پولیس پر ترس نہیں کھانا چاہیے ہم تنخواہ لیتے ہیں انسپکٹر حاکم
ملک وقوم کا تحفظ ہمارا فرض، اسلام آباد میں حفاظتی انتظامات ضروری ہیں، ’’کل تک‘‘ میں گفتگو
ملک وقوم کا تحفظ ہمارا فرض، اسلام آباد میں حفاظتی انتظامات ضروری ہیں، ’’کل تک‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
ایس ایچ او تھانہ کوہسار انسپکٹر حاکم نے کہا ہے کہ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے اور یہاں پر سخت حفاظتی انتظامات کرنا بہت ضروری ہیں، پولیس پر ترس نہیں کھانا چاہئے ہم ملک وقوم کے تحفظ کیلیے تنخواہیں لیتے ہیں اور اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔
ایکسپریس نیو زکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انہوں نے کہا شکر ہے کہ مجھ سے زندگی میں پہلی بار کسی نے پوچھا کہ پولیس اہلکار رمضان میں کس طرح ڈیوٹی کرتے ہیں اور کس طرح سحری وافطار کرتے ہیں، اسلام آباد میں ڈیوٹی کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن ہم نے ہمیشہ اپنے فرض کی تکمیل کو مقدم سمجھا ہے، کئی بار پولیس اہلکار گومگو کی کیفیت میں رہتے ہیں کہ جس گاڑی کو چیک کرنے لگا ہے کہیں اس میں سے کوئی وی آئی پی برا نہ منا جائے لیکن عوام کے تحفظ اور امن وامان کو قائم رکھنے کیلیے ہم اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتتے۔
میریٹ کا واقعہ افطار کے وقت ہوا تھا اسوقت سے حکمت عملی یہ ہے کہ سحر اور افطار کے موقع پر پولیس ری لیکس نہیں ہو گی بلکہ پہلے سے زیادہ ایکٹو ہو گی اور سب اہلکار اپنی جگہ پر ہی روزہ افطار کرینگے۔ ٹریفک کو کنٹرول کرتے اہلکاروں کو سخت گرمی اور دھوپ میں ڈیوٹی انجام دینا پڑتی ہے۔
ایکسپریس نیو زکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انہوں نے کہا شکر ہے کہ مجھ سے زندگی میں پہلی بار کسی نے پوچھا کہ پولیس اہلکار رمضان میں کس طرح ڈیوٹی کرتے ہیں اور کس طرح سحری وافطار کرتے ہیں، اسلام آباد میں ڈیوٹی کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن ہم نے ہمیشہ اپنے فرض کی تکمیل کو مقدم سمجھا ہے، کئی بار پولیس اہلکار گومگو کی کیفیت میں رہتے ہیں کہ جس گاڑی کو چیک کرنے لگا ہے کہیں اس میں سے کوئی وی آئی پی برا نہ منا جائے لیکن عوام کے تحفظ اور امن وامان کو قائم رکھنے کیلیے ہم اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتتے۔
میریٹ کا واقعہ افطار کے وقت ہوا تھا اسوقت سے حکمت عملی یہ ہے کہ سحر اور افطار کے موقع پر پولیس ری لیکس نہیں ہو گی بلکہ پہلے سے زیادہ ایکٹو ہو گی اور سب اہلکار اپنی جگہ پر ہی روزہ افطار کرینگے۔ ٹریفک کو کنٹرول کرتے اہلکاروں کو سخت گرمی اور دھوپ میں ڈیوٹی انجام دینا پڑتی ہے۔