کرتارپور راہداری خیر سگالی کا صائب سفر

کرتارپور راہداری امن کے سفر کا دلنشین استعارہ ہے، اسے بھی گیم چینجر کی حیثیت ہونی چاہیے۔

کرتارپور راہداری امن کے سفر کا دلنشین استعارہ ہے، اسے بھی گیم چینجر کی حیثیت ہونی چاہیے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
کرتار پور راہداری کے حوالے سے پاک، بھارت تکنیکی ماہرین کا اجلاس کرتار پور زیرو لائن پر ہوا جس میں دونوں ملکوں کے ماہرین نے ایک دوسرے کے ساتھ راہداری سے متعلق تکنیکی معلومات شیئر کیں۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے انجینئرز اور سروے ڈیپارٹمنٹ کے نمایندے شریک ہوئے۔

اجلاس میں بھارتی سکھ یاتریوں کے پاکستان داخل ہونے کے پوائنٹ، مسافر ٹرمینل، بس پارکنگ ایریا، کسٹم، امیگریشن ایریا اور دیگر امور پر بات چیت ہوئی، اس اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ 14 مارچ کو اٹاری بارڈر پر ہونے والے پاک بھارت حکام کے اجلاس میں کیا گیا تھا، اگلا اجلاس 2اپریل کو لاہورکے واہگہ بارڈر پر ہو گا۔

کرتارپور راہداری کو پاک بھارت تعلقات کی برف کو پگھلانے میں اس لیے سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی کہ دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں نے شدید کشیدگی اور حالت جنگ میں ہونے کے باوجود اس منصوبہ پر رویہ نرم رکھا اور پاکستان سے تعاون کی پیشکش پر بھارت نے منصوبہ کی تکمیل کی طرف قدم بڑھائے ، خطے میں امن کے لیے دوطرفہ خیر سگالی کی ضرورت ہے اسی لیے مبصرین کی اس رائے میں وزن ہے کہ نیت صاف ہو تو ہر مسئلہ کا حل بات چیت سے نکالا جاسکتا ہے۔

بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت دیگر ایشوز کے حل کے لیے بھی جنگی طرز فکر سے ہٹ کر مکالمہ کی میز کی طرف آنا ہوگا، راہداری منصوبہ نے اس مقصد کے لیے راہ کی ہمواری کا تاریخی کردار ادا کیا ہے اور غیر معمولی اور حیران کن اتفاق رائے، مفاہمت اور فرقہ وارانہ و مذہبی خیرسگالی کے جذبہ کے تحت دونوں ملکوں نے راہداری کے جزوی خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے ۔

منصوبہ کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت منگل کو کرتارپور راہداری سے متعلق ایک اجلاس بھی ہوا جس میں وزیرخزانہ، وزیراطلاعات، وزیر مذہبی امور اور وزیر مواصلات نے شرکت کی۔ ترجمان دفترخارجہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔


اجلاس میں وزیراعظم کو کرتارپور راہداری کے مجوزہ منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کرتارپور راہداری منصوبے کے لیے مجموعی طورپر1500ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے، راہداری کے لیے پاکستانی حدود میں 6.8 کلومیٹر سڑک اور دریائے راوی پر 800 میٹر طویل پْل تعمیر کیا جائے گا۔ اجلاس میں بھارتی پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے خط کا بھی جائزہ لیا گیا، خط میں سدھو نے حکومت پاکستان سے بابا گْرو نانک کے زیر استعمال زمین پر تعمیرات نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

اجلاس میں اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے بابا گرونانک کے زیر استعمال 30 ایکڑ زمین پر تعمیرات نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے، امید ہے یہ منصوبہ جلد مکمل ہوجائے گا۔ ملک میں سیاحت خاص طور پر مذہبی سیاحت کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئی ملک اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو پس پشت ڈال کر ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے نہ خطوں میں رہنے والے افراد کے لیے خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے ، پاکستان میں مسلمانوں کے علاوہ بسنے والی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو ، سکھ، بدھ ، پارسی ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہماری شناخت ہیں کیونکہ اس خطے میں ثقافتی تنوع کے باعث خو شحالی ہے ، صوفی ازم ہماری روایات ، عادات اور اعتقاد سے جڑا ہوا ہے ، کرتار پور راہداری کھلنے سے سکھوں سے مذہبی رواداری مزید مستحکم ہو گی۔ وزیر اعظم کے سکھ برادری کے لیے کرتار پور راہداری کھولنے کے فیصلے سے دونوں ممالک اور خطے میں کشیدگی کم ہوگی۔

ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مہر گڑھ ، ہڑپہ ، مو ئن جو دڑو اور ٹیکسلا جیسی قدیم تہذیبوں کا گہوارہ ہے ، جب کہ یہاں دیگر مذاہب کے مقدس مقامات بشمول کٹاس راج ، ننکانہ صاحب ، تخت بھائی سمیت دیگر موجود ہیں، یہ خطہ صوفی شعرا کا مسکن رہا ہے جن کے باعث یہاں کی ثقافت میں تنوع ہے اور جسے محفوظ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

بلاشبہ کرتارپور راہداری امن کے سفر کا دلنشین استعارہ ہے، اسے بھی گیم چینجر کی حیثیت ہونی چاہیے، سکھ برادری کے اس مقدس مقام اور بستی کو بابا گورونانک نے 1521 میں بسایا تھا۔اب اس منصوبہ کی جلد تکمیل ہونی چاہیے تاکہ بھارت بھی اپنے حصے کا کام جلد شروع کرے اور پروجیکٹ کے تمام تکنیکی تقاضے کشادہ دلی کے ساتھ مکمل ہوں تاکہ خطے کا جنگی ماحول بھی بدلے اور امن، خیرسگالی اور افہام وتفہیم کا پیغام لائے ۔
Load Next Story