فروٹ ایکسپورٹرز اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اشتراک عمل پر متفق
فیصل آباد ایگریکلچر یونیورسٹی مسائل کے حل کیلیے اپنی تحقیق، مہارت اور رہنمائی سے انڈسٹری کو مستفید کریگی
فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی پی ایچ ڈی کی تعلیم کا خرچ برداشت اورتحقیق کیلیے گرانٹ فراہم کرے گی فوٹو : ایکسپریس/فائل
فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی اور پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے درمیان اشتراک اور تعاون کیلیے مفاہمت کی یادداشت طے پاگئی ہے۔
جس کے مطابق فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی پاکستانی ہارٹی کلچر انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے اپنی تحقیق، مہارت اور رہنمائی سے انڈسٹری کو مستفید کریگی جبکہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی پی ایچ ڈی کی تعلیم کا خرچ برداشت کرتے ہوئے انڈسٹری کے مسائل کے لیے کی جانے والی خصوصی تحقیق کے لیے گرانٹ فراہم کرے گی۔ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت فیصل آباد میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پائی۔ ملاقات میں ڈاکٹر ایم اسلم پرویز، ڈاکٹر امان اﷲ ملک، ڈاکٹر شہباز طالب شاہ، ڈاکٹر عتیق، ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈاکٹر احمد ستار خان، ڈاکٹر سہیل احمد، ڈاکٹر احمد ظہیر، ڈاکٹر ایم جعفر جسقمی اور ڈاکٹر آصف علی سمیت پی ایف وی اے کے سیکریٹری جنرل محمد الیاس خان نے بھی شرکت کی۔ پی ایف وی اے کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت ملک کی اہم زرعی جامعات کے ساتھ اشتراک اور تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ہونے والی ملاقات میں دونوں اداروں کے مابین اشتراک عمل کے ذریعے انڈسٹری کو درپیش مسائل سے نجات دلانے برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے قومی حکمت عملی کی تیاری میں معاونت اور زرعی شعبے میں فیصل آباد یونیورسٹی کی تحقیق اور تجربے سے انڈسٹری کو مستفید کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے موقع پر فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ہارٹی کلچر سیکٹر کے لیے وحید احمد کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ویژن کو سراہتے ہوئے اسے درست سمت میں بروقت قدم قرار دیا انہوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی برآمدات میں اضافے کے لیے قلیل وسط اور طویل مدتی روڈ میپ کی تشکیل میں پی ایف وی اے کے معاونت کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی خطے کی اہم زرعی یونیورسٹی ہے جس میں 45مختلف ڈپارٹمنٹس ہیں جبکہ فیکلٹی میں 400پی ایچ ڈیز شامل ہیں، یونیورسٹی کی اہمیت کے پیش نظر سالانہ 2ارب روپے یونیورسٹی کی تحقیقاتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔ فیصل آباد یونیورسٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اور مشترکہ منصوبوں تحقیقی پراجیکٹس کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں میں پائی جانے والی مکھی ''فروٹ فلائی'' انڈسٹری کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
فیصل آباد یونیورسٹی تحقیق کے ذریعے اس مسئلے کا حل فراہم کرے گی اور انڈسٹری کی سپورٹ کے ساتھ آم کے آئندہ سیزن تک اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد یونیورسٹی ایکسپورٹرز کے لیے پوسٹ ہارویسٹ پروٹوکول تیار کرے گی، اسی طرح کینو کے سیزن کو 8ماہ تک بڑھانے کے لیے بھی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے مابین موثر کمیونی کیشن کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے انڈسٹری کو آگاہ رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایکسپورٹ پالیسی کی تیاری میں پلاننگ کمیشن کو بھی شامل رکھا جائے گا۔ اس موقع پر فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے اساتذہ اور تحقیق کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھلوں کا معیار بہتر کرنے کے لیے فارم کی سطح پر کام کرنا ہوگا اس مقصد کے لیے کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
آم، کینو، آلو اور پیاز کے لیے پراڈکٹ گروپ تشکیل دے کر کاشتکاروں، ایکسپورٹرز اور اتھارٹی کی مشاورت سے پوسٹ اور پری ہارویسٹ پروٹوکول تیار کرنا ہوں گے، پی ایف وی ای کی سپورٹ کے ذریعے کاشتکاروں میں گڈ ایگری کلچر پریکٹسس کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایکسپورٹ گروپ تشکیل دینا ہوں گے یہ گروپ فیلڈ میں جاکر کاشتکاروں کو جدید زرعی طور طریقوں سے روشناس کریں گے، زرعی یونیورسٹی ایکسپورٹرز کی تربیت کے لیے بھی ورکشاپ منعقد کریگی۔ یونیورسٹی میں پہلے ہی ترش پھلوں اور آم پر کافی تحقیق کی جاچکی ہے جو پی ایف وی اے کی مشاورت سے آگے بڑھائی جائیگی، ایف وی اے 20فیصد گرانٹ کے ذریعے انڈسٹری کے لیے تحقیقی پراجیکٹس کرواسکتی ہے 80فیصد اخراجات ہائر ایجوکیشن کمیشن فراہم کرے گا۔
اس موقع پرپی ایف وی اے کے چیئرمین وحید احمد نے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے، یونیورسٹی کے طلبہ کو انڈسٹری میں انٹرن شپ فراہم کرنے اور فارغ التحصیل طلبہ کو ملازمت فراہم کرنے میں معاونت کی یقین دہانی کروائی۔ وحید احمد نے اپنی پریزنٹیشن کے دوران انڈسٹری کو درپیش بنیادی مسائل پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایکسپورٹ باسکٹ آم کینو آلو پیاز تک محدود ہے، پاکستانی پھل صرف سستے ہونے کی وجہ سے خریدے جاتے ہیں، پاکستان اب تک بیج کے بغیر کینو تیار نہ ہوسکا، آم کا ذائقہ اور معیار پست ہورہا ہے، فروٹ فلائی کا مسئلہ شدت اختیار کررہا ہے، اس کے برعکس بھارت اور چین میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے فی ایکٹر پیداوار، سیزن اور ورائٹی کو بڑھایا جاچکا ہے اور یہ دونوں ممالک اپنی کثیر آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ پھلوں کی ایکسپورٹ سے بھرپور زرمبادلہ بھی کمارہے ہیں، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کی وجہ سے پاکستان کو مستقبل قریب میں اپنی ضرورت کے پھل بھی درآمد کرنا پڑسکتے ہیں۔
جس کے مطابق فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی پاکستانی ہارٹی کلچر انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے اپنی تحقیق، مہارت اور رہنمائی سے انڈسٹری کو مستفید کریگی جبکہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی پی ایچ ڈی کی تعلیم کا خرچ برداشت کرتے ہوئے انڈسٹری کے مسائل کے لیے کی جانے والی خصوصی تحقیق کے لیے گرانٹ فراہم کرے گی۔ دونوں اداروں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت فیصل آباد میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پائی۔ ملاقات میں ڈاکٹر ایم اسلم پرویز، ڈاکٹر امان اﷲ ملک، ڈاکٹر شہباز طالب شاہ، ڈاکٹر عتیق، ڈاکٹر عبدالرحمٰن، ڈاکٹر احمد ستار خان، ڈاکٹر سہیل احمد، ڈاکٹر احمد ظہیر، ڈاکٹر ایم جعفر جسقمی اور ڈاکٹر آصف علی سمیت پی ایف وی اے کے سیکریٹری جنرل محمد الیاس خان نے بھی شرکت کی۔ پی ایف وی اے کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت ملک کی اہم زرعی جامعات کے ساتھ اشتراک اور تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ہونے والی ملاقات میں دونوں اداروں کے مابین اشتراک عمل کے ذریعے انڈسٹری کو درپیش مسائل سے نجات دلانے برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے قومی حکمت عملی کی تیاری میں معاونت اور زرعی شعبے میں فیصل آباد یونیورسٹی کی تحقیق اور تجربے سے انڈسٹری کو مستفید کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے موقع پر فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ہارٹی کلچر سیکٹر کے لیے وحید احمد کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ویژن کو سراہتے ہوئے اسے درست سمت میں بروقت قدم قرار دیا انہوں نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی برآمدات میں اضافے کے لیے قلیل وسط اور طویل مدتی روڈ میپ کی تشکیل میں پی ایف وی اے کے معاونت کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی خطے کی اہم زرعی یونیورسٹی ہے جس میں 45مختلف ڈپارٹمنٹس ہیں جبکہ فیکلٹی میں 400پی ایچ ڈیز شامل ہیں، یونیورسٹی کی اہمیت کے پیش نظر سالانہ 2ارب روپے یونیورسٹی کی تحقیقاتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں۔ فیصل آباد یونیورسٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور انڈسٹری کی ترقی کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اور مشترکہ منصوبوں تحقیقی پراجیکٹس کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں میں پائی جانے والی مکھی ''فروٹ فلائی'' انڈسٹری کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
فیصل آباد یونیورسٹی تحقیق کے ذریعے اس مسئلے کا حل فراہم کرے گی اور انڈسٹری کی سپورٹ کے ساتھ آم کے آئندہ سیزن تک اس مسئلے کا حل تلاش کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد یونیورسٹی ایکسپورٹرز کے لیے پوسٹ ہارویسٹ پروٹوکول تیار کرے گی، اسی طرح کینو کے سیزن کو 8ماہ تک بڑھانے کے لیے بھی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے انڈسٹری اور یونیورسٹی کے مابین موثر کمیونی کیشن کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زرعی شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے انڈسٹری کو آگاہ رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لیے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایکسپورٹ پالیسی کی تیاری میں پلاننگ کمیشن کو بھی شامل رکھا جائے گا۔ اس موقع پر فیصل آباد ایگری کلچر یونیورسٹی کے اساتذہ اور تحقیق کاروں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھلوں کا معیار بہتر کرنے کے لیے فارم کی سطح پر کام کرنا ہوگا اس مقصد کے لیے کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
آم، کینو، آلو اور پیاز کے لیے پراڈکٹ گروپ تشکیل دے کر کاشتکاروں، ایکسپورٹرز اور اتھارٹی کی مشاورت سے پوسٹ اور پری ہارویسٹ پروٹوکول تیار کرنا ہوں گے، پی ایف وی ای کی سپورٹ کے ذریعے کاشتکاروں میں گڈ ایگری کلچر پریکٹسس کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایکسپورٹ گروپ تشکیل دینا ہوں گے یہ گروپ فیلڈ میں جاکر کاشتکاروں کو جدید زرعی طور طریقوں سے روشناس کریں گے، زرعی یونیورسٹی ایکسپورٹرز کی تربیت کے لیے بھی ورکشاپ منعقد کریگی۔ یونیورسٹی میں پہلے ہی ترش پھلوں اور آم پر کافی تحقیق کی جاچکی ہے جو پی ایف وی اے کی مشاورت سے آگے بڑھائی جائیگی، ایف وی اے 20فیصد گرانٹ کے ذریعے انڈسٹری کے لیے تحقیقی پراجیکٹس کرواسکتی ہے 80فیصد اخراجات ہائر ایجوکیشن کمیشن فراہم کرے گا۔
اس موقع پرپی ایف وی اے کے چیئرمین وحید احمد نے یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے، یونیورسٹی کے طلبہ کو انڈسٹری میں انٹرن شپ فراہم کرنے اور فارغ التحصیل طلبہ کو ملازمت فراہم کرنے میں معاونت کی یقین دہانی کروائی۔ وحید احمد نے اپنی پریزنٹیشن کے دوران انڈسٹری کو درپیش بنیادی مسائل پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایکسپورٹ باسکٹ آم کینو آلو پیاز تک محدود ہے، پاکستانی پھل صرف سستے ہونے کی وجہ سے خریدے جاتے ہیں، پاکستان اب تک بیج کے بغیر کینو تیار نہ ہوسکا، آم کا ذائقہ اور معیار پست ہورہا ہے، فروٹ فلائی کا مسئلہ شدت اختیار کررہا ہے، اس کے برعکس بھارت اور چین میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے فی ایکٹر پیداوار، سیزن اور ورائٹی کو بڑھایا جاچکا ہے اور یہ دونوں ممالک اپنی کثیر آبادی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ پھلوں کی ایکسپورٹ سے بھرپور زرمبادلہ بھی کمارہے ہیں، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کی وجہ سے پاکستان کو مستقبل قریب میں اپنی ضرورت کے پھل بھی درآمد کرنا پڑسکتے ہیں۔