پلاسٹک مصنوعات جانوروں کی ہلاکت خیزی کا ایک سبب

پلاسٹک کی بے شمار مصنوعات خصوصاً پلاسٹک کے شاپر بیگز نے ہماری زندگیوں میں بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔

پلاسٹک کی بے شمار مصنوعات خصوصاً پلاسٹک کے شاپر بیگز نے ہماری زندگیوں میں بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ فوٹو: فائل

پلاسٹک اور پلاسٹک مصنوعات نے جہاں انسانی زندگی کے لیے آسانیاں پیدا کر دیں وہاں پلاسٹک کی یہ خاصیت ہے کہ یہ پانی میں حل ہوتا ہے اور نہ ہی زمین کی مٹی میں جذب ہوتا ہے جس کی بنا پر یہ میٹریل ماحولیاتی آلودگی میں بہت زیادہ منفی کردار ادا کرتا ہے۔ بلاشبہ پلاسٹک کی بے شمار مصنوعات خصوصاً پلاسٹک کے شاپر بیگز نے ہماری زندگیوں میں بہت سی آسانیاں پیدا کر دی ہیں تاہم ان کا ذکر وقتی طور پر ایک طرف رکھ دیں تاکہ اس تخلیق کے منفی پہلوؤں پر غور کیا جا سکے۔

پلاسٹک شاپر بیگز کے ان منفی پہلوؤں کا کئی ترقی یافتہ ممالک نے ادراک کر لیا ہے اور اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے عوام کو پلاسٹک شاپر بیگز کے منفی اثرات پر آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے اور عوام پر زور دیا جا رہا ہے کہ پلاسٹک بیگز کے منفی اثرات سے بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں۔ ایک خبر شایع ہوئی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سمندری مچھلی یعنی وہیل مچھلی کو فلپائن کے شہر دائیوو سٹی میں ساحل سمندر پر جانکنی کے عالم میں تڑپتے ہوئے دیکھا گیا۔

ایک چھوٹے موٹے بحری جہاز کے حجم کی اس مچھلی کے پیٹ میں پلاسٹک موجود تھا جسے یہ دیوہیکل مچھلی ہضم نہیں کر پائی اور وہی اس کے تڑپنے کی اصل وجہ تھی ۔ تجربہ کار ماہرین نے اس وہیل مچھلی کے معدے سے جو پلاسٹک کا ملبہ نکالا اس کا وزن 40کلو گرام سے زائد تھا۔ یہ مواد اگر پلاسٹک کے بجائے کاغذ یا کپڑے پر مشتمل ہوتا تو یقینی طور پر وہیل مچھلی اسے ہضم کر جاتی لیکن پلاسٹک کی نہ گھلنے والی خصوصیت اسے جنگلی اور آبی حیات کے لیے ہلاکت خیز بنا دیتی ہے۔


اب اس قسم کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ مغربی سائنسدان پلاسٹک کے شاپرز میں کوئی ایسا مرکب شامل کرنے کے تجربات کر رہے ہیں جن کی وجہ سے شاپر بیگز پانی وغیرہ میں حل ہو سکیں۔ یہ وہیل مچھلی عمر کے اعتبار سے جوان سال کہی جا سکتی ہے۔

جب تک پلاسٹک اس کے جسم کے اندر سے نکال کر اس کی اذیت دور کرنے کی کوشش کی گئی اس وقت تک وہ ہلاک ہو چکی تھی اور یہ ہلاکت یقیناً شدید ترین اذیت کے بعد وقوع پذیر ہوئی ۔کچھ حادثات گلیوں بازاروں میں چلنے پھرنے والے بعض جانوروں میں بھی نظر آتے ہیں جب کوئی بلی یا کتا شاپر کے اندر بند چھیچھڑوں وغیرہ کو شاپر سمیت نگل لیتا ہے اور بعد میں الٹیاں کرتا دیکھا جا سکتا ہے۔

عام طور پر ان کا فطری نظام اس چھوٹی موٹی چیز کی ازخود اصلاح کر لیتا ہے لیکن اگر معاملہ چالیس کلو گرام والا بن جائے تب ان جانوروں کی جان پر بن جاتی ہے اور وہ کسی کونے کھدرے میں گھس کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ان تمام واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں شاپر بیگز کی ہلاکت خیزی کا احساس رکھنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی اشیا شاپر بیگ کے بجائے کپڑے یا کاغذ کے لفافے میں لی جانی چاہیے۔
Load Next Story