یہ سفارتخانے بھی انھی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلیے بنے ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے معاملے پر انھوں نے کہا ہے کہ اگر کابل چاہے تبھی امریکا وہاں سے پوری فوج ہٹائے گا۔ افغانستان کو نیٹو فوج کی ضرورت ہے، افغانستان ان کی موجودگی چاہتا ہے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری فوج وہاں رہے گی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اگلے تین مہینوں میں شروع ہو جائیں گے۔
پاکستان نے افغانستان کے سرحدی شہروں قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانی سفارخانوں کی موجودگی پر کئی بار سوال اٹھایا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ ان سفارتخانوں کا استعمال اس کے صوبہ بلوچستان اور دوسرے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کیلیے کیا جا رہا ہے تاہم بھارت اس الزام کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب کسی امریکی اہلکار نے ریکارڈ پر جا کر بھارت کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ جیمز ڈوبنز نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان سے بھاری تعداد میں شدت پسند افغانستان میں دراندازی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ان کے مخالف کچھ شدت پسند دوسری طرف سے بھی پاکستان میں گھستے ہیں تو پاکستان کی تشویش بے بنیاد نہیں ہے لیکن ہماری نظروں میں اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔
ڈوبنز کا کہنا تھا کہ قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانیوں کی ایک قلیل تعداد موجود ہے اور افغانستان کے ساتھ بھارت کے معاشی اور تہذیبی رشتے کو دیکھتے ہوئے وہاں سفارت خانوں کا کھلنا غلط نہیں لگتا۔ بھارت نے افغانستان کی ترقی کے لیے2 ارب ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کی ہے۔ یہ سفارتخانے بھی انھی منصوبوں کو مکمل کرنے کیلیے بنے ہیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے معاملے پر انھوں نے کہا ہے کہ اگر کابل چاہے تبھی امریکا وہاں سے پوری فوج ہٹائے گا۔ افغانستان کو نیٹو فوج کی ضرورت ہے، افغانستان ان کی موجودگی چاہتا ہے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری فوج وہاں رہے گی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اگلے تین مہینوں میں شروع ہو جائیں گے۔