کراچی پولیس اہلکاروں کا اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کا انکشاف
ایک مغوی کوتاوان لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ دوسرے کو گڈاپ تھانے کے باہر تاوان وصولی کے بعد بھی مقدمے میں پھنسا دیا۔
ایک مغوی کوتاوان لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ دوسرے کو گڈاپ تھانے کے باہر تاوان وصولی کے بعد بھی مقدمے میں پھنسا دیا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
کراچی پولیس کے اہلکاروں کا اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ستائیس فروری کو ناظم آباد اور گلشن اقبال سے دو شہریوں عدنان اور سیف الدین کو اغوا کیا گیا، اہل خانہ کی جانب سے اعلیٰ حکام کو دی گئی درخواست کے مطابق پولیس کی موبائل میں سوار افراد انھیں لے گئے۔ اغوا کے چند روز بعد عدنان نامی شہری کو چار لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
عدنان کے اہل خانہ نے بتایا کہ عدنان ناظم آباد میں کیبل آپریٹر ہے اور اغوا کے بعد کے حالات سے اس نے اہل خانہ کوآگاہ نہیں کیا ہے۔
کراچی پولیس کے اہلکاروں کا اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ستائیس فروری کو ناظم آباد اور گلشن اقبال سے دو شہریوں عدنان اور سیف الدین کو اغوا کیا گیا، اہل خانہ کی جانب سے اعلیٰ حکام کو دی گئی درخواست کے مطابق پولیس کی موبائل میں سوار افراد انھیں لے گئے۔ اغوا کے چند روز بعد عدنان نامی شہری کو چار لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
عدنان کے اہل خانہ نے بتایا کہ عدنان ناظم آباد میں کیبل آپریٹر ہے اور اغوا کے بعد کے حالات سے اس نے اہل خانہ کوآگاہ نہیں کیا ہے۔