تھرکول سے بجلی کی پیداوار

تھرکول سے ہی ملک میں خوشحالی آئے گی صنعت وحرفت کو فروغ حاصل ہوگا اور عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی۔

تھرکول سے ہی ملک میں خوشحالی آئے گی صنعت وحرفت کو فروغ حاصل ہوگا اور عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی۔ فوٹو: انٹرنیٹ

تھرکول سے بجلی کی پیداوار کا آغاز اور ابتدائی طور پر 330 میگا واٹ پاور پلانٹ سے نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی جاری ہونا ، دو دہائیوں سے توانائی کے بحران کا شکار ملک میں یہ خبر تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔

مبارک باد کے مستحق ہیں ہمارے سائنسدان اور اس منصوبے پر کام کرنیوالے ادارے کے جملہ اراکین جنھوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔ وطن عزیزکے باسیوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب نے ادھ موا کردیا ہے۔ ہم مہنگی ترین بجلی غیرملکی کمپنیوں کے ذریعے پیدا کررہے ہیں اور بھاری بلوں کا بوجھ بھی عوام پر ہی پڑتا ہے۔


رب کائنات نے پاکستان کو قدرتی خزانوں سے وافر نوازا ہے۔ یہی دیکھ لیجیے کہ تھر کے 21 ہزارمربع کلومیٹر رقبے میں سے9300 مربع کلومیٹر اراضی میں کوئلہ موجود ہے۔ یہاں پایا جانے والا175ارب ٹن کوئلہ دنیا کا چوتھا بڑا ذخیرہ ہے۔ صرف بلاک ٹو میں کوئلے کی مقدار 2 ارب ٹن ہے، تھرکول کے اس یونٹ کے فعال ہونے سے ایک ارب 60 کروڑ ڈالرکے غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود تھرکے کوئلے سے بجلی کی پیداوار حکومتِ سندھ کا کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

تھرکول منصوبے کا آغاز 2011ء میں سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ہوا اور توقع ظاہرکی جا رہی ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد 2020ء تک دو ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔

تھرکول سے ہی ملک میں خوشحالی آئے گی صنعت وحرفت کو فروغ حاصل ہوگا اور عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ سے نجات ملے گی۔ بلاشبہ ایک حسین خواب کی تکمیل پر وطن عزیزکا ہر فرد فرحاں وشاداں ہے۔ یہ منصوبہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے لیے ترقی وخوشحالی کے در وا کرے گا۔
Load Next Story