کرپشن کیس آئی سی سی کا عدم تعاون پاکستانی ہاتھ پاؤں بندھ گئے

اے سی ایس یو کی کارروائی پر تبصرہ نہیں کرتے،تفصیلات طلب کرنے پر ٹکا سا جواب۔

تصدیق یا تردید نہ ہونے کے سبب پی سی بی اخبار کو قانونی نوٹس بھی نہیں بھیج سکا۔ فوٹو: فائل

کرپشن کیس میں آئی سی سی کے عدم تعاون نے پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، برطانوی اخبار کی رپورٹ پر تفصیلات طلب کرنے پر ٹکا سا جواب دے دیا گیا۔

تحقیقات کی تصدیق یا تردید نہ ہونے کے سبب پی سی بی اخبار کو قانونی نوٹس بھی نہیں بھیج سکا، کونسل ہر بار اینٹی کرپشن یونٹ کی خفیہ کارروائی کا جواز بنا کر خاموشی اختیار کر لیتی ہے، معاملہ اجلاس میں بھی اٹھایا گیا تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ میں الزام لگایاگیا کہ پاک ویسٹ انڈیز سیریز کے بعض میچز فکسڈ تھے، خصوصاً ٹائی مقابلے پر زیادہ شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ اس کی تحقیقات کر رہا ہے، ذرائع کے مطابق جب پی سی بی نے اس حوالے سے کونسل سے رابطہ کیا تو اس نے تصدیق یا تردید دونوں سے انکار کر دیا، حکام کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے معاملات پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔




پی سی بی کے بعض آفیشلز کی رائے تھی کہ برطانوی اخبار کو قانونی نوٹس بھیجا جائے تاہم آئی سی سی کا جواب نہ ملنے پر بورڈ چپ ہو کر بیٹھ گیا، اسے خدشہ تھا کہ بعد میں کوئی نئی بات سامنے آ گئی تو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،اسی طرح بورڈ الزام کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کے سبب تحقیقات بھی نہ کر سکا، ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے ماضی میں بھی ایسے کیسز میں عدم تعاون کیا، ایک بار میٹنگ میں جب بات اٹھائی گئی تو اینٹی کرپشن آفیسرز کا سیمینار کرانے کی بات کہی گئی مگر اس میں بھی معلومات کا کوئی تبادلہ نہ ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے سی ایس یو کے آفیشلز براہ راست چیف ایگزیکٹیو کو رپورٹ کرتے ہیں، کونسل کے کئی دیگر آفیشلز کو بھی ان کی کارروائی کی ہوا تک نہیں لگتی، رازداری برتنے کی وجہ سے ہی بورڈز کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا، البتہ پختہ ثبوت ہونے پر کارروائی کا حکم دیا جاتا ہے، جیسا کہ بنگلہ دیش میں بی پی ایل کرپشن کیس کی کئی ماہ تک تحقیقات چلیں اور تاحال رپورٹ سے آگاہ نہیں کیا گیا، البتہ محمد اشرفل نے خود میڈیا کے سامنے روتے ہوئے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا۔
Load Next Story